دہری شہریت کے حامل افراد کب اسمبلیوں کا حصہ بن سکیں گے؟

وزیراعظم عمران خان نے اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ایک اور دعوے سے یوٹرن لے لیا ہے۔ ماضی میں دوہری شہریت کے حامل افراد کو سیکیورٹی رسک قرار دے کر فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو ہدف تنقید بنانے والے عمران خان نے دوہری شہریت کے حامل افراد کو اپنی کابینہ کا حصہ بنانے کے بعد اب انھیں پارلیمنٹ کا حصہ بنانے کے لیے قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات کے آئینی ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد بل کو باضابطہ منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ دوسری طرف اپوزیشن نے دوہری شہریت کے حامل افراد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے لیے قانون سازی کرنے کے حکومتی فیصلے کو کپتان کے قریبی رفقاء کو نوازنے کا ایک اور بہانہ قرار دے دیا ہے۔
کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے ڈرافٹ بل میں سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے بجائے ’اوپن بیلٹنگ‘ کے تحت کروانے اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈرافٹ بل کے مطابق انتخابات میں کامیابی کی صورت میں امیدوار کو 60 روز کے اندر حلف لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایسے کامیاب امیدوار جو 60 روز کے اندر رکن پارلیمنٹ کا حلف نہیں اٹھاتے تو ان کی سیٹ خالی تصور کی جائے گی۔مجوزہ بل کی دستاویز کے مطابق آئین کے آرٹیکل 59 کی شق 2 اور آرٹیکل 226 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔ جس کے تحت سینیٹ کے انتخابات وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کی طرح خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹنگ کے ذریعے ہوں گے۔مجوزہ بل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 63 کے سیکشن سی میں ترمیم کی تجویز شامل ہے۔ جس کے بعد دوہری شہریت کے حامل پاکستانی بھی قومی اسمبلی یا سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ دوہری شہریت رکھنے والے امیدواروں کو الیکشن میں کامیابی کی صورت میں رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر کا حلف اٹھانے سے قبل دوہری شہریت ترک کرنے کا سرٹیفیکٹ جمع کروانا ہوگا۔ آئینی ترمیمی بل میں ممبر قومی اسمبلی یا سینیٹر کو 60 روز کے اندر حلف اٹھانے کا پابند بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ پہلے اجلاس کے انعقاد کے بعد 60 روز تک حلف نہ اٹھانے والے کامیاب امیدواروں کی نشست خالی قرار دے دی جائے گی۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے سمندر پار پاکستانیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔1973 کے آئین کا آرٹیکل 63 دوہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکتا ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظور کردہ بل کی منظوری اورایسی کسی بھی ترمیم کی منظوری کے لیے پالیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت کو دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے مطابق وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کیا وعدہ پورا کر دیا ہے اور اب انہیں الیکشن لڑنے کا حق دیا جانے والا ہے۔ بار بار سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے وزیراعظم کے غیر منتخب مشیر بابر اعوان نے مذید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کا وعدہ کیا تاہم معاملہ وعدوں سے آگے نہیں پہنچایا جا سکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم متعلقہ آئینی ترمیم کی منظوری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے۔ نئی ترمیم کے تحت دوہری شہریت کا حامل شخص بھی الیکشن لڑنے کا اہل ہو گا۔ الیکشن ہارنے کی صورت میں دوہری شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن الیکشن جیتنے کی صورت میں عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے متعلقہ شخص کو شہریت چھوڑنا ہوگی۔‘
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے حکومت کے فیصلے کی بڑی وجہ وزیر اعظم عمران خان کے قریب رفقاء کو سہولت فراہم کرنا قرار دیا ہے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ‘یہ فیصلہ صرف ایک شخص زلفی بخاری کے لیے کیا جا رہا ہے جس نے اپنی دوہری شہریت چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ احسن اقبال کی ٹویٹ پر زلفی بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘احسن اقبال کو خوف زدہ ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق میری وجہ سے نہیں دیا جا رہا۔ ایک کروڑ سے زائد اوورسیز پاکستانی ملکی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں اور میں نے جب بھی الیکشن لڑا پاکستانی پاسپورٹ پر لڑوں گا۔ لیکن نواز لیگ کو اوورسیز پاکستانیوں کے خلاف ایجنڈا روکنا چاہیے۔
