رانا شمیم کے نواز شریف سے براہِ راست رابطے سامنے آ گئے


گلگت بلتستان کے سابق جج رانا محمد شمیم کے بحیثیت ن لیگی عہدیدار اور پارٹی وکیل کے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ساتھ دیرینہ اور قریبی تعلقات ہیں۔ اس بات کا انکشاف رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے معروف اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں کیا۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار پر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کرپشن ریفرنسز میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج پر مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔
رانا شمیم کے وکیل بیٹے احمد حسن رانا کا شاہزیب خانزادہ کے ٹی وی پروگرام میں کہنا تھا کہ ان کے والد نواز شریف کے ساتھ ’براہِ راست رابطے‘ میں ہیں بلکہ انہوں نے کرونا وبا کے پھیلاؤ سے قبل مسلم لیگ کے قائد سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ رانا شمیم نوازشریف کے خرچے پر لندن میں رہائش پذیر ہیں تاہم دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ رانا شمیم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے کے بعد 16 نومبر کے روز نیویارک سے وطن واپس پہنچ گئے تھے۔ احمد حسن نے تسلیم کیا کہ ان کے والد جسٹس شمیم ماضی میں مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر اور میموگیٹ اسکینڈل میں بھی نواز شریف کے وکیل رہے۔
شو کے دوران احمد حسن رانا نے اپنے والد کی جانب سے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ 2018 میں نواز شریف کی حراست کے وقت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تھے اور جیل میں ان سے ملاقات بھی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد رانا شمیم کی نواز شریف سے آخری مرتبہ ملاقات کرونا وائرس پھیلنے سے قبل برطانیہ کے دورے کے دوران ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا شمیم نواز شریف کے وکیل رہے ہیں اس لیے ان کے پرانے تعلقات ہیں، اور ایک دوسرے سے براہِ راست رابطے بھی ہیں۔
دلچسپ بات یہ یے کہ جیو کے لائیو پروگرام کے دوران احمد حسن رانا اپنے والد جسٹس ریٹائیرڈ شمیم کو ایک کال پر لائیو لیتے ہوئے نظر آئے تاکہ ان سے نواز شریف سے ملاقات کے بارے میں پوچھا جا سکے، لیکن پھر شاہزیب خانزادہ کو بتایا کہ ان کے والد نے جواب میں ’نو کمنٹس‘ کہا ہے۔ تاہم انہوں نے رانا شمیم کا ایک پیغام پڑھ کر سنایا جس میں سابق جج نے کہا تھا کہ انہوں نے کسی صحافی کو بیان حلفی فراہم نہیں کیا تھا اور ہو سکتا ہے کہ یہ لندن میں نوٹری پبلک کے دفتر سے ’لیک‘ ہوا ہو جس نے ان کی دستاویز کی تصدیق کی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے احمد حسن رانا نے کہا کہ ان کے والد 26 نومبر 2021 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس معاملے کی آئندہ سماعت میں پیش ہوں گے۔
دوسری جانب اے آر وائے نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے احمد حسن نے اینکر کاشف عباسی کو بتایا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ لندن کے دورے میں ان کے والد نے میاں ثاقب نثار کے حوالے سے کوئی بیان دیا تھا یا نہیں، اور یہ کہ انہوں نے رانا شمیم کا اصلی بیانِ حلفی نہیں بلکہ صرف اسکی تصویر دیکھی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اس بارے میں سب سے پہلے سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے بتایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انکے والد کے بیان حلفی کو لندن میں کیوں نوٹرائزڈ کروایا گیا تو انہوں نے جواب دیا ’نو کمنٹس‘۔
احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے حل کے لیے ’خصوصی‘ سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل دی جانی چاہیے کیوں کہ اس میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس اور گلگت بلتستان کے اعلیٰ جج شامل ہیں۔ البتہ احمد حسن رانا نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ ان کے والد نے اپنا بیانِ حلفی سپریم جودیشل کونسل جیسے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کے پاس کیوں نہیں جمع کروایا۔
رانا شمیم کے بیانِ حلفی کی ٹائمنگ بارے حسن نے کہا کہ انہیں تفصیل معلوم نہیں ہے اور اس بارے میں بحیثیت وکیل انہیں اپنے والد سے بات کرنا یو گی۔ دوسری جانب احمد حسن رانا کے بیان پر مسلم لیگ (ن) کے مصدق ملک نے کہا ہے کہ انہیں یہ سب ’دلچسپ اور مزاحیہ‘ لگا، انہوں نے معاملے کی خامیوں پر گفتگو کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم کو خود اسلام آباد ہائی کورٹ جا کر جواب دینا تھا۔ انکا۔کہنا تھا کہ اگر ’وسیع تناظر‘ میں دیکھا جائے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی اور احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک نے بھی عدالتی معاملات میں مداخلت کی جانب نشاندہی کی تھی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ رانا شمیم کے بیٹے کی شاہ زیب خانزادہ اور کاشف عباسی کے پروگرام میں گفتگو غیر ضروری تھی اور اس نے جسٹس ثاقب نثار کے خلاف الزامات کی ساکھ کو مجروح کیا یے۔
خیال رہے کہ 15 نومبر کو انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے ایک مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق کو ہدایت دی تھی کہ 2018 کے انتخابات سے قبل کسی قیمت پر بھی نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی نہیں ہونی چاہیے‘۔

Back to top button