رنگ روڈ سکینڈل میں تمام طاقتور صاف بچ جائیں گے


کپتان کے حمایتی یوتھیے کالم نگار ارشاد بھٹی نے رنگ روڈ سکینڈل پر پی ٹی آئی حکومت کو مانجا لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ناک کے نیچے ہونے والے اربوں روپوں کے اس سکینڈل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ہم ایک کرپٹ قوم ہیں لیکن ارشاد بھٹی نے یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ ماضی کے بڑے بڑے کرپشن سکینڈلز کی طرح اس سکینڈل کا بھی کچھ نہیں بنے گا، چند ہفتے شور مچے گا اور پھر کوئی اگلا اسکینڈل آجائے گا اور سب لوگ اس کے پیچھے لگ جائیں گے۔
ارشاد بھٹی بتاتے ہیں کہ جب رنگ روڈ منصوبے کا پہلا خاکہ 1997 میں تیار کیا گیا تب اس کی مجوزہ لاگت 10ارب روپے تھی جو کہ کپتان دور میں 70 ارب روپے ہو چکی ہے۔ گزرے 25 سالوں میں مختلف حکومتوں نے آٹھ مرتبہ اسے بنانے کی کوشش کی مگر بیل منڈے نہ چڑھ سکی، 2017 میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اس پر نظر پڑی، انہوں نے بینک آف چائنا کے سامنے یہ منصوبہ رکھا، بینک آف چائنا نے اس کیلئے دو فیصد سود پر 400 ملین ڈالرقرضہ اوکے کردیا، اس دوران 2018 کے الیکشن آ گئے، یہ منصوبہ ایک بار پھر دھرے کا دھرا رہ گیا، بعد ازاں تحریک انصاف حکومت بنی، کپتان حکومت کی اس پر نظر پڑی، وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں میٹنگ ہوئی، بیوروکریسی نے تجویز دی، قرضہ لے کر رنگ روڈ بنانے کی بجائے اسے پرائیویٹ یا پبلک پارٹنر شپ میں بنایا جائے، چونکہ تجویز اچھی تھی چنانچہ وزیراعظم نے اسکی منظوری دے دی۔
راولپنڈی ضلعی انتظامیہ کو رنگ روڈ منصوبے کے لیے فنڈز مل گے تو اس پر کام شروع ہو گیا اور یہیں سے دو نمبریوں بھری کہانی شروع ہوئی، یہ رنگ روڈجو 36 کلومیٹر کی تھی، 40 کلو میٹر کی ہوئی اور پھر 65 کلومیٹر تک جا پہنچی۔
حکومت پنجاب کی جانب سے تیار کردہ ایک حالیہ انکوائری رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ رنگ روڈ کا نقشہ مال بنانے کی ہوس کا شکار با اثر افراد کی خواہش پر بار بار تبدیل ہوا، رنگ روڈ کا روٹ بدلا، اس میں اٹک لوپ، پسوال لوپ شامل ہوئے، رنگ روڈ زگ زیگ ہوئی اور بد قسمتی سے اس ترمیمی منصوبے کی حتمی منظوری بھی خود وزیراعظم عمران خان نے دی جس سے نہ صرف رنگ روڈ کی اوریجنل لمبائی میں 30 کلو میٹر کا اضافہ ہوگیا بلکہ 25 ارب روپے کی اضافی لاگت بھی ساتھ شامل ہوگئی۔
بقول ارشاد بھٹی یہ سب کچھ سیاستدانوں، بیوروکریٹس، ریٹائرڈ افسران، بلڈرز مافیا اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے گٹھ جوڑ سے ہوا، ہر طاقت ور نے اپنی مرضی سے رنگ روڈ کو اپنی زمینوں سے گزارا، دھڑا دھڑ زمینیں خریدی گئیں، دھڑا دھڑ زمینیں فروخت ہوئیں، پھرایک شام وزیراعظم کے دو دوستوں نے رنگ روڈ گھپلوں کے بارے میں وزیر اعظم کوآگاہ گیا، 5 روز بعد انہوں نے وزیراعظم کے کہنے پر چند اکاؤنٹس نمبرز، چند فون نمبر، چار سرکاری افسروں اور دس ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام وزیراعظم کو دیئے۔ وزیراعظم نے تحقیقات کروائیں تو نہ صرف سب الزامات سچ نکلے بلکہ ہوش ربا تفصیلات سامنے آئیں، وزیراعظم نے کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود کو بلایا، ان سے پوچھا، کیا رنگ روڈ کا روٹ بدلنے، اٹک لوپ شامل کرنے کیلئے میرا کوئی وزیر، مشیر، کوئی طاقت وراثر انداز ہوا، لیکن وہ مکر گئے اور عمران خان جنہیں سب پتا چل چکا تھا، یہ جھوٹ سنتے ہی بگڑ گئے اور پھر اس کے بعد کیا ہوا، یہ سب کے سامنے ہے۔
رنگ روڈ پر واقع نووا ہاؤسنگ سوسائٹی میں وفاقی وزیر غلام سرور کے بیٹے کا نام بطو۔پارٹنر سامنے آچکا ہے لیکن غلام سرور اسے ماننے سے انکاری ہیں۔ لیکن سوال یہ یے کہ پھر نوواسٹی والوں کو اسلام آباد ائیر پورٹ کے قریب غلام سرور خان کی ماتحت سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہاوسنگ پراجیکٹ بنانے کے لیے این او سی کیوں اور کیسے دیا؟ خبر یہ بھی ہے کہ نووا ہاؤسنگ سوسائٹی نے مبینہ طور پر جعلی پلاٹوں کی 30 ہزار جعلی فائلیں بیچیں، رنگ روڈ کرپشن سکینڈل میں ملوث کپتان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری سے استعفیٰ لیا جاچکا، ان کا نہ صرف رنگ روڈ میں بلکہ اور معاملات میں بھی بہت کچھ سامنے آرہا، لیکن غلام سرور خان ابھی تک استعفی دینے کو تیار نہیں۔ دوسری جانب مدعا بیوروکریسی پر ڈال کر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے افسران کو عہدوں سے ہٹایا جاچکا، اب رنگ روڈ معاملہ نیب اور اینٹی کرپشن کے پاس، ہے لیکن اس کیس میں حتمی کارروائی کون دا۔محکمہ کرے گا اسکا فیصلہ نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پہلