عمران کا کھیل ختم ہو گیا، نا اہلی اور گرفتاری مقدر بن گئی

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ کہ عمران خان کا تماشا ختم ہوچکا ہے۔ اب وہ یا تو آئینی اصولوں کے مطابق کھیلیں اور پارلیمنٹ میں واپس آ کر اگلے الیکشن کا انتظار کریں، یا پھر نواز شریف اور شہباز شریف کی طرح نااہلی اور ممکنہ قید کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کچھ عرصہ پہلے تک کیوبا کے انقلابی رہنما، فیڈل کاسترو ”قوم کے نام“ سب سے زیادہ تقاریر کرنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے تھے۔ اب ہمارے مقامی ہیرو، عمران خان یہ ریکارڈ توڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے ایک تقریر، انٹرویو، خطاب یا ایک بریفنگ تیار کر رکھی ہے جو کم و بیش ایک سال سے روزانہ نشر کیے جارہے ہیں۔ لیکن دونوں رہنماؤں میں ایک فرق ہے۔ فیڈل کاسترو کے خطابات سوشلسٹ قوم سازی کے اُن اصولوں پر مبنی تھے جنہوں نے کیوبا کو بالآخر امریکہ کی استحصال زدہ اور غربت کی ماری ہوئی کالونی سے اٹھا کر ایک ترقی کرتے ہوئے قابل فخر ملک میں تبدیل کردیا۔ دوسری طرف خان کی”حکمت کے موتی“ موقع پرستی، یوٹرن، پروپیگنڈا اور شرمناک جھوٹ سے لبریز ہیں۔ انھوں نے بطور وزیر اعظم پاکستان کو آئینی جمود اور معاشی بگاڑ کے دھانے پر پہنچا دیا۔ اور اب جب کہ وہ اپوزیشن میں ہیں، وہ سیاسی عدم استحکام اور معیشت کی تباہی پر کمر بستہ ہیں۔ عمران خان کی حکمت عملی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ سیاسی ”غیر جانبداری“ ترک کرتے ہوئے پی ڈی ایم حکومت کو چلتا کرنے میں ان کا ساتھ دے، اور پھر جلدی سے عام انتخابات کروا کر اُنھیں اقتدار میں پہنچا دے کیوں کہ پی ڈی ایم کا گراف نیچے گر رہا ہے۔ اُنھوں نے قومی اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کے لیے لانگ مارچ کی دھمکی دی۔ پھر اُنھوں نے جنرل قمر باجوہ کو مختصر مدت کی توسیع دینے کی پیش کش کی تاکہ وہ ایک نگران بندوبست کی ”نگرانی“ کرسکیں۔ عمران خان  کاخیال تھا کہ وہ اس دوران انتخابات جیت کر اقتدار سنبھال لیں گے اور جنرل فیض حمید کو آرمی چیف نامزد کر دیں گے۔ چنانچہ جب نواز شریف اس فارمولے کو خاطر میں نہ لائے تو عمران نے پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالا کہ وہ جنرل عاصم منیر کی بجائے کسی اور جرنیل کو آرمی چیف نامزد کریں۔ ایک مرتبہ پھر نواز شریف کی استقامت کی وجہ سے یہ چال ناکام ہوگئی تو عمران نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے اور ملک کو افراتفری کی دلدل میں دھکیلنے کی دھمکی دے دی۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا لانگ مارچ کی طرح اسمبلیاں توڑنے کی دھمکی بھی کھوکھلی ہے اور کیا ایک مرتبہ پھر خان کا وار خالی جائے گا؟ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ 17 دسمبر کو اعلان کریں گے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی دھمکی کو عملی جامہ کب پہنایا جائے گا؟ اس میں ایک ہفتہ، دو ہفتے یا زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح لانگ مارچ کی تاریخ کا بھی باقاعدہ وقفوں سے اعلان کیا جاتا رہا تھا۔ لیکن نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ ایسے اعلانات نے پی ڈی ایم کو ایک موقع فراہم کردیا کہ وہ یا تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے عدم اعتماد کی قرار داد پیش کردیں یا اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہیں۔ وہ اعلیٰ عدلیہ سے بھی رجوع کرسکتے ہیں کہ فلور کراسنگ پر کیے گئے کچھ فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے تاکہ اسمبلیوں کو تحلیل ہونے سے روکا جاسکے۔

