عوام دشمن کپتان نے ایک اور پٹرول بم گرانے کی تیاری کر لی

عوام پر پے در پے مہنگائی کے بم برسانے کے بعد اب عمران خان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا منصوبہ بنا لیا ہے تاکہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی مخلوق خدا فنا ہو کر قبر کا سکون لے۔ تبدیلی کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آنے والی کپتان حکومت تبدیلی تو لائی مگر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نہیں بلکہ ان کی کمر توڑنے کے لئے۔ تین برس بعد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو کوئی ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں بلکہ شاید ان کے کپڑے اتارنے پر تلی ہوئی ہے۔
مہنگائی کے بم برسانے پر عوام کی بد دعائیں لینے والے وزیراعظم عمران خان نے اپنے یہ اعلان کیا ہے کہ انکی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کرنے جارہی ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتی روز مرہ استعمال کی اشیاء اور بھی مہنگی ہو جائیں گی۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو یہ بُری خبر جہلم روڈ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دی، اُن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، اس لئے عوام ذہن میں رکھیں کہ انہیں پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھانا پڑ سکتی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر صرف تین ماہ کے دوران تیل کی قیمتیں دُگنی ہو چکی ہیں، جس سے پیٹرول سمیت تمام درآمدی اشیا مہنگی ہو چکی ہیں۔ پچھلے تین برس میں مہنگائی کم کرنے کے دعوے کر کے اس میں مسلسل اضافہ کرنے والے بہانے باز۔کپتان نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کا یہ سیلاب باہر سے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کے مطابق موجودہ دور میں پاکستان میں غربت کم ہوئی ہے۔ تاہم عمران خان بھول گئے کہ اب پاکستانی عوام کو مزید ماموں بنانا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کا تاریخی طوفان انکی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ کیے جانے والے قرضے کے معاہدوں کی وجہ سے برپا ہے۔
واضح رہے کہ یکم نومبر کو وفاقی حکومت کی جانب سے رات گئے اچانک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا جس سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 137 روپے 79 پیسے سے بڑھ کر 145 روپے 82 پیسے ہو گئی جوکہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی قیمت میں بھی 8 روپے 14 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 142 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ خیال رہے کہ پاکستان میں ہر ماہ کی پہلی اور 15 تاریخ کو ملک میں تیل کی مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ دوسری جانب وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب نے بتایا کہ وزیر اعظم نے پاکستان میں پہلی بار پٹرول پر سیلز ٹیکس 17 فیصد کی بجائے صفر کر دیا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر 100 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے سینکڑوں ارب روپے کی ٹیکس آمدن کا نقصان کیا ہے۔ تاہم ماموں بننے سے انکاری عوام سے سوال کرتے ہیں کہ پٹرول پر عائد 17 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کے باوجود اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔
