احمد آباد میں پاکستانی ٹیم کے نمایاں سپورٹر ’’چاچا بشیر‘‘ کون ہیں؟

پاکستان ٹیم کا میچ ہوم گرائونڈ پر ہو یا آئوٹ آف ہوم ’’چاچا بشیر‘‘ پاکستانی پرچم ہاتھ میں لیے ہمیشہ صف اول میں نظر آتے ہیں، بھارتی شہر احمد آباد میں بھی ’’چاچا بشیر‘‘ نے پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی میں نمایاں رہے۔جمعے کے روز پاکستان نے نیدرلینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا، چاچا محمد بشیر اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے والے پرجوش پاکستانی تھے، ورلڈ کپ کے اپنے اس اولین میچ میں پاکستانی ٹیم نے 81 رنز کی فتح سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہے۔ایک عرصے سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور چاچا بشیر کا نام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ملک سے باہر جہاں بھی پاکستانی ٹیم کھیل رہی ہوتی ہے، چاچا بشیر سبز کپٹرے پہنے ، چاند ستارے والا سبز پرچم لہراتے نظر آتے ہیں۔ چاچا بشیر پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں جو شکاگو میں رہتے ہیں، ان کی عمر 67 سال ہے۔چاچا بشیر نے بتایا کہ ایک ہفتہ پہلےبھارت کے شہر حیدر آباد کے ایئر پورٹ پر اس وقت انہیں گرفتار کیا جانے والا تھا، جب انہوں نے پاکستانی ٹیم کی آمد پر اس کے خیرمقدم کے لیے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے تھے اور پاکستانی جھنڈا لہرایا تھا۔پولیس نے ان سے پاکستانی جھنڈا لے لیا، کیونکہ اس کی اجازت نہیں تھی۔لیکن ٹیم کا یہ استقبال شاندار تھا، بہت سے پاکستانی شائقین میچ دیکھنے اور اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے سرحد پار بھارت جانا چاہتے ہیں، لیکن ویزوں کی منظوری کے عمل میں تاخیر کے باعث ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی۔چاچا بشیر کراچی میں پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کی اہلیہ کا تعلق بھارت کے شہر حیدر آباد سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میرا پیدائشی ملک ہے۔یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میری بیگم کا تعلق بھارت سے ہے۔ اس لیے مجھے دونوں ملکوں سے پیار ہے۔ اسی طرح چاچا بشیر کا سامنابھارتی کرکٹ ٹیم کے ایک پرجوش فین ،اوراپنے قدیم بھارتی حریف، سدھیر کمار سے 14 اکتوبر کو احمد آباد اسٹیڈیم میں اس وقت ہو گا، جب یہ دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ کے مقابلے میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔چاچا بشیر نے بتایا کہ میرا سدھیر کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے۔ ان مقامات کے لیے جہاں یہ میچ ہوتے ہیں، بعض اوقات میں ان کے لیے فلائٹ بک کرتا ہوں اور ہم اکھٹے رہتے ہیں۔ بشیر بین الاقوامی کرکٹ کے مقابلوں میں ایک جانا پہچانا چہرہ بن چکے ہیں۔2011 میں بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ کے موقع پر بھارتی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے انہیں موہالی میں سیمی فائنل کے لیے میچ کا ٹکٹ بھی دیا تھا۔چچا بشیر نے 2011 کے بعد آسٹریلیا میں 2015 میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی تھی اور اس کے چار سال کے بعد وہ برطانیہ میں منعقدہ ورلڈ کپ کے لیے بھی پہنچے تھے، جہاں مانچسٹر میں انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔چاچا بشیر نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ میں کرکٹ کے لیے جیتا ہوں۔ جب تک صحت مند ہوں، جہاں بھی میچ ہو گا میں وہاں جاؤں گا۔اگلے ہفتے ، 14 اکتوبر کو ، جب پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوگا، ان کے دل کی دھڑکن تیز اورجوش و خروش بڑھ جائے گا اور اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹیڈیم میں موجود ہوں گے، چاچا بشیر کا کہنا ہے کہ ان کی بیگم کے ساتھ ایک وعدہ اور معاہدہ ہے کہ چونکہ وہ بھارت میں پیدا ہوئی ہیں اس لیے وہ ان میچوں میں بھارتی ٹیم کی حمایت کریں گی ۔

Back to top button