دانیہ شاہ کو جائیداد میں حصہ مانگنے پر گرفتار کروایا گیا

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کی والدہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کو صرف اس لئے جھوٹے کیس میں گرفتار کروایا گیا ہے کہ اس نے اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں حصہ لینے کی خاطر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ دانیہ شاہ کی والدہ سلمیٰ بی بی کا کہنا ہے کہ جب عامر لیاقت حسین کی وفات ہوئی تب تک دونوں میاں بیوی میں صلح ہو چکی تھی اور خلع کا دعویٰ واپس لیا جا رہا تھا لہذا قانونی طور پر ان کی بیٹی عامر لیاقت کی منکوحہ تھی اور جائیداد میں حصہ لینا اس کا حق بنتا ہے۔
یاد رہے کہ دانیہ شاہ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے ان کے شوہر کی قابل اعتراض ویڈیو لیک کرنے کے الزام میں لودھراں سے گرفتار کر لیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق دانیہ کے خلاف شکایت ان کے مرحوم شوہر کی صاحب زادی نے دائر کی تھی، جس کے بعد ملزمہ کو گرفتار کیا گیا۔ عامر لیاقت حسین کی ساس سلمیٰ بی بی کا کہنا ہے کہ دانیہ شاہ نے اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں اپنا قانونی حصہ حاصل کرنے کی خاطر 10 روز قبل مقدمہ دائر کیا تھا اور اسی وجہ سے انہیں بشریٰ کی جانب سے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ دانیہ شاہ کی گرفتاری کے بعد لودھراں سے کراچی پہنچنے والی سلمیٰ بی بی نے کہا کہ عدالت نے دانیہ شاہ کو عامر کی جائیداد میں قانونی حصہ دار قرار دیا ہے۔ سلمیٰ بی بی کے مطابق: ’جائیداد میں وراثت کا کیس دائر کرنے پر عامر لیاقت حسین کی پہلی بیوی ڈاکٹر بشریٰ نے میری بیٹی کو گرفتار کرایا۔ انھوں نے میری بیٹی پر عامر لیاقت حسین کی غیر اخلاقی ویڈیو لیک کرنے کا الزام لگایا۔ مگر میری بیٹی نے ایسی کوئی ویڈیو لیک نہیں، اگر کی ہے تو بتایا جائے کہ وہ ویڈیو کہاں ہے؟
سلمیٰ بی بی نے الزام لگایا کہ انہیں دانیہ شاہ سے ملنے نہیں دیا جا رہا، جو خلاف قانون ہے۔جب موقف لینے کے لیے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ عامر لیاقت کی وفات کے بعد دانیہ شاہ نے ان کے پوسٹ مارٹم کے لیے عدالت میں درخواست دی تھی اور پوسٹ مارٹم کا حکم بھی جاری کر دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں ڈاکٹر بشری ٰاور ان کے بچوں نے عدالت میں اس کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں پوسٹ مارٹم نہ کروانے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ دانیہ کا الزام تھا کہ عامر لیاقت کو قتل کیا گیا ہے لہٰذا پوسٹمارٹم کروایا جائے۔
دوسری جانب ایف آئی اے 14 دسمبر کو گرفتاری کے باوجود 15 دسمبر کو دانیہ شاہ کو عدالت کے سامنے پیش نہ کر سکی۔ انہیں کراچی میں ضلع جنوب کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیے جانے کی غرض سے لایا گیا تھا۔ تاہم جمعے کے باعث عدالت کے اوقات کار دن 12 بجے ختم ہو چکے تھے لہٰذا ایف آئی اےحکام انہیں عدالت کے سامنے بغیر پیش کیے واپس لے گئے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق اب انہیں 17 دسمبر کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