تاہم ایسا لگتا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود سمندر پار پاکستانیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑے گا۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق آئین کا آرٹیکل 63 دوہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکتا ہے جس میں ترمیم کرنا ہوگی۔ پارلیمانی طریقہ کار کے تحت آئینی ترمیم بل کی صورت میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت سے منظور کروانا ہوگی۔ آئینی ترمیمی بل پہلے ایک ایوان میں پیش کیا جائے گا اور قواعد کے تحت متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے گا جو بل پر غور کرنے کے بعد اپنی سفارشات اور ترامیم کی صورت میں رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی۔ اسے دو تہائی اکثریت کی حمایت سے ہی منظور کرایا جا سکتا ہے۔ ایک ایوان سے منظوری کے بعد بل اسی طریقہ کار کے تحت دوسرے ایوان سے بھی منظور کرایا جائے گا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ حکومت اس آئینی ترمیم کے لیے اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل کرے۔ جب تک حکومت اور اپوزیشن متفق ہو کر آئینی ترمیم کی منظوری نہیں دیتے سمندر پار پاکستانیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں مل سکتی۔
خیال رہے کہ دہری شہریت کا معاملہ کوئی نیا نہیں۔ ماضی میں سپریم کورٹ کی جانب سے دہری شہریت پر آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت کئی ارکان پارلیمنٹ دہری شہریت پر نااہلی کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2012 میں سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے گیارہ ارکان کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے تمام مراعات اور تنخواہیں واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 پی کے تحت ایسا شخص رکن اسمبلی بننے کا اہل نہیں جس کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہو۔ 23مارچ 2013 کو الیکشن کمیشن کی جانب سے دوہری شہریت پر نااہل قرار دئیے جانے والے سابق ارکان پارلیمان کی فہرست جاری کی گئی جس کے مطابق قومی اسمبلی سے تعلق رکھنے والے پانچ، سندھ اسمبلی سے تعلق رکھنے والے دو اور پنجاب اسمبلی کے پانچ ارکان کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ 2018 کے اوائل اور الیکشن سے قبل دوہری شہریت کا معاملہ دوبارہ موضوع بحث بنا تو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا اور 17 اکتوبر 2018 کو پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ہارون اختر اور سینیٹر سعدیہ عباسی کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس وقت عدالتی احکامات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں دوہری شہریت اور غیرملکی شہریت کے حامل 1116 افسران کام کر رہے ہیں جب کہ ایک ہزار 2سو 49 افسران کی بیگمات دوہری شہریت اور غیرملکی شہریت کی بھی حامل ہیں۔
15 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے فیصلے میں غیر ملکی شہریت رکھنے والے سرکاری ملازمین کو ریاست پاکستان کے مفاد کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت کو دوہری شہریت سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی مخالفت کے باعث یہ قانون سازی اج تک نہ ہو سکی۔
ماضی میں دوہری شہریت پر متعدد سیاسی رہنماؤں کیخلاف درخواستیں دائر ہو چکی ہیں۔ 2018 میں ہی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کی تعیناتی کی چینلج کیا گیا تھا لیکن عدالت نے ان کی تعیناتی کو وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار قرار دیتے ہوئے ان کی اہلیت اور عہدے سے ہٹانے سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی جبکہ موجودہ وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کی دوہری شہریت پر نااہلی کیلئے درخواست پر الیکشن کمشن میں سماعت ناگزیر وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہے۔ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں این اے 249 سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ گزشتہ سال جنوری میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دوہری شہریت کو چھپایا تھا۔
دوسری طرف 2020 میں وزیر اعظم عمران خان کے معاونین کی دہر شہریت سامنے آنے کے بعد اپوزیشن نے سخت ردعمل دیا اور اپوزیشن کی طرف سے دوہری شہریت کے حامل افراد کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے ان کو فوری عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماوں کا کہنا تھا کہ دوہری شہریت کے حامل افراد کو فیصلہ سازی میں شریک کرنا مفادات کا ٹکراؤ ہے، یہ فصلی بٹیرے پیراشوٹ کی طرح آئے ہیں اور پیراشوٹ کی طرح چلے جائیں گے۔ جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی. لیکن حکومت کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ زلفی بخاری کیس میں قرار دے چکی ہے کہ معاون خصوصی یا مشیران کی تعیناتی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے اور آئین دوہری شہریت کے حامل کسی بھی فرد کو معاون خصوصی یا مشیر تعینات کرنے سے نہیں روکتا۔
لیکن یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان ماضی میں خود دوہری شہریت کے حامل افراد کے اسمبلی اور کابینہ میں بیٹھنے کو سیکیورٹی رسک اوراپنے مفادات کے محافظ قرار دییتے رہےہیں جبکہ اب کپتان نے خود اپنے دعوؤن پر سے یوٹرن لیتے ہوئے دہری شہریت کے حامل افراد کے الیکشن میں حصہ لینے کیلئے قانون سازی کرنے کا حکم صادر فرما دیا ہے۔
