دو روسی پارلیمنٹیرینز انڈیا میں پراسرار اموات کا شکار

روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کی مخالفت کرنے والے دو سینئر ترین روسی اراکین پارلیمنٹ بھارت کے ایک ہوٹل میں پراسرار حالات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دونوں کی پراسرار اموات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، پاویل اینتونوف نامی روسی رکن پارلیمنٹ بھارت کی مشرقی ریاست اُڑیسہ کے ایک معروف ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے۔
’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 65 سالہ پاویل کی خون میں لت پت لاش ہوٹل کے باہر فرش پر پڑی ہوئی برآمد ہوئی جہاں وہ اپنے تین روسی ساتھیوں کے ہمراہ مقیم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے دو روز پہلے پاویل اینتونوف کے ساتھ دورے پر آئے ہوئے انکے ایک قریبی دوست ولادیمیر بدینوف بھی اسی ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے، بھارتی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد بے ہوش ہوگئے تھے اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں اموات کی تحقیقات کے لیے وہ سی سی ٹی وی کا جائزہ لے رہے ہیں، اور ہوٹل کے عملے سے پوچھ گچھ کررہے ہیں۔ انکاکہنا ہے کہ انکی پوسٹ مارٹم رپورٹس کا بھی انتظار ہے۔
مقامی پولیس کے سربراہ راجیش پنڈت کا کہنا ہے کہ دو روسی شہریوں کی موت کے حوالے سے تمام ممکنہ زاویوں سے جانچ کی جا رہی ہے۔ ولادیمیر بدینوف کو شاید اس لئے دل کا دورہ پڑاکہ انہوں نے ممکنہ طور پر زیادہ شراب پی لی تھی۔ پولیس افسر نے کہا کہ جہاں تک پاویل اینتونوف کی موت کا تعلق ہے تو شاید وہ حادثاتی طور پر ہوٹل کی چھت سے گر گئے تھے لیکن ابھی حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ واقعہ خودکشی کا لگتا ہے کیونکہ پاویل اپنے دوست کی موت پر بہت زیادہ افسردہ تھے ،ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بھی زیادہ شراب پی کر ہوٹل کی چھت سے چھلانگ لگا دی ہو۔ پولیس نے بتایا کہ پاویل اور ان کے دوست دسمبر کے وسط میں ریاست اُڑیسہ پہنچے تھے اور گزشتہ ہفتے ہوٹل پہنچنے سے پہلے کئی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ ان کی میزبانی کرنے والے دو مقامی ٹریول ایجنٹوں اور دو روسی ساتھیوں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے رہی ہے۔
پاویل اینتونوف روسی پارلیمنٹ کے سال 2018 سے رکن تھے جو صدر ولادیمیر پیوٹن کی متحدہ روسی پارٹی کی نمائندگی کر رہے تھے۔سیاست میں آنے سے قبل پاویل اینتونوف نے ’ولادیمیر اسٹینڈرڈ‘ نامی فوڈ پروسیسنگ پلانٹ کی بنیاد رکھی اور 2019 میں فوربز کی جانب سے وہ روس کے امیر ترین قانون سازوں اور سرکاری ملازمین کی فہرست میں شامل تھے۔ جون میں روسی میڈیا نے پاویل اینتونوف کا حوالہ دیتے ہوئے ایک واٹس پیغام شیئر کیا جس کے مطابق پاویل اینتونوف نے یوکرین پر روس کی میزائل سے بمباری کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا تھا۔ چنانچہ سازشی نظریے پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ کے مخالف روسی پارلیمنٹرینز کی اموات کوئی حادثہ نہیں بلکہ سازش ہے۔
