خیبرپی کے حکومت کو کونسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں؟

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب تو ہوگئی ہے لیکن اس حکومت کو چلانا کسی چیلنج سے کم نہیں جس کی بڑی وجہ خالی خزانہ، امن و امان کی ناقص صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا کی حکومت اگر لوگوں کو ریلیف فراہم نہ کر سکی تو اس سے پی ٹی آئی کی صوبے میں مقبولیت متاثر ہوگی۔موجودہ حالات میں اس وقت زیادہ مشکل صورتحال خیبر پختونخوا حکومت کو درپیش ہے۔ اس حوالے سے پانچ ایسے چیلنجز ہیں جن کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے اور اس کے لیے مرکزی حکومت کا تعاون چاہئے ہوگا۔انتخابات سے پہلے نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ وہ صوبے کے خزانے میں ایک سو ارب روپے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ دس سال میں 359 ارب روپے کا قرضہ لیا اور تقریباً 600 ارب روپے کے معاہدے کیے تھے لیکن وہ قرضہ ملا نہیں۔ خیبرپختونخوا کے اپنے وسائل سے آمدن 70 ارب روپے کے لگ بھگ ہے اور نو منتخب مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ صوبے کے کل وسائل کا آٹھ فیصد ہی بنتا ہے جو بہت کم ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وفاق کے ذمہ 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم اے جی این قاضی فارمولے کے تحت ہے جس پر وفاق میں رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ ملازمین کی تنخواہیں، صحت انصاف کارڈ کی مد میں واجب الادا رقم اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے جیسے وعدوں کی تکمیل کے فنڈز درکار ہوں گے۔یونیورسٹیوں کو مالی بحران سے نکالنے کے علاوہ روزگار فراہم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔سینیئر صحافی علی اکبر کا کہنا ہے کہ معاشی مسائل کے حل کے لیے سب سے بڑا چیلنج تو قرضوں کی واپسی ہے کیونکہ اس وقت صوبے پر جو قرضہ ہے اس کی واپسی کیسے ممکن ہو سکے گی اور اس کے لیے موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وفاق سے رابطہ کیا جائے گا۔سینیئر صحافی عرفان خان کے مطابق صوبائی حکومت کو تین بڑے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ ’ان میں امن و امان کی صورتحال، معاشی حالات اور گورننس ہیں، جس طرف حکومت کو توجہ دینی ہوگی۔ خیبر پختونخوا میں تشدد کے واقعات آئے روز پیش آ رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر حملے پولیس اہلکاروں پر کیے جا رہے ہیں۔اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے اسسٹسنٹ پروفیسر ڈاکٹر حامد اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخوا حکومت کو معاشی اعتبار سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ان میں ایک بڑا مسئلہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کا نفاذ اہمیت کا حامل ہے۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا فلیگ شپ پروگرام صحت انصاف کارڈ رہا ہے اور اس سے بڑی تعداد میں لوگ مستفید ہوئے ہیں۔وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے حلف لینے کے بعد صحت انصاف کارڈ کی بحالی کا اعلان کیا اور یکم رمضان سے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، محمکہ صحت خیبرپختونخوا کی تحقیقاتی کمیٹی نے گزشتہ سال صحت انصاف کارڈ کے تحت ایک ہی بیماری کے سال میں ریکارڈ 773 آپریشنز کی جامع تحقیقات کی سفارش کی تھی۔‏صحت انصاف کارڈ کے انچارج ریاض تنولی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چند خدمات صرف سرکاری ہسپتالوں تک محدود کی گئی ہیں جس کے عوض اب تک چھ سو ملین سے زائد کی بچت ہو چکی ہے۔ان خدمات میں زچگی کے دوران آپریشن، ٹانسلز و اپنڈیکس کے آپریشن، انجیو گرافی و دیگر خدمات شامل ہیں۔ صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ جب اتنے وسیع سطح پر کوئی منصوبہ شروع کیا جاتا ہے جس میں عوامی سطح پر لوگوں کا فائدہ ہوتا ہے وہاں اس طرح کی بے قاعدگیاں پیش آ جاتی ہیں اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ حل کی جا سکتی ہیں۔پاکستان کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد یونیورسٹیوں کی فنڈنگ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بڑی تعداد میں یونیورسٹیوں کے قیام کے بعد بڑی یونیورسٹیاں مالی مشکلات سے دو چار ہیں اور مرکزی سطح پر یونیورسٹی گرانٹ کمیشن صرف وفاق کے زیر انتظام چلنے والی یونیورسٹیوں کی فنڈنگ کر رہی ہے۔

Back to top button