سعودی ولی عہد سلمان کے تازہ کریک ڈاون کا مقصد کیا ہے؟

گزشتہ دنوں سعودی عرب میں کرونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر مطاف کعبہ کی بندش کے احکامات کے بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ معاملہ کرونا وائرس نہیں بلکہ کچھ سعودی شہزادوں کی مبینہ بغاوت کی کوشش سے جڑا ہوا تھا جسے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وفاداروں نے ناکام بنادیا۔ تاہم ابھی تک یہ عالمی میڈیا میں بحث جاری ہے کہ محمد بن سلمان کو اتنا بڑا کریک ڈاؤن کرنے کی ضرورت پیش کیوں آئی جبکہ بظاہر تمام حکومتی معاملات ان کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ محمد بن سلمان کے حکم پر ان کے چچا شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور کزن محمد بن نائف سمیت شاہی خاندان کے 20 افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے تنازعات کوئی نئی چیز نہیں۔ سنہ 2015 میں جب سے ان کی تابناک ترقی کی شروعات ہوئی، تب سے انھوں نے سیاسی نظام میں سب سے اوپر پہنچنے کے لیے بے رحمانہ عزائم کا مظاہرہ کیا اور اس کے لیے انھوں نے اپنے ہر طرح کے مخالفین اور نقادوں کو خاموش کروایا ۔تاہم اس بار محمد بن سلمان کے عزائم کا شکار سعودی شاہی خاندان کے اہم ترین اراکین ہوئے ہیں جن میں ان کے چچا اور سابق وزیر داخلہ شہزادہ احمد بن عبد العزیز، اور ایک کزن شہزادہ محمد بن نائف شامل ہیں جو کہ سابق ولی عہد اور وزیر داخلہ رہ چکے ہیں ۔ ان سے غداری کے متعلق تفتیش ہو رہی ہے ہر چند کہ ان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ہے۔ان دونوں کے پاس اب زیادہ قوت اور اختیار بھی نہیں ہے۔ سنہ 2017 میں شاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کا سعودی تخت سنبھالنے کے لیے راستہ صاف کرنے کی غرض سے محمد بن نائف کو ان کے عہدے سے بے توقیر انداز میں بے دخل کردیا تھا۔
دوسری جانب شہزادہ احمد گذشتہ سال اپنے ملک واپس آنے سے قبل تک لندن میں اپنا وقت گزارنے اور پیسہ خرچ کرنے کو فوقیت دے رہے تھے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر محمد بن سلمان ایک بار پھر اپنے حریفوں کے خلاف کیوں سرگرم ہیں اور وہ بھی ایسے میں جب وہ پہلے سے ہی کمزور ہیں اور اقتدار پر ان کی گرفت کو چیلنج کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
اس کا حقیقی جواب تو صرف وہی جانتے ہیں، کیونکہ سعودی عرب جیسے ملک میں سرکاری ذرائع سے مکمل سچائی تک رسائی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہےلیکن ایک بات طے ہے کہ نوجوان شہزادے کو یہ بات پتہ ہے کہ ان کے اس عمل کے لیے انھیں نہ تو بین الاقوامی سطح پر اور نہ ہی ملکی سطح پر کوئی قیمت چکانی پڑے گی۔
واضح رہے کہ سنہ 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد بین الاقوامی سطح پر بدنامی اور تنقید سے نکل آنے کے بعد محمد بن سلمان کے لیے خوف کی کوئی بات باقی نہیں رہی۔
ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس نے محمد بن سلمان کی انتہائی حد تک پشت پناہی کی۔ برطانیہ اور فرانس نے نیم دلانہ تنقید کی مگر سعودی عرب سے ان کی تجارت اب تک جاری ہے، جبکہ روس اور چین کو اس کی فکر ہونی بھی نہیں تھی اور اس طرح محمد بن سلمان اپنی خوشی سے تقریباً جو چاہیں کر سکتے ہیں، اقتدار کے لیے اپنی راہ میں حائل ہونے والے شعبوں کو ایک ایک کر کے الگ تھلگ کرتے چلے گئے، چاہے وہ علما ہوں، حریف رشتہ دار ہوں، تاجر ہوں یا ملکی پریشر گروپ ہوں اور حکومت کی پوری طاقت سے انھیں ایک ایک کر کے کچلتے چلے گئے۔یہ بنیادی طور پر آمرانہ سیاست ہے لیکن 21ویں صدی کے انداز میں اور محمد بن سلمان منکسر نظر آنے کے لیے احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔اسی طرح انھوں نے اپنے چچازاد بھائی محمد بن نائف کو ولی عہدی سے ہٹائے جانے کے وقت بھی بظاہر عاجزی کے ساتھ ان کا ہاتھ چوما تھا۔
محمد بن سلمان کی ترقی محمد بن نائف کی قیمت پر ہونا ستم ظریفی سے خالی نہیں ہے۔ سنہ 2017 کی ابتدا تک مغربی ممالک کے زیادہ تر پالیسی ساز محمد بن نائف کے کیمپ میں تھے اور ساری دنیا کے سکیورٹی اداروں میں ان پر بھروسہ اور انھیں پسند کیا جاتا تھا۔ جس کسی کی بھی ان سے ملاقات ہوئی وہ انھیں مستقبل کے لائق بادشاہ کے طور پر دیکھتے رہےلیکن محمد بن نائف ملکی قومی سلامتی کا انتظام سنبھالنے کے جتنے اہل تھے، اتنے ہی وہ محمد بن سلمان کے عزائم اور مکاری کا مقابلہ کرنے میں ناکام تھے۔
