علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کی حالت نازک

اپنے مرحوم والد علی سدپارہ کی جانب سے کیے جانے والے معاہدے کو پورا کرنے کی کوشش میں نامور کوہ پیما ساجد سدپارہ کی حالت ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے دوران شدید خراب ہو گئی جسکے بعد انہیں بیس کیمپ واپس پہنچا دیا گیا۔ ساجد سدپارہ 70 سالہ فرانسیسی کوہ پیما مارک بیٹرڈ کی مہم میں شریک تھے جن سے ساجد سدپارہ کے مرحوم والد علی سدپارہ نے مہم جوئی کا معاہدہ کر رکھا تھا۔
الپائن کلب کے سیکرٹری کرار حیدری نے بتایا کہ ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کے قریب ساجد سد پارہ کی طبیعت ناساز ہو گئی اور انکا سانس بند ہو گیا جس کے بعد ان کے ساتھی ساجد سدپارہ کو باندھ کر بیس کیمپ سے واپس لایا گیا ہے۔ کرار حیدری کے مطابق ساجد سد پارہ بلندی میں آکسیجن کی کمی کے باعث کوما۔میں چکے گے تھے اور انکی یادداشت بھی متاثر ہوئی تھی۔ انکا۔کہنا تھا کہ اس حالت میں عمومی طور پر مریض ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے، اور اسے لوگوں کو پہچاننے میں کافی دشواری ہوتی ہے جبکہ بعض اوقات پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے کا بھی خدشہ ہوتا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ ساجد سدپارہ کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے مختلف ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ ان کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
کرار حیدری نے بتایا کہ مارک بیٹرڈ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا معاہدہ مرحوم علی سد پارہ نے کیا تھا اور ساجد سد پارہ اسی سلسلے میں اس مہم جوئی پر تھے۔ ساجد کے قریبی ساتھیوں سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سال موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران علی سد پارہ کے انتقال کے بعد ساجد سد پارہ کافی زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔
واضح رہے کہ ساجد سد پارہ اپنے والد کے ہمراہ اس مہم میں شریک تھے تاہم آکسیجن کی کمی کے باعث ان کی طبیعت بگڑنے پر ان کے والد علی سد پارہ نے انہیں واپس بھیج دیا تھا۔ ساجد سد پارہ کے ساتھیوں کے مطابق انہیں اس مہم کے دوران واپس لوٹنے اور والد کے انتقال کا شدید صدمہ پہنچا ہے اور اس کے لیے انہیں ڈاکٹرز نے ادویات بھی تجویز کی ہیں۔
سیکرٹری الپائن کلب کرار حیدری نے بتایا کہ اس مہم کے دوران فرانسیسی کوہ پیما کے ساتھ ان کے بیٹے بھی شریک ہیں اور اس مہم میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے محفوظ ترین راستہ تلاش کیا جا رہا تھا کیونکہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرتے ہوئے برفانی تودے گرنے کی وجہ سے کافی زیادہ مشکلات رہتی ہیں۔سیکرٹری الپائن نے بتایا کہ اس وقت ساجد سد پارہ کی حالت بہتر ہے اور گذشتہ دنوں کے ٹو سر کر کے اپنی فٹنس ثابت کر دی ہے ، ہم اُمید کرتے ہیں ساجد سدپارہ جلد صحت یاب ہو کر کوہ پیمائی میں پاکستان کا پرچم بلند کریں گے۔
