دہشت گرد حملے پاک چین سی پیک منصوبے کو لے بیٹھے

پاکستان میں چینی شہریوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے پاک چین سی پیک منصوبے کی رفتار بھی بری طرح متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں چینی شہریوں اور بلوچستان کے جنوبِ مغرب میں بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے بعد سی پیک پر کام کی رفتار پہلے کے مقابلے میں سست روی کاشکار ہو گئی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں ایسے چینی شہری جو سی پیک منصوبوں سے وابستہ تھے اپنے ملک واپس چلے گئے ہیں، اسکے علاوہ جن منصوبوں پر کام جاری ہے ان میں بھی افرادی قوت کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سی پیک منصوبوں سے جڑے ایک ترجمان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سی پیک پراجیکٹس پر حالیہ حملوں کا تین طریقے سے اثر پڑا ہے۔ پہلا یہ کہ چینیوں میں ڈر بیٹھ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ واپس جا رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ موجودہ منصوبوں کے دوسرے فیز کے لیے اب چین سے زیادہ لوگ درکار ہیں لیکن ان میں یہاں آنے کے بارے میں خوف ہے۔تیسرا یہ کہ جاری منصوبوں والے ایریاز میں لوگوں کی آمدورفت کو محدود کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کام کے گھنٹے پورے نہیں ہو پاتے اور منصوبوں کو پورا کرنے میں پہلے سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ حکومت کی سی پیک ویب سائٹ کے مطابق اس وقت سی پیک کے تحت منصوبوں کی تعداد 21 ہے، جن میں سے 10 پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ چھ منصوبے زیرِ تعمیر ہیں اور باقی رہ جانے والے زیرِ غور ہیں۔
ان تمام جاری منصوبوں میں ہائیڈرو پاور، سولر، تھر کول، کوئلہ اور وِنڈ پاور منصوبوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان میں 70 فیصد منصوبوں میں سرمایہ بجلی میں لگایا گیا ہے اور زیرِ غور منصوبوں میں بھی بجلی کے منصوبے زیادہ ہیں۔ سی پیک منصوبوں پر لگنے والی رقم 49 ارب ڈالر ہے۔ اس سے پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے متعدد بار یہ رقم 62 ارب بتائی گئی تھی لیکن چند منصوبوں کے کم ہونے کی وجہ سے اب یہ رقم 49 ارب ڈالر ہے۔ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان کا بجٹ متعارف کراتے ہوئے تقریباً 14 نکات پر خاص زور دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک سی پیک کے تحت نئے منصوبے شروع کرنے کے بارے میں تھا، جس کے بارے میں حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان منصوبوں کے لیے مزید فنڈز جاری کیے جائیں گے اور ان پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔
لیکن سی پیک کے منصوبوں پر کام کرنے والے وفاقی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ چینی حکام نے خاصے واضح الفاظ میں حکومت کو کہا ہے کہ وہ ’پہلے سے جاری منصوبوں کو نمٹانے کے بعد ہی کسی نئے منصوبے پر بات کریں گے۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پچھلے تین سال میں عمران دور حکومت میں کسی نئے منصوبے پر کام شروع نہیں کیا گیا اور اس بات کا تعین کہ حکومت کسی نئے منصوبے کے لیے فنڈز جاری کرے گی یا نہیں وہ جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی یعنی جے سی سی کی ایپکس میٹنگ کے ذریعے ہی طے ہو گا۔‘
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے محتاط رویے کی ایک واضح کڑی حالیہ مہینوں میں چینی افراد پر ہونے والے حملوں سے جڑتی ہے۔ رواں سال جنوری سے بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے جاری حملوں میں سے ایک حملہ کراچی یونیورسٹی میں چینی انسٹیٹیوٹ پر اپریل میں ہوا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ایک اثر یہ پڑا کہ منصوبوں پر کام کرنے والے چینی مزدوروں یا انجینئرز کو فوری طور پر پاکستان سے واپس چین بھیج دیا گیا اور افسران کو اسلام آباد تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ چینی افراد اپنی حفاظت کے بارے میں خاصے پریشان ہیں اور ہر حملے کے بعد چینی حکام ایک نئی ریڈ لائن بڑھا دیتے ہیں۔ اس بار انھوں نے اپنی حفاظت کا انتظام خود کرنے کی بات کی اور اپنی سکیورٹی کمپنیاں پاکستان لانے کی اجازت مانگی۔ لیکن اب تک پاکستان کی حکومت نے ان کا یہ مطالبہ منظور نہیں کیا۔