عمران کا خیال ہے کہ پی ڈی ایم کے ساتھ قبل از وقت انتخابات کے لیے مذاکرات کے کھیل میں واپس آنا ضروری ہے۔ انھوں نے صدر علوی کو اسٹیبلشمنٹ اور پی ڈی ایم کے ساتھ بیک ڈور بات چیت کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ انہیں عزت بچاتے ہوئے قومی اسمبلی میں واپسی کے لیے مدعو کیا جائے جہاں نگراں حکومتوں کی تشکیل سمیت اگلے انتخابات کی شرائط و ضوابط طے کیے جائیں۔ دلچسپ بات ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی انھیں اس سمت  لانے کی خواہش مند دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر تحریک انصاف استعفے سپیکر کے سامنے ذاتی طور پر جمع کرائے گی۔ یہ بہانہ اسلام آباد آنے کے لیے عزت بچانے کا کام دے گا۔ انتخابات کے لیے کوئی قابل قبول تاریخ کے لیے حکومت کے ساتھ ڈیل کی جائے گی۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر یوٹرن لیا جائے گا۔

لیکن اگر یہ منصوبہ عملی جامہ نہ پہن سکا تو کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اگر پی ڈی ایم اسے عزت بچانے کی اجازت نہیں دیتی اور اسے اپنی دھمکی پر عمل کرنے اور دونوں صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے پر مجبور کرتی ہے تو کیا ہوگا؟اس حوالے سے دو تصورات کو پذیرائی حاصل ہے۔ نہ اسٹیبلشمنٹ اور نہ ہی پی ڈی ایم حکومت فوری عام انتخابات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ ایسا کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے کیوں کہ معاشی تبدیلی کے لیے سیاسی استحکام درکار ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ فوری انتخابات کا انعقاد اسے سیاسی طور پر زک پہنچائے گا تاوقتیکہ اسے انتخابات کی تیاری کے لیے وقت مل جائے۔اس صورت میں اگر خان اپنی دھمکی کوعملی جامہ پہنانے کے لیے پیش قدمی کرتے ہیں تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مل کر انھیں میدان سے نکال باہر کریں گے۔ اس دوران عمران کے خلاف زیر التوا مقدمات کی سر پر لٹکنے والی تلوار بھی چل سکتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی الیکشن لڑنے سے نااہلی کی سزا ہوسکتی ہے۔ ضرورت پڑی تو فوجداری مقدمہ بھی چل سکتا ہے جیسا کہ ایک اسلام آباد کی ایک عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ہے۔ چنانچہ عمران کو قیدو بند کی سزا بھی خارج ازامکان نہیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے بارے سنگین غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ جنرل باجوہ پر کھلے عام حملے کر کے وہ اسٹیبلشمنٹ میں تقسیم کے بیج بو رہے ہیں یا جنرل عاصم منیر پر حملہ نہ کر کے وہ نئے آرمی چیف کا دل جیت رہے ہیں تو وہ بالکل غلط سوچ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے سابق آرمی چیف کی ساکھ کا تحفظ کرنے اور اپنے ادارہ جاتی مفادات کے دفاع کے لیے متحد ہے، جیسا کہ اس نے ماضی میں کئی مواقع پراس کا مظاہرہ کیا ہے۔ لہٰذا عمران خان غلطی پر ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج کی نئی قیادت پر دباؤ ڈال کر ان افسران کو برطرف کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں جن کا نام مقتول صحافی ارشد شریف کی والدہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام خط میں لکھا ہے۔ نجم کے بقول عمران خان کا تماشا ختم ہوچکا۔اب وہ یا تو آئینی اصولوں کے مطابق کھیلیں اور پارلیمنٹ میں واپس آ جائیں اور اگلے الیکشن کا انتظار کریں، یا پھر نواز شریف اور شہباز شریف کی طرح نااہلی اور ممکنہ قید کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

Back to top button