عمران خان الیکشن کے فوری بعد سڑکیں گرم کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

جیل میں قید پریشان عمران خان نے جیل سے رھائی کے لئے سڑکیں گرم کرنے کا آپشن فوری استعمال کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ ان کے خیال میں الیکشن کے بعد تحریک انصاف کے پاس پارلیمانی قوت واپس آگئی ھےاس لیے ان کے احتجاج کو پہلے کی طرح روکنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک طرف پارلیمان میں ہنگامہ ہوگا۔ دوسری طرف سڑکوں پر ہنگامہ ہوگا تو ریاست اور ادارے ان سے بات کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ
پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر احتجاج کے لیے اتوار کے روز جو کال دی تھی وہ جیل سے بانی تحریک انصاف کی ضد کا نتیجہ تھی جب کہ تحریک انصاف کی جیل سے باہر قیادت کا موقف تھا کہ پارلیمان میں احتجاج اچھا جا رہا ہے تو سڑکوں پر احتجاج کی کوئی ضرورت نہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے پہلے یہی بیانات بھی دئے گئے کہ ہم پہلے پارلیمان میں احتجاج کریں گے اور سڑکوں پر آنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہے۔ تاہم بانی تحریک انصاف نے اس حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر سڑکوں پر آنے کا حکم دیا۔
مزمل سہروری کے مطابق بانی تحریک انصاف کو سمجھ آ چکی ھے کہ پارلیمان میں جتنا مرضی احتجاج کرلیا جائے اس سے وہ باہر نہیں آئیں گے۔ جو لوگ ان کے نام پر پارلیمان کے ممبر بن گئے ہیں ان کے نمبر تو بن جائیں گے۔لیکن ان کے باہر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسمبلیوں میں جتنا مرضی شور کر لیں۔ بے شک حکومت کے سامنے یہ شرط بھی رکھ دیں کہ جب تک ہمارے لیڈر عمران خان کو رہا نہیں کیا جائے گا ہم حکومت سے کوئی تعاون نہیں کریں گے‘ ھو گا کچھ نہیں۔ حقیقت میں حکومت کے پاس اتنی عددی اکثریت موجود ہے کہ اسے تحریک انصاف عرف سنی اتحاد کونسل کے تعاون کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس لیے پارلیمان میں شور شرابے سے خبریں تو بن جاتی ہیں۔ لیکن عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔ اسی لیے عمران خان کی حکمت عملی تو یہ ہے کہ کسی بھی طرح انھیں باہر نکالنے کا راستہ بنایا جائے۔ اسی لیے چند دن مفاہمت کی باتیں بھی کی گئیں۔ لیکن پھر خود ہی عمران خان نے کہا کہ انتخابات کے بعد بھی ان سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا ہے۔ کوئی ان سے بات نہیں کر رہا ۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ عمران خان کے لیے شائد پریشانی کی بات یہی تھی کہ ایک صوبے کی حکومت مل گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں اچھی سیٹیں مل گئی ہیں۔پنجاب میں اچھی سیٹیں مل گئی ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان سے کوئی بات نہیں کر رہا اور انتخابی نتائج ان کی رہائی کے لیے کافی نہیں ہیں۔ مبینہ دھاندلی کا شور عالمی سطح پر قبول نہیں کیا گیا۔ جس طرح ملکی سطح پر انتخابی نتائج قابل قبول ہو گئے ہیں اسی طرح عالمی سطح پر بھی انتخابی نتائج کو قبول کر لیا گیا ہے۔ اس سب نے شائد عمران خان کو زیادہ پریشان کیا ہے۔ کیونکہ دھاندلی کا بیانیہ بننے سے پہلے ہی دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں سڑکیں گرم کرنے کے سوا کوئی آپشن باقی نظر نہیں آرہا‘
مزمل سہروری کا کہنا ہے کہ عمران خان شائد حکومت گرانا بھی نہیں چاہتے‘ لیکن ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں کہ ان کی رہائی کی بات شروع ہو جائے۔ لیکن آپ غلط موقع پر غلط کال دینے کا نتیجہ دیکھیں۔ اس ناکامی کی ایک قیمت تو یہ دینی پڑی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی لگ گئی۔ آپ ناکام احتجاج کے ساتھ جیل میں مراعات نہیں لے سکتے۔ ناکامی کی قیمت ہوتی ہے جو ادا کرنا ہوگی۔
