رضا ربانی کا بلیک آؤٹ کے معاملے پر وزیر توانائی سے استعفے کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے ملک بھر میں بلیک آؤٹ کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بلیک آوٹ کے معاملے کو متعلقہ قائمہ کمئٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ سینٹ اس کی تحقیات کرے اور بلیک آوٹ پر وزیر توانائی استعفی دیں۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ میں بلیک آوٹ پر بیان دینا چاہیے تھا تاہم اس واقعہ پر کسی بڑے کا سر قلم نہیں کیا گیا بلکہ چھوٹے اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔رضا ربانی نے کہا کہ وزیر توانائی نے ایوان میں بلیک آوٹ پر بیان دینا مناسب سمجھا اور نہ ہی بلیک آوٹ پر تحقیقات کا حکم دیا جبکہ نیپرا نے خود ایک انکوائری کا حکم دیا۔رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کو بھی انکوائری کرانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی ادارے بغیر سی ای او کے کام کر رہے ہیں پھر حکومت انرجی سیکٹر کی نجکاری کی بات کر رہی ہے۔
حکومت نے دیا میر بھاشا ڈیم کی زمین خریدی یا تحفے میں ملی، پرویز رشید، مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے دیا میر بھاشا ڈیم سے متعلق تحریک انصاف کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین کہاں سے آئی؟ کیا زمین موجودہ حکومت نے خریدی یا انہیں تحفے میں ملی؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیامیر ڈیم کی زمین خریداری کا کام پیپلز پارٹی دو میں شروع ہوا اور ن لیگ نے است مکمل کیا دیامیر ڈیم کی تعمیر کا سہرا دو سابقہ جمہوری قوتوں کو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیمز کے لیے زمین جس نے خریدی تھی تو ڈیم بننے کا کریڈٹ اسے جائے گا جس نے اس پر کام شروع کرایا تھا۔پرویز رشید نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہر بہ رہی ہیں، میں ان کے ساتھ کسی بھی شہر کے بازار میں جانے کے لیے تیار ہوں اور ہم پی ٹی وی کے کیمرے پر لوگوں سے پوچھیں گے کہ اشیا ماضی کے مقابلے میں مہنگی مل رہی ہیں یا سستی؟
پرویز رشید نے مزید کہا کہ ‘جو جواب آئے گا وہ پی ٹی وی پر چلایا جائے گا، موجودہ وفاقی وزرا ایوان میں جو دعویٰ کر رہے ہیں جس کو سپریم کورٹ نے صادق وامین کا سرٹیفیکٹ دیا، اس کے بارے میں خلق خدا کیا کہتی ہے جس کو نااہل کیا گیا اس کے بارے میں خلق خدا کیا کہتی ہے بازار میں چل کر خلق خدا سے پوچھتے ہیں’۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ وفاق صوبوں کے وسائل پر بری نظر رکھ کر قبضہ نہیں کرسکتا اور اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام کی مزاحمت ہوگی جو روک نہیں سکے گی۔
پرویز رشید نے کہا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے لندن کی براڈ شیٹ کمپنی کو پاکستانی سیاستدانوں کے لندن میں اثاثے تلاش کرنے کی ذمہ داری دی۔انہوں نے کہا کہ اب وہ کمپنی عدالت میں ہے کہ اگر حکومت نے پیسہ نہیں دیا تو اسے ایون فیلڈ کے 4 فلیٹس دے دیے جائیں۔پرویز رشید نے برطانوی عدالت کا حوالہ دے کر کہا کہ آپ ایون فیلڈ کی طرف نہیں دیکھ سکتے، وہ فلیٹ پاکستان کے نہیں ہیں، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سچے ثابت ہوئے اور عدالت کے حکم پر پاکستان کے لندن بینکوں میں پیسے لیکر کمپنی کو ادائیگی کی گئی یہ 700 کروڑ روپیہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے صرف سیاسی انتقام کی خاطر یہ کیا کہ نواز شریف سے انتقام لیا جائے اور آصف زردای کو غلط ثابت کیا جائے۔
پرویز رشید نے کہا کہ وہ قومی احتساب بیورو (نیب) نہیں تھی جہاں ویڈیو دیکھا کر لوگوں سے فیصلے کروائے جاتے ہیں آپ کو مزید جرمانہ ادا کرنے ہوں گے سرخرو کون ہوا جسے ناہل قرار دیا گیا یا جسے صادق اور امین قرار دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ‘اس طرح کے سیاسی انتقام لینے کی خاطر جو فیصلے کیے گئے اس پر اربوں روپے خرچ ہوئے کوئی ہے جو چیئرمین نیب سے پوچھے کہ اپ نے ہم غریبوں کے 700 کروڑ ادا کر دیے’۔
اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ پیپلز پارٹی آرڈیننس کے خلاف خود کو پیش کرتی ہے لیکن انھوں نے 150 آرڈیننس پاس کروائے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پہلے بنڈل آئی لینڈ کا این او سی دیا پھر باہر آکر مخالفت کرتے ہیں۔مراد سعید نے کہا کہ حکومت کو اس کی تحقیقات بھی کرنی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ بنڈل آئی لینڈ کے پاس نیوی کا بیس کیمپ ہے جس کا کرایہ پورٹ قاسم کو مل رہا ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ جنوبی بلوچستان کے لوگوں کی حالت دیکھیں جس کے ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں، ان کو محرومی کی طرف دھکیلنے والے آپ لوگ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی بلوچستان کے لیے 600 ارب کا پیکج دیا۔مراد سعید نے سوال اٹھایا کہ کیا بنڈل آئی لینڈ سے بھی پیپلز پارٹی کمیشن ڈھونڈ رہی تھی جب آپ سے سوال ہوتا ہے تو کوئی سندھ، کوئی بلوچ اور کوئی پنجاب کارڈز کھیلتا ہے۔رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ عمران خان کی حلال کی کمائی تھی جس کی وجہ سے رسیدیں نکل آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، وزیر دفاع اور خارجہ کی کرسی پر بیٹھے رہے اور اور اقامہ کو منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا۔انہوں نے بتایا کہ پکہلے موٹر وے پر کھربوں پاؤنڈز کی کرپشن کی گئی جبکہ ہم نے 6 ہزار 145 کلومیٹر سڑکوں کا ڈھائی سال میں آغاز کر دیا اور ایوب خان کے بعد پاکستان میں ڈیمز نہیں بنے، 4 دہائیوں کے بعد پاکستان میں ڈیم بننے جا رہے ہیں
