کیا نواز شریف درحقیقت ایک انقلابی رہنما بن چکے ہیں؟


ہر مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اقتدار سے بیدخل کئے جانے والے 71 سالہ نواز شریف کے حامی سمجھتے ہیں کہ زمانے کی ٹھوکریں کھانے کے بعد وہ اب واقعی ایک نظریاتی اور انقلابی رہنما بن چکے ہیں کیونکہ ان کو سیاسی بصیرت کا نروان حاصل ہوگیا ہے۔ تاہم انکے ناقدین کا اصرار ہے کہ میاں صاحب کے نظریات موسموں کی طرح بدلتے ہیں، وہ اقتدار سے باہر ہوں تو انقلابی بن جاتے ہیں اور جب دوبارہ اقتدار کا راستہ نظر دکھایا جائے تو انقلاب کا راستہ چھوڑ کر دوبارہ مصلحت پسندی اختیار کر لیتے ہیں۔
نواز شریف کی تیسری مرتبہ اقتدار سے بیدخلی کے بعد ان کی فوجی قیادت مخالف تقاریر اور جارحانہ باڈی لینگوج کو مدنظ رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن کے حمایتی کہتے ہیں کہ میاں صاحب مکمل بدل گئے ہیں اور لاطینی امریکہ کے چی گویرا، برصغیر کے بھگت سنگ اور براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے آنجہانی نیلسن منڈیلا کی طرح نظریاتی اور انقلابی ہو چکے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ اقتدار اب نواز شریف کا مطمع نظر نہیں رہا کیوں کہ ان کے پاس کھونے کے لئے بھی کچھ نہیں رہا۔ لہذا اپنی ماضی کی غلطیوں کا مداوہ کرنے اور ان سے سبق سیکھتے ہوئے اب وہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے ہمیشہ کے لیے آوٹ کرنے کے لئے کھل کر میدان میں آچکے ہیں لہذا ان کی نیت پر شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ میاں صاحب کے حامیوں کا ماننا ہے کہ مریم نواز کو میدان میں اتار کر انہوں نے کرسی کے حصول کی جنگ شروع نہیں کی بلکہ ایک بہت بڑا رسک لیا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستانی سیاست سے عسکری قوتوں کی مداخلت ختم کرنا ہے۔
دوسری جانب سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک بلاشبہ ن لیگ لیڈ کررہی ہے۔ تاہم مستقبل قریب میں اگر نواز شریف کی جماعت نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے کومضبوطی سے تھامے رکھا اور اس کے نتیجے میں ملک میں حقیقی تبدیلی آگئی تو نواز شریف متفقہ قومی رہنما کا درجہ حاصل کرلیں گے۔
تاہم نواز شریف کے ناقدین کا اصرار ہے کہ میاں صاحب آج بھی ذہنی طور پر مکمل طور۔پر نہیں بدلے اور ان کے حالیہ تمام بیانات اور احکامات میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔ نواز شریف کے قول و فعل کا تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میاں صاحب اداروں کی سیاست میں مداخلت تو چاہتے ہیں لیکن صرف اپنے حق میں۔ ناقدین کے بقول نواز شریف کو معلوم ہے ماضی میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے الیکشن جیتے اور آئندہ بھی کوئی الیکشن وہ پولیٹیکل انجینرنگ کے بغیر نہیں جیت پائیں گے۔ اس لیے ان کی تنقید کا نشانہ چند فوجی افسران ہیں جو عمران خان کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لائے اور اب بھی اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یعنی میاں صاحب کا فوج کے ادارے سے کوئی اختلاف نہیں بلکی چند افراد سے ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی ماننا ہے کہ میاں صاحب کی جانب سے چند سینئر فوجی افسران کا نام لے کر شدید تنقید کا بنیادی مقصد ان کو عمران خان کی حمایت سے روکنا ہے۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران کی حمایت روک دے اور اپوزیشن کو ایک فیئر چانس دے کہ وہ وزیراعظم کے خلاف تحریک چلا کر انہیں اقتدار سے باہر کردے۔ نواز شریف کے ناقدین کا اصرار ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ پر اس لئے کھلی تنقید کررہے ہیں تاکہ ماضی کی طرح اپنی نااہلی ختم کروا کر یا تو خود وزیراعظم بن جائیں یا اپنی بیٹی مریم نواز کو وزیر اعظم بنوا سکیں۔ لہذا نواز شریف کی ذات اور طرزِ سیاست پر تنقید کرنے والوں کو بھی یقین نہیں کہ نوازشریف حقیقی انقلابی بن چکے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وقت بدلا تو میاں صاحب دوبارہ بدل جائیں گے۔
یاد رہے کہ نواز شریف ملک کے سابق وزیر اعظم اور دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد ہیں۔ وہ تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔ نواز شریف لاہور کے ایک امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے بی اے کیا اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔
