بشریٰ انصاری اپنی بہن سنبل بن کر کس سے باتیں کرتی ہیں؟


اپنے قریبی رشتہ داروں اور ساتھی فنکاروں کی اموات سے دلبرداشتہ ٹی وی اور فلم کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی ضعیف والدہ کو ابھی تک بہن کے انتقال کے متعلق نہیں بتا سکیں۔ بشریٰ انصاری کی بہن سنبل شاہد کی وفات کو چھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن ان کی والدہ ابھی تک اس بات سے لاعلم ہیں۔ بشریٰ انصاری نے بتایا کہ چونکہ ان کی والدہ سنبل سے بہت زیادہ پیار کرتی تھی لہذا جب وہ اصرار کرتی ہیں کہ میری بیٹی سے بات کرواؤ تو میں دوسرے کمرے میں جاکر سنبل بن جاتی ہیں اور اس کی آواز میں اپنی والدہ سے بات کرتی ہوں۔
بشریٰ انصاری نے یہ باتیں وسیم بادامی کے شو میں کیں جہاں انہوں نے کرونا وبا کے اپنی زندگی پر پڑنے والے اثرات بارے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اب انکی زندگی پہلے جیسی نہیں رہی ہے۔ اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ انکی بہن سنبل شاہد کے مئی 2021 میں انتقال کر جانے سے ایک سال قبل انہی کا 40 سالہ بیٹا گلگت میں ’پیرا گلائیڈنگ‘ کے دوران حادثہ ہونے پر زندگی کی بازی ہار بیٹھا تھا۔ بیٹے کی وفات کے بعد ان کی بہن بہت ذیادہ اُداس تھیں اور ایک طرح سے ان کے جینے کا مقصد ختم ہو چکا تھا مگر وہ اپنے دوسرے بچوں کے لیے جیتی رہیں۔
بشریٰ انصاری کے مطابق سنبل کو اور کوئی بیماری نہیں تھی، صرف کرونا سے متاثر ہونے کے 21 دن کے اندر ہی وہ زندگی کی جنگ ہار بیٹھیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ وہ کرونا کی وبا کے دوران کینیڈا میں اپنی بیٹیوں کے پاس تھیں مگر اس دوران نہ صرف ان کے خاندان بلکہ ان کے رشتے داروں، دوستوں اور جاننے والے افراد کے گھروں میں بھی کئی اموات ہوئیں۔ بشریٰ انصاری کے مطابق ان کی بہن سنبل شاہد کی موت کو 6 ماہ گزر چکے ہیں مگر ان کی والدہ کو اس متعلق کوئی خبر نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ان کی والدہ زائد العمری کے باعث علیل ہیں اور ان کی نظر تقریبا ختم ہو چکی ہے، ان کی دیکھ بھال دو ملازمین کرتے ہیں۔ بشری کے مطابق ان کی والدہ، انکی بڑی بہن سنبل شاہد سے بہت ذیادہ پیار کرتی تھیں اور وہ والدہ کے پاس آ کر اکثر ان کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ اب والدہ اصرار کرتی ہیں کہ سنبل کیوں نہیں آتیں؟
بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے والدہ سے جھوٹ بول رکھا ہے کہ سنبل امریکا چلی گئی ہیں اور کرونا کی وجہ سے فلائٹس بند ہیں لہذا وہ ابھی فوری واپس نہیں آ سکتیں۔ اداکارہ نے بتایا کہ بعض اوقات جب والدہ بہت ضد کرتی ہیں کہ سنبل سے بات کروائیں تو وہ دوسرے کمرے میں جا کر ان سے سنبل بن کر بات کرتی ہیں۔
بشریٰ انصاری کے مطابق وہ والدہ کے ساتھ بھی بہن کی آواز نکال کر اداکاری کرتی ہیں کیوںکہ ان کی والدہ بہت ضعیف اور علیل ہیں، وہ بیٹی کے موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گی۔ بشریٰ نے ایک سوال پر بتایا کہ لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ اداکاروں کے دُکھ نہیں ہوتے یا ان کے مسائل نہیں ہوتے۔بشریٰ کے مطابق انہیں نہ صرف اپنی بہن اور خاندان بلکہ قریبی دوستوں جیسا کہ عمر شریف، امجد صابری، معین اختر اور دوسرے رشتے داروں اور جاننے والی کی اموات نے بھی گہرا دُکھ پہنچایا ہے اور وہ لمحہ بہ لمحہ انہیں یاد کر کے روتی رہتی ہیں۔
معروف لکھاری احمد بشیر کی بیٹی بشری نے کہا کہ بعض لوگ غم چھپانے کے لیے اپنے پیاروں کی موت کے وقت بھی ہنس رہے ہوتے ہیں مگر لوگ ان کے ہنسنے کا غلط نطلب نکال کر انہیں طعنے دیتے ہیں کہ انہیں اپنے رشتے داروں کی موت کا افسوس نہیں ہوتا۔

Back to top button