مشترکہ اجلاس، الیکشن ایکٹ ترمیمی بل سمیت متعدد متنازع بل منظور

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور کلبھوشن یادیو سمیت مختلف بلز منظور کرلیے گئے۔
ایوان میں مختلف بلز پر رائے شماری ہوئی جس میں حکومت نے اپوزیشن کو 203 ووٹ کے مقابلے میں 221 ووٹ لے کر 18 ووٹوں سے شکست دے دی۔سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں مشترکہ اجلاس ہوا تو ایجنڈا شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور نعرے بازی کی، ایجنڈے میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور کلبھوشن یادیو سے متعلق بل سمیت 27 بلز شامل تھے۔
مشیر وزیراعظم بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ حکومت اور اپوزیشن کے آئینی ماہرین نے سپیکر ڈائس پر مشاورت کی، جس میں فروغ نسیم، رضا ربانی، اعظم نذیر تارڑ اور شیری رحمان شامل تھے۔ اس دوران انتخابی ترمیمی بل کی تحریک پر گنتی ہوتی رہی۔
الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2021 کے تحت 2017 کے الیکشن ایکٹ میں دو ترامیم تجویز کی گئی ہیں جو کہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق ہیں۔بل منظور ہونے پر وزیر اعظم عمران خان سمیت حکومتی ارکان پارلیمنٹ نے ڈیسک بجا کر خوشی کا اظہار کیا جبکہ اپوزیشن نے اس کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
قبل ازیں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی۔انتخابی اصلاحات کی تحریک کے حق میں 221 جبکہ مخالفت میں 203 ووٹ آئے۔ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے اعتراض اٹھایا جس پر اسپیکر نے دوبارہ گنتی کرنے کی ہدایت کی۔تاہم گنتی کے دوران ایوان میں شدید بےنظمی پیدا ہوگئی اور اپوزیشن اراکین اسپیکر ڈائس کے سامنے آگئے اور حکومت و وزیر اعظم کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ایوان میں گرما گرمی کے باعث سارجنٹ ایٹ آرمز نے وزیر اعظم کو اپنے حصار میں لے لیا جبکہ اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دیگر مندرجہ ذیل بلز بھی منظور کیے گئے۔
بھارتی جاسوسی کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غور مکرر بل2021
اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن ترمیمی بل 2021
مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کے 2 بلز
نیشنل کالج آف آرٹس انسٹی ٹیوٹ بل
اسلام آباد میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن، انضباط کا بل
انسداد ریپ (انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) بل2021
حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ منیجمنٹ سائنس بل 2021
اسلام آباد میں تجدید کرایہ داری ترمیمی بل 2021
فوجداری قانون ترمیمی بل 2021
کارپوریٹ کمپنیز ترمیمی بل 2021
مالیاتی اداروں کی محفوظ ٹرانزیکشن ترمیمی بل 2021
فیڈرل پبلک سروس کمیشن قواعد کی تجدیدی بل 2021
یونیورسٹی آف اسلام آباد بل 2021
زرعی، کمرشل اور صنعتی مقاصد کے لیے لون سے متعلق ترمیمی بل 2021
کمپنیز ترمیمی بل 2021
نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن ترمیمی بل 2021
اکادمی ادبیات پاکستان ترمیمی بل 2021
پورٹ قاسم اتھارٹی ترمیمی بل 2021
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی بل 2021
گوادر پورٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2021
میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی ترمیمی بل 2021
نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2021
کووڈ-19 بل 20121
الکرم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ بل 2021
اسلام آباد وفاقی حدود میں جسمانی تشدد پر سزا سے متعلق بل 2021
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں مجموعی طور پر 33 بل منظور کیے گئے، جن میں 2 بل اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے۔اپوزیشن کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سید جاوید حسنین نے الکرم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ بل 2021 وار مہناز اکبر عزیز کی جانب سے اسلام آباد وفاقی حدود میں جسمانی تشدد پر سزا کا بل پیش کیا گیا۔بعد ازاں اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔
مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر مراد سعید اور عامرلیاقت کی مرتضی جاوید عباسی کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں شدید بدنظمی اور دھکم پیل ہوئی تو سیکیورٹی اسٹاف نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی۔بابر اعوان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر رائے شماری کے لیے ترمیمی بل ایوان میں پیش کر دیا۔ اسپیکر نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے وائس ووٹنگ پر ایوان کی کارروائی تیزی سے چلانا شروع کرادی ۔ مرتضی جاوید عباسی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر پر اچھال دیں جس پر اسپیکر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈپٹی اسپیکر رہے ہیں، یہ آپ کی اخلاقیات ہے۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام بلز منظور کرلیے گئے۔ وزیراعظم عمران خان ایوان میں قانون سازی پر مسکراتے رہے۔
