رضوان کا عدم تعاون تحقیقات میں تاخیر کا باعث بننے لگا: این سی سی آئی اے ذرائع

محمد رضوان سے متعدد مرتبہ رابطہ کرکے تحقیقات میں تعاون کی درخواست کی گئی، عدم تعاون پر قانونی کارروائی پر غور کیا جاسکتا ہے

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کرکٹر محمد رضوان کا مبینہ عدم تعاون تحقیقات میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔ محمد رضوان سے متعدد مرتبہ رابطہ کرکے تحقیقات میں تعاون کرنے کی درخواست کی گئی، تاہم کوششوں کے باوجود ان کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کبھی محمد رضوان سے رابطہ نہیں ہو سکا اور کبھی انہوں نے وکیل سے مشاورت کرنے کا کہا۔ تحقیقات میں تعاون کے لیے پیر کو ایک بار پھر محمد رضوان سے رابطہ کیا جائے گا، اگر اس کے باوجود تعاون نہ کیا گیا تو قانون کے مطابق انہیں نوٹس جاری کرنے سمیت دیگر کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق ادارہ چاہتا ہے کہ محمد رضوان تحقیقات میں تعاون کریں تاکہ معاملے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ عدالتی ہدایات کی روشنی میں ادارہ اس معاملے میں احتیاط سے کارروائی کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد رضوان کی موجودگی میں ان کے موبائل فون کا فارنزک تجزیہ کیا جانا ہے، جس کے لیے ان کی موجودگی ضروری ہے۔ دوسرے طریقے سے بھی فون کا فارنزک کرانے کا آپشن موجود ہے، تاہم اس سے ڈیٹا ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

این سی سی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ رضوان سے مختلف رابطوں کے حوالے سے سوالات کیے گئے تھے، تاہم بعض جوابات تحقیقاتی ٹیم کے لیے تسلی بخش نہیں تھے۔ کچھ شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے موبائل فون کا فارنزک تجزیہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کرکٹرز کے خلاف تحقیقات کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے، جو معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

امام الحق نے تحقیقاتی عمل میں تعاون شروع کردیا

این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق امام الحق نے ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد تحقیقاتی عمل میں تعاون کیا ہے اور ان کے موبائل فون کا فارنزک تجزیہ شروع کر دیا گیا ہے۔ فارنزک تجزیے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

این سی سی آئی اے ذرائع نے واضح کیا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور فی الحال کسی بھی کرکٹر کے خلاف کوئی چیز ثابت نہیں ہوئی۔ فارنزک تجزیے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہوگی۔

ذرائع کے مطابق سائبر پٹرولنگ کے دوران بعض چیزیں مشکوک نظر آنے کے بعد تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا اور کرکٹرز کے خلاف تمام کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔

این سی سی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کی کارروائی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کوڈ آف کنڈکٹ سے متصادم نہیں، جبکہ اس حوالے سے آئی سی سی سے نہ کوئی رابطہ کیا گیا ہے اور نہ ہی آئی سی سی کی جانب سے ادارے سے رابطہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد رضوان کو سہولت دینے کے لیے یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ اگر وہ خود دفتر نہیں آ سکتے تو تحقیقاتی ٹیم ان کے پاس آ سکتی ہے۔

این سی سی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مقصد معاملے کی حقیقت سامنے لانا ہے اور اگر کرکٹرز کے خلاف کوئی خلاف ورزی ثابت نہ ہو تو انہیں جلد از جلد کلیئر قرار دیا جائے گا، تاہم اس کے لیے تحقیقات میں تعاون ضروری ہے۔

ادارے کے ذرائع نے سوشل میڈیا پر محمد رضوان کے حوالے سے جاری مہم پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ایسی مہم چلا رہے ہیں، وہ رضوان کے خیر خواہ نہیں۔

Back to top button