دروازہ توڑنے کی تحقیقات آرمی چیف کے دائرہ اختیار میں نہیں

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ کے گھر کے محاصرے اور اغوا کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے کمرے کے دروزہ توڑنے کی تحقیقات آرمی چیف کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، آرمی ایکٹ کے تحت وہ صرف اپنے افسران کی تفتیش کرسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان والا معاملہ 4 دن سے چل رہا ہے، اس حوالے سے واقعے کی کئی پیچیدگیاں اور حقائق اب سامنے آرہے ہیں، جہاں معاملات بہت سنگین معلوم ہوتے ہیں، کیوں کہ آئین کو توڑا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ حکومت چادر اور چار دیواری کو پامال کررہی ہے، جس کا حکم براہ راست وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دیا جا رہا ہے، ایسے واقعات کی وجہ سے وزیراعظم نے ناصرف خود حلف توڑا بلکہ اپنے ساتھ افسران کو بھی حلف توڑنے کا حکم دیا، جب کہ افسر کو اغوا کرنے اور آئین کو توڑنے پر عدالتوں کی طرف سے سوموٹو ایکشن بھی نہیں لیا گیا، حالانکہ اس واقعے کے ذریعے سے وفاق ایک صوبے پر حملہ آور ہوا جو ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کو اغواء کرکے مقدمہ درج کرنے کا دباؤ ڈالا گیا، آئی جی کے گھر کا محاصرہ کرنے والے دونوں ادارے وفاق کے ماتحت ہیں، دونوں اداروں کے سربراہان وزیراعظم سے ہدایات لیتے ہیں، آئی جی سندھ تمام واقعے کا مقدمہ درج کرانے سے قاصر ہیں، جس ملک میں اعلیٰ افسران کو اغوا کیا جائے وہاں کون خود کو محفوظ تصور کرسکتا ہے، دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے اس سارے معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اسی لیے بلاول بھٹو زردری کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تمام واقعے کی تحقیقات کی درخواست کی گئی، لیکن ہوٹل کے کمرے کے دروزہ توڑنے کی تحقیقات آرمی چیف کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، آرمی ایکٹ کے تحت وہ صرف اپنے افسران کی تفتیش کرسکتے ہیں۔