آج اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر ڈینگی کا شکار ہونے کے باعث حاضر نہ ہوئے، مسلم لیگ ن کی شائستہ پرویز ملک شوہر کی رحلت کے باعث عدت میں تھیں تاہم انہوں نے اجلاس میں شرکت کی ہے۔ جیل میں قید آزاد رکن علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کی وجہ سے حاضر نہ ہوئے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اپنے بھائی کے انتقال کے باوجود اجلاس میں شریک ہوئے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کیا ہے ؟ ایول وشیز مشین، پاکستانی تاریخ میں اس سے زیادہ فاشسٹ حکومت کبھی نہیں آئی، ہم یہاں پر کوئی غیر قانونی کام نہیں ہونے دیں گے۔شہباز شریف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے، حکومت اور اس کے اتحادی بلز بلڈوز کرانا چاہتے ہیں، چند روز قبل رات کے اندھیرے میں اعلان ہوا کل پارلیمان کا اجلاس ہوگا، پھر اچانک پارلیمنٹ کا اجلاس مؤخر کر دیا گیا، باضمیر اراکین کو داد دیتا ہوں جو حکومتی دباؤ میں نہیں آئے، بلز کو بلڈوز کر کے عوام سے حکومت کو ووٹ ملنا محال ہے، ای وی ایم کے ذریعے سلیکٹڈ حکومت اپنی مدت کوطول دینا چاہتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر کا کہنا تھا کہ یہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، ان کو زیب نہیں دیتا، حکومت کی نیت میں فتور ہے، ایوان کوئی کالا قانون منظور نہیں ہونے دے گا، بل منظور ہوئے تو 22 کروڑ عوام کے ہاتھ ہوں گے اور ان کے گریبان، یہ کالے قوانین منظور کروانا چاہتے ہیں، حکومت کالے قوانین کو روڈ رولر سے پاس کرنا چاہتی ہے، بربادی کا نام تبدیلی ہو گیا، احتساب کا نام انتقام اور ای وی ایم کا نام ایول وشیز ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ اختیارات استعمال کرتے ہوئے اجلاس کو موخر کریں اور اپوزیشن سے مشاورت کریں، دنیا کے 166 ممالک میں صرف 8 ممالک ای وی ایم کو استعمال کرتے ہیں، جرمنی جیسے ملک نے بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو رد کر دیا، حکومت ای وی ایم کو لانے میں بضد ہے، حکومت جتنا زور ای وی ایم کو لانے میں لگا رہی ہے، کاش اس سے آدھی کوشش مہنگائی کم کرنے کیلئے کرتے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی اصلاحات کی منظوری پر عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ قانون سازی ہوئی تو آج سے ہی اگلا الیکشن نہیں مانتے، پوری طرح الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت زبردستی بل پاس کرانا چاہتی ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ووٹ کیلیفورنیا سے کاسٹ ہو اور سبی سے نکلے، آپ مشترکہ اجلاس سے عوام کے ووٹ پر ڈاکا مار رہے ہیں، حکومت کی بدنیتی پر مبنی کوشش ہے کہ وہ کلبھوشن یادیو کو این آر او دے، پی ٹی آئی ایم ایف کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے ای وی ایم کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کیخلاف عدالت جائیں گے، ہم بھی اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں، ہماری اپیل تھی آزاد کشمیر الیکشن کی طرز پر تارکین وطن کو ووٹ کا حق دیا جائے، آپ نے بھارتی جاسوس کو رات کے اندھیرے میں آرڈیننس کے تحت این آر او دیا، پٹرول اور گیس کی قیمت کم کریں، ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ عام پاکستانی آپ کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مشکل میں ہے، پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو پارلیمان اور عدالتی نظام کو جوابدہ ہونا چاہیے، آپ قانون سازی کرنے کی کوشش کر رہے ہو کہ اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کو جوابدہ ہوگا، ہم اسٹیٹ بینک کے معاملے پر بھی عدالت کا رخ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ متنازعہ مردم شماری سندھ، بلوچستان کے حق پر ڈاکا ہے، بہت ضروری ہے اس ہاؤس میں مردم شماری پر سنجیدہ بحث ہو۔
وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم کالا قانون مسلط نہیں کرنا چاہتے بلکہ ماضی کی کالک کو دھونا چاہتے ہیں، اگر عددی اکثریت نہ ہوتی تو بل کیسے پیش کر رہے ہوتے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج ایوان ایسی قانون سازی کرنے جا رہا ہے جس سے ماضی کی خرابیاں تبدیل کر کے شفاف انتخابات کی بنیاد رکھی جائے گی، 1970 کے انتخابات کے بعد ہر الیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، ہم تاریخ سے کب سبق سیکھیں گے اور اپنی سمت کو درست کریں گے، وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سمت کو درست کریں اور شفاف انتخابات کی بنیاد رکھیں، پارلیمنٹ شفاف انتخابی اصلاحات کا ارادہ رکھتی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پاس عددی اکثریت ہے اسی لئے یہ قانون سازی کرنا چاہتے ہیں، آج ہم ایک تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں، ای وی ایم شیطانی حربوں کو دفنانے کیلئے لائی جا رہی ہے، ببانگ دہل کہنا چاہتا ہوں ریاست مدینہ کا تصور ہمارے دلوں میں بستا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اوورسیز پاکستانیوں ووٹ کا حق دینا بھی چاہتے ہیں اعتراضات بھی کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کے ڈالرز قبول ہیں مگر انہیں ووٹ کا حق نہیں دینا چاہتے، ایوان اگر بل منظور کرتا ہے تو اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ اسپیکر صاحب ! اجلاس کو موخر نہ کیا جائے، قائد حزب اختلاف کیا آپ نے ماضی میں اسپیکر ایاز صادق سے پارٹی ممبر شپ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا ؟۔
صدر پاکستان مسلم لیگ نون و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ایک اور خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ میں آپ کے پہلے خط کے مندرجات سے متفق تھا، بطور اپوزیشن لیڈر بل پر اتفاق رائے کیلئے جامع تجویز دی، بدقسمتی سے آپ نے ان تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا۔خط کے متن میں کہا گیا کہ آپ کا جواب نہ دینا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، جواب نہ دینا آپ کے ارادوں کو ظاہر کرتا ہے، آپ کے جانبدارانہ رویے نے ہمارا اعتماد ختم کر دیا، ہمارا مطالبہ ہے مشترکہ اجلاس میں اپنی پوزیشن واضع کریں۔

Back to top button