دہشت گردوں کی دھمکیاں: عدالت کا بلاول کو سکیورٹی دینے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے بدھ کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ اور سیکرٹری وزارت داخلہ کو بلاول بھٹو کی سکیورٹی فراہم کرنے کے تمام انتظامات کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو عوامی مقامات پر مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات کے ساتھ ساتھ ذاتی گارڈ اور کالے شیشوں والی گاڑی استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کو سات سال پہلے سیاسی رہنماؤں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی، مگر تاحال اس سے متعلق کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں کی گئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ رپورٹس سے لگتا ہے بلاول بھٹو زرداری کی جان کو خطرات لاحق ہیں، ہماری نظر میں بلاول بھٹو کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنا بہت ضروری ہے اور ایسی صورت حال میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جاسکتی۔ یہ کہ مختلف دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو قتل کرنے اور ان کے رہائش گاہ کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں، اس لیے انہوں نے سکیورٹی کےلیے عدالت سے رجوع کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کو کب اور کس دہشت گرد تنظیم نے دھمکی دی، اس سوال کے جواب میں اختر حسین نے کہا کہ کس دہشت گرد تنظیم نے ایسی دھمکی دی، یہ تو خفیہ ادروں کو پتہ ہوگا، انہوں نے صرف یہ کہا ہے کہ مختلف دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بلاول بھٹو کو کبھی کہیں بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق: ’یہ دھمکی کوئی نئی نہیں ہے، بلاول بھٹو کو کئی سال سے ایسی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ 2016 میں دھمکی ملنے کے بعد عدالت میں پٹیشن دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے، انہیں سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ‘
دوسری جانب بلاول ہاؤس کراچی سے جب رابطہ کیا گیا تو بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے ترجمان سریندر ولاسائی نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو ملنے والی دھمکیاں نئی نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔ بلاول بھٹو کو دہشت گرد کی جانب سے ملنے والی کھلی دھمکیاں ریکارڈ پر ہیں۔ پی پی پی کی دہشت گردی مخالف واضح پالیسی ہے۔ بلاول بھٹو کو سکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
