راوی ریور منصوبہ: لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناع کے باوجود اراضی کے حصول کا نوٹس لے لیا

لاہور ہائی کورٹ نے حکم امتناع کے باوجود راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کےلیے اراضی کے حصول کا نوٹس لے لیا اور وزیر اعظم کے فلیگ شپ منصوبے کے انوائرمنٹ امپیکٹ اسسمنٹ (ای آئی اے) تک صوبائی حکومت کو کسی بھی عمل سے روک دیا۔
متعدد درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس شاہد کریم نے ریونیو حکام اور کسانوں کے درمیان تصادم سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا اور صوبائی لا آفیسر سے سوال کیا کہ حکم امتناع کے بعد اس منصوبے کےلیے زمین کیوں خالی کی جارہی ہے۔ لا آفیسر نے کہا کہ یہ اراضی ایکٹ 1894 کے سیکشن 9 کے تحت لینڈ کلیکٹر کی طرف سے عوامی سماعت تھی۔ جج نے مشاہدہ کیا کہ عدالت کو پہلے بتایا گیا تھا کہ زمین کے حصول کےلیے ایکٹ کی دفعہ 4 کے تحت جاری کردہ نوٹی فکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسانوں سے بدتمیزی کی گئی ہے تو یہ بدقسمتی ہے۔ لا آفیسر نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ عدالت نے صرف سائٹ پر تعمیراتی کام روکا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک اور عدالت نے بھی ای آئی اے سے متعلق حتمی فیصلے پر حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔ جسٹس کریم نے حکومت کو ہدایت کی کہ اس منصوبے کی ای آئی اے تک اراضی کے حصول کا کوئی عمل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کے ایک منصوبے اورنج لائن میٹرو ٹرین کےلیے ان کی جائیدادوں کے حصول سے لوگوں کی زندگیاں بکھر گئیں۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ‘پرانے شہر میں نسلوں پرانے مکان کا متبادل ڈی ایچ اے میں پلاٹ بھی نہیں ہوسکتا ہے’۔ جج نے مزید مشاہدہ کیا کہ اراضی حصول ایکٹ 2013 میں جائز معاوضے کے حقوق کے تحت بھارتی پارلیمنٹ نے انقلابی تبدیلیاں کیں اور بغیر آزادانہ رضامندی حاصل کیے قبضہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قانون، قانون سازی کی بہترین مثال ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں زمینوں کے حصول کے قوانین کے بارے میں فیصلہ دیا جائے۔ ایک درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ شیراز ذکا نے استدلال کیا کہ اراضی کے حصول کے قوانین کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے کیوں کہ کسانوں کو اپنی زمین بیچنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریور فرنٹ منصوبے کے کسی عوامی مقصد کا انکشاف نہیں کیا جو ایکٹ کی دفعہ 4 کے تحت لازمی ہے۔ وکلا ابوذر سلمان نیازی اور احمد رفائے عالم نے دیگر درخواست گزاروں کی نمائندگی کی۔ جج 11 مارچ کو دوبارہ سماعت کا آغاز کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button