دہشت گردی کے بعد افغان مہاجرین کو نکالنے کا عمل تیز

تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور اس سے متصل قبائلی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے اور انہیں بڑی تعداد میں افغانستان واپس بھجوایا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سال رواں کے دوران 6 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کو گرفتار کیا ہے جن میں بعض کے خلاف 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں ڈی پورٹ کیا گیا جبکہ دہشت گردی ، قتل، ڈکیتی، راہزنی اور دیگر مقدمات میں ملوث افغانوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں چودہ لاکھ افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں غیر قانونی طور پر پاکستان کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر افغان ہیں ۔ ان کی زیادہ تعداد خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ عسکریت پسندوں کے زیادہ تر لیڈر فغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں سرگرم ہیں۔
غیرملکی ویب سائٹ ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق پشاور سٹی پولیس کے سپرنٹنڈنٹ عبدالسلام خالد کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد غیر قانونی طور پاکستان میں رہائش پذیر افغانوں کے خلاف آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔ نامکمل دستاویزات رکھنے والے افغانوں کو گرفتار کرکے ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے اور ان میں سے کچھ لوگوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح آجکل سٹریٹ کرائمز اور بھتہ خوری میں اضافہ ہوا اس طرح کی وارادات میں بعض غیر قانونی افغان طور پر یہاں رہنے والے مہاجرین ملوث پائے گئے ہیں۔ انہیں گرفتار کرکے قانون کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شہریوں سے گن پوائینٹ پر نقدی اور موبائل فون چھین کر ایک مخصوص گروپ کو فروخت کیے جاتے ہیں جو انہیں افغانستان سمگل کرتا ہے۔ اسی طرح افغان موبائل سم استعمال کرنے والے بعض مہاجرین بھتہ خوری کے لیے کالز میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ اس لیے مشکوک افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھجوانے کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور میں تین طرح کے افغان مہاجرین موجود ہیں جن میں سیٹیزن کارڈ رکھنے والے، غیر قانونی رہائش پذیر اور جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے شامل ہیں۔ جو افغان جعلی شناختی کارڈ پر کاروبار کرتے ہیں وہ مارکیٹ کے بڑے تاجروں کے ساتھ روابط استوار کرکے انکی انفارمیشن آگے پاس کرتے ہیں جسکے بعد کاروباری لوگوں کو بھتے کی کالز آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ بھتے اور اغوا کے ڈر سے کئی بڑے تاجر پشاور چھوڑ کر اسلام آباد اور لاہور منتقل ہوچکے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی میں ملوث طالبان کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان اور افغان سرحد پر۔2017 ء میں باڑھ لگانے کا کام شروع کیا تھا۔ 26 سو کلو میٹر طویل باڑھ پر تقریباً 94 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے حالانکہ افغانستان کی ہر حکومت نے اس کی مخالفت کی ہے۔ طالبان کی حکومت نے بعض مقامات پر حفاظتی باڑھ کا کچھ حصہ کاٹ بھی دیا یے۔ اسکے علاوہ افغان باشندے سرحد پر تعینات پاکستانی اہلکاروں کی ملی بھگت سے بھی سرحد کراس کر کے پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔ سرحد پر تعینات اداروں کے پاس یہاں آنے والوں کا کوئی ریکاڑد نہیں ہوتا کہ جس سے قانون نافذ کرنے والوں کو یہ اندازہ ہوسکے کہ کون کہاں رہائش پذیر ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جہاں ہزاروں افغان یورپ، امریکہ اور مڈل ایسٹ چلے گئے وہاں ان کی ایک بڑی تعداد پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر تعلیم یافتہ افغان ہیں جو یورپ جانے کے لیے پشاور اور اسلام آباد میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے ہیں۔
