دن بھر بیٹھنے کے باوجود تھکاوٹ کا سامنا کیوں ہوتاہے؟

دفتر میں طویل دن گزارنے کے بعد لگتا ہے کہ جسم توانائی سے محروم ہوچکا ہے اور دل کرتا ہے کہ گھر جاکر لیٹ جائیں۔مگر پورا دن بیٹھنے کے باوجود تھکاوٹ کیوں محسوس ہوتی ہے جیسے دن بھر مشقت کرتے رہے ہیں؟تو اس کا جواب سادہ نہیں بلکہ اس کے مختلف عناصر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔درحقیقت ذہنی کام جتنا زیادہ سخت ہوگا، تھکاوٹ کا احساس اتنا زیادہ ہوگا۔

تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ زیادہ دماغی محنت کے نتیجے میں دن کے اختتام پر لوگوں کے لیے کام کرنا مشکل ہوسکتا ہے اور اس مسئلے سے بچانے کے لیے انہیں کچھ وقت کے لیے آرام کا موقع دینا بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔درحقیقت طبی سائنس نے متعدد بار ثابت کیا ہے کہ ذہنی تھکاوٹ کے جسم پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دماغ ہمارے جسم کے لیے کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے خون کی گردش، نظام تنفس اور اعصابی نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے، جس کے لیے اسے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر صرف یہی تھکاوٹ کا باعث نہیں بلکہ کام کا تناؤ بھی تھکاوٹ کا احساس بڑھاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم تناؤ پر ایک طرح ہی ردعمل ظاہر کرتا ہے جس کے دوران دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جاتی ہے جبکہ دماغ زیادہ توانائی خرچ کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ تھکاوٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

Back to top button