دو لیگی MNAs کے استعفوں نے پارٹی کو مشکل میں پھنسا دیا

نواز لیگ کے دو اراکین قومی اسمبلی استعفوں نے پوری جماعت کو ایک عجیب مشکل میں پھنسا دیا ہے کیونکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کی منظوری کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے جسکے بعد دونوں اراکین اسمبلی چھپتے پھر ریے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ انہوں نے استعفے پارٹی قیادت کو دیے تھے اسپیکر قومی اسمبلی کو نہیں۔
یاد ریے کہ قومی اسمبلی کے دو لیگی اراکین مرتضٰی جاوید عباسی اور محمد سجاد کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کے پاس پہنچنے کے بعد دونوں کو انکی باقاعدہ تصدیق کے لئے سپیکر چیمبر بلوالیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب لیگی قیادت کا اصرار ہے کہ ان کے اراکین نے سپیکر کو استعفے بھجوائے ہی نہیں لہذا ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ معلوم ہوا یے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اجتماعی استعفوں پر اتفاق رائے کے بعد مرتضٰی جاوید عباسی اور محمد سجاد کے استعفے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے تھے جنھیں وہاں سے اٹھا کر کسی صارف نے سپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کردیا۔ اب اپوزیشن کو زچ کرنے کے سپیکر نے دونوں ایم این ایز کو اپنے چیمبر میں استعفوں کی تصدیق کے لئے بلوالیا ہے جس کے بعد ن لیگ بیک فٹ پر آگئی ہے اور یہ موقف اپنایا ہے کہ ابھی انہوں نے استعفے دینے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا لہذا ان کے اراکین کو استعفوں کی تصدیق کے لئے نہ تو بلوایا جائے اور نہ ہی ان کی غیر حاضری میں استعفے منظور کئے جائیں۔
سپیکر قومی اسمبلی اور ن لیگ کا متضاد موقف سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ گھمبیر ہوگیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ کپتان کے اعلان کے مطابق اپوزیشن اراکین کے استعفے فوری منظور کرلیں گے جبکہ دووسری جانب پی ڈی ایم نے استعفوں کے معاملے پر یوٹرن لیتے ہوئے ضمنی انتخاب اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔ اس صورتحال میں ن لیگ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ کل تک یہ استعفیٰ کارڈ کھیل رہی تھی اور اب دو استعفوں کی منظوری کے معاملے پر ہی بیک فٹ پر چلی گئی ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ استعفوں پر کارروائی سرکاری لیٹر پیڈ پر استعفے ملنے کے بعد شروع کی گئی یے، کیونکہ مرتضیٰ عباسی اور سجاد نے سرکاری لیٹر پیڈ پر اسپیکر کو استعفے بھجوائے تھے، اور اب اگر انکی جانب سے کوئی جواب نہ بھی آیا تو انہیں منظور کرلیا جائیگا،۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو براہ راست استعفے بھجوانے کی خبر درست نہیں۔ ابھی استعفے پارٹی قیادت کے پاس ہیں لہذا سپیکر قومی اسمبلی کسی اجنبی کی جانب سے ارسال کئے گئے ان استعفوں پر کوئی کارروائی نہ کریں۔ اس سے پہلے ایک حالیہ کابینہ اجلاس میں جب وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا سمیت کچھ حکومتی ترجمانوں نے اپوزیشن ممبران کے استعفوں کو قبول کرنے کی تجویز دی تو وزیر اعظم نے اس سے اتفاق کیا تھا۔ عمران خان پہلے ہی یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ وہ استعفوں سے خوفزدہ نہیں ہیں اور حکومت قومی اور صوبائی اسمبلی میں خالی ہونے والی نشستوں پر اپوزیشن کے قانون سازوں کے ذریعے ضمنی انتخابات کروائے گی۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے چیف وہپ مرتضیٰ جاوید عباسی اور کیپٹن صفدر کے بڑے بھائی ملک سجاد اعوان کے اسمبلی رکنیت سے استعفوں کے معاملے پر سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی جو اس وقت پارٹی کے قائمقام صدر بھی ہیں،کا کہنا ہے کہ ابھی ہمارے کسی رکن نے سپیکر قومی اسمبلی کو استعفی جمع نہیں کروایا۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل ورکنگ کمیٹی میں فیصلہ ہوا تھا کہ استعفے قیادت کو جمع کرائے جائیں گے جس کے بعد قیادت یہ تمام استعفے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر لے کر جائیگی۔ شاہد خاقان عباسی کے مطابق سپیکر آفس میں استعفے جمع کرانے کا فیصلہ مشترکہ طور پر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا۔ شاہد خاقان عباسی کے بقول انہوں نے پارٹی کے چیف وہپ کوہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے سپیکر اسد قیصر کو خط لکھیں کہ یہ استعفے ان تک کیسے پہنچے، جو ارکان قومی اسمبلی نے دئیے ہی نہیں۔سپیکر اسد قیصر کی جانب سے دو لیگی ارکان کو استعفوں کی تصدیق کے لئےطلب کرنے پر مسلم لیگ ن کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا ہوا جس میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور دیگر نے شرکت کی جبکہ بعض رہنما ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں استعفوں کے معاملے پر غور ہوا بالخصوص سپیکر کی طرف سے مرتضیٰ جاوید عباسی اور سجاد اعوان کو تصدیق کے لئے طلب کرنے پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس کو مرتضیٰ جاوید عباسی نے بتایا کہ میں نے اپنا استعفیٰ جس میں سپیکر کو مخاطب کیا گیا ہے، قیادت کو بھجوایا ہے۔ یہ استعفیٰ میں نے سوشل میڈیا پر وائرل کیا وہاں سے اس کا پرنٹ نکال کر سپیکر کو بھیج دیا گیا۔ یہ استعفیٰ سپیکر کو کس نے پہنچایا، سپیکر آفس نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ مرتضیٰ جاوید عباسی کے مطابق بطور چیف وہپ میں نے دیگر ارکان قومی اسمبلی کو ٹیلی فون کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ 31 دسمبر تک استعفے قیادت کے پاس جمع کرائیں یا صوبائی صدور کو بھیج دیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے استعفے پر 14 دسمبر کی تاریخ درج ہے ، تین چار روز قبل ٹیلی فون پر سپیکر سے میری کسی اور معاملے پر بات ہوئی لیکن انہوں نے استعفے کا ذکر نہیں کیا۔ اچانک سپیکر آفس نے تصدیق کے لئے مراسلہ جاری کر دیا۔
دوسری جانب ترجمان قومی اسمبلی نے واضح کیا ہے کہ مسلم لیگ(ن )کے ارکان قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی اور محمد سجاد کے استعفوں پر کاروائی ان کی طرف سے ان کے سرکاری لیٹر پیڈ پر موصول ہونے والے استعفوں اور ان استعفوں پر کئے گئے دستخطوں کی قومی اسمبلی کے ریکارڈ سے تصدیق کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ممبران کی طرف سے موصول ہونے والے استعفے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں موجود ہیں اور ان کی تصدیق کے لئے ممبران کو مراسلہ بھیجا گیا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش ہو کر ان کی تصدیق یا تردید کریں۔ترجمان نے کہا کہ استعفوں پر کاروائی قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے طریق کار 2007 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ارکان کی طرف سے موصول استعفوں کی کاپیاں ترجمان کی طرف سے کی گئی وضاحت کے ساتھ منسلک ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپیکر کی جانب سے دونوں لیگی اراکین کو استعفوں کی تصدیق کے لئے بلوانے کا مقصد محض انہیں زچ کرنا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ اپوزیشن والوں میں استعفے دینے کی ہمت نہیں اور بہرحال ن لیگ نے دفاعی پوزیشن اختیار کرکے اس تاثر کو مضبوط کردیا ہے۔
