دنیا نے اشرف غنی کو صدر تسلیم کر لیا، عبداللہ عبد اللہ مایوس

افغانستان میں 9 مارچ کو دو علیحدہ علیحدہ تقاریب میں ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے ایک ہی وقت میں نئے صدر کے عہدے کا حلف تو لے لیا لیکن عبداللہ عبداللہ کی تقریب حلف برداری میں کسی بھی غیر ملکی سفیر کی عدم شرکت سے عالمی برادری کی جانب سے یہ واضح پیغام گیا کہ وہ اشرف غنی کو ملک کا باضابطہ صدر مانتی ہے۔
یاد رہے کہ کابل کے ایوان صدر میں ہونے والی اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں امریکہ اور مغربی دنیا سمیت تمام ممالک کے سفیر نے شرکت کی۔
کابل میں ایک ہی وقت میں دو صدور کے حلف اٹھانے سے پیدا سیاسی عدم استحکام ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب گذشتہ چار عشرے میں پہلی بارامریکہ اور طالبان امن معاہدے کے بعد افغان عوام ایک پر امن افغانستان کا خواب دیکھ رہے تھے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کے بعد بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے لیے دس مارچ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان مذاکرات کا دوسرا دور اعلان شدہ تاریخ پر نہیں ہو سکا۔
الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق اشرف غنی ہی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں اور وہ ہی افغانستان کے صدر ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے سفرا، نیٹو، یورپی یونین اور بین الاقوامی برادری کے نمائندوں نے اشرف غنی کی حلف برداری میں شرکت کی۔ تاہم ایران اور روس کے سفیر اس تقریب میں شامل نہیں ہوئے لیکن عبداللہ عبداللہ کی تقریب حلف برداری میں تو کوئی ایک بھی غیر ملکی سفیر نہیں پہنچا۔
تاہم افغان سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ کو اپنی حلف برداری سے کیوں روک نہیں پائے؟ کیا وہ قانون سے بالاتر ہیں یا پھر افغانستان میں اب بھی ’وار لارڈز‘ کی حکمرانی ہے؟ افغان میڈیا کے مطابق نو مارچ کو ہونے والی ان دو حلف برداریوں کی وجہ سے یہ دن افغانستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن تھا۔ میڈیا ناقدین کے مطابق اشرف غنی کی حکومت اگر پہلے ہی دن ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی غیر قانونی حلف برداری کی تقریب نہیں روک سکی تو بعد میں کیا کرے گی۔
تاہم کچھ اور تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ عبداللہ عبداللہ کی کی تقریب حلف برداری نے کسی بھی غیر ملکی سفیر کی عدم شرکت کے بعد اب صورت حال بالکل بدل چکی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اشرف غنی کے ساتھ حکومت میں کوئی اور عہدہ لینے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں گے۔
تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کو احساس ہو گیا ہے کہ کسی بھی ملک نے ان کا ساتھ نہیں دیا لہذا اب امکان اس بات کا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کوشش کریں گے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت میں ان کو کچھ دیا جائے۔ یاد رہے کہ افغانستان جس سیاسی بحران سے آج گزر رہا ہے یہی بحران 2014 کے صدارتی انتخابات کے بعد بھی پیدا ہوا تھا جب اس وقت بھی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور بعد میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ثالثی کے بعد نیشنل یونیٹی گورنمنٹ بنائی گئی جس میں عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دیا گیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق عبداللہ عبداللہ کی جانب سے متوازی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ افغانستان میں آج بھی ’وار لارڈز‘ کلچر اور طاقتور شخصیات موجود ہیں جو حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ دراصل ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ان کے آپس کی لڑائی سے زیادہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں اور اسی لیے وہ اس سیاسی بحران کو طول نہیں دے سکتے لیکن ایک بات طے ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ افغان طالبان کو پہنچ رہا ہے۔
مبصرین کے خیال میں اگر افغانستان میں موجودہ سیاسی بحران طول پکڑتا ہے تو نہ صرف طالبان، داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے لیے وہاں میدان خالی ہو گا بلکہ اس کے منفی اثرات سے خطے کے ممالک بھی نہیں بچ سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button