ذہنی تناؤاورجِلدکےمسائل کےمابین حیرت انگیزتعلق

موجودہ دورمیں تناؤ ہم سب کی زندگیوں کاایک حصہ بن گیا ہےتوایسا کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم سب لوگ اپنی زندگیوں میں کسی نا کسی وجہ سےذہنی تناؤ کا شکاررہتے ہیں۔ ذہنی تناؤ کاہمارے پورےجسم پر گہرااثرپڑتا ہے،اگرکوئی انسان مسلسل ذہنی تناؤ کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہےتویہ اس کےقوتِ مدافعت کے نظام، نظامِ ہاضمہ،میٹابولزم اورہارمونس کےلیےبھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
علاوہ ازیں مسلسل ذہنی تناؤکی کیفیت امراضِ قلب،موٹاپا، ڈپریشن اوردماغی بیماریوں کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ ہم میں سےبہت ہی کم لوگ اس حقیقت سےواقف ہوں گےکہ تناؤاورجِلد کا براہِ راست تعلق ہے، اگرآپ کواپنی جِلد ضرورت سےزیادہ خشک یاچہرےپرریشزنظرآنےلگیں توہوسکتا ہےکہ اس مسئلےکی ایک وجہ تناؤہو۔
depration 2
آپ کویہ بات تومعلوم ہی ہوگی کہ تناؤکا ہماری دماغی صحت پرکیا اثرپڑتاہے،لیکن کیا آپ یہ جانتےہیں کہ اچانک سےصاف ستھری جِلد پرایک پمپل (دانہ)نکل آئےتواس کی ایک وجہ تناؤبھی ہوسکتی ہے۔ مسلسل تناؤکی کیفیت مبتلارہنےکی وجہ سےجِلد کےمسائل ہونا شروع ہوجاتےہیں۔ کولمبیا ایشیا اسپتال کی ماہرِجِلد ڈاکٹرکسومیکا کاناک کا کہنا ہےکہ جب کوئی بھی شخص تناؤکی کیفیت میں مبتلاہوتا ہےتواس کےجسم میں ایڈرینالِن پیداہوتاہےجوجِلد کوحساس بنادیتا ہے۔
ان کا کہنا ہےکہ تناؤ ناصرف جِلدکےمسائل کاباعث بنتا ہےبلکہ اگرآپ کوپہلےہی جِلد سےمتعلق مسائل کا سامنا ہےتوتناؤ کی وجہ سےصورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ تناؤپرقابو پانےکا سب سےبہترین حل مراقبہ اوریوگا ہے،اپنےدن میں سےکچھ وقت نکال کرمراقبہ اوریوگا کرنےسےاس کیفیت پرقابوپایا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button