نوازشریف کا سیاسی کیریئر جنرل محمد ضیاءالحق کے دور میں شروع ہوا جب وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء ميں پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرِخزانہ شامل ہو گئے۔ ضیا دور میں 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبليوں کی سيٹوں پہ بھاری اکثريت سے کامياب ہوئے۔ 9 اپريل ،1985ء کو انھوں نے پنجاب کے وزيرِاعلٰی کی حيثيت سے حلف اٹھايا۔ 31 مئی 1988ء کو جنرل ضياء نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا تاہم نواز شريف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔
1990ء میں نواز شریف نے آئی ایس آئی کے تخیلق کردہ اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی، عام انتخابات میں کامیاب ہوئے اور وزیر اعظم بنے۔
نواز شریف کی پہلی حکومت کو غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا، جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ء کو منصف اعلیٰ نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء میں ایک معاہدے کے تحت استعفا دے دیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدا چھوڑنا پڑا۔
نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ لیکن نوازشریف کی فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہو پائے جس کے نتیجے میں اکتوبر 1999ء میں میاں صاحب نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاالدین کو نیا فوجی سربراہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن فوج کا سیاسی کردار کم کرنے کی یہ کوشش ان کے لیے آفت بن گئی اور فوجی بغاوت کے بعد ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا، جو "طیارہ سازش کیس” کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ تاہم میاں صاحب ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب جلاوطنی میں چلے گئے۔ انہوں نے 2006ء میں لندن میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور مشرف کی فوجی حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
23 اگست، 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔ 2007 کی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے دباؤ کے نتیجے میں 25 نومبر، 2007ء کو لاہور پہنچ گئے۔2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بنا پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس بار اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو اقتادر سے بدخل کرنے کے لئے عدلیہ کا سہارا لیا اور ان کو پاناما کیس میں دھر لیا۔ تاہم ہم نواز شریف کو پانامہ کیس میں نہیں بلکہ اقامہ رکھنے کے کیس میں مجرم قرار دے دیا گیا اور یوں وہ 28 جولائی 2017ء کو بطور وزیر اعظم نااہل قرار پائے۔ اس فیصلے کے بعد نواز شریف ایک بڑے جلوس کے ساتھ براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور پہنچے اور کہا کہ اب وہ ووٹ کی عزت بحال کرنے کا ایجنڈا لے کر آگے چلیں گے۔
تاہم ان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد انہیں علاج کی غرض سے لندن جانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اب وہ بیرون ملک بیٹھے فوجی قیادت پر تابڑ توڑ تنقید کے تیر برسا رہے ہیں۔ حکومت اور فوج کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی جلد وطن واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ ان کے ناقدین کا اصرار ہے کہ اگر میاں صاحب واقعی پکے انقلابی اور باغی بن چکے ہیں تو پھر وہ ملک واپس آکر مقدمات اور جیلوں کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔ لیکن میاں صاحب کا موقف ہے کہ اگر وہ پاکستان آکر جیل میں قید ہو جائیں تو پھر وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو آگے کیسے بڑھائیں گے۔
ان حالات میں بلاشبہ آج نواز شریف اپنی سیاسی زندگی کے اس مقام پر ہیں جہاں ان کا ہم پلہ کوئی اور سیاسی لیڈر نہیں ہے۔ پاکستان کی اندرونی سیاست، اداروں کی سوچ اور غیر ملکی قوتوں کے عزائم کو ان سے بہتر شاید ہی کوئی سمجھتا ہو۔ شاید اس لئے ان کے قریبی رفقا یہ سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ نواز شریف اپنی کشتیاں جلا کر پاکستان کے لئے کچھ ایسا کر جانے کے موڈ میں ہیں کہ ان کا نام ہمیشہ کے لیے پاکستان کے عظیم لیڈروں کی فہرست میں شامل ہو جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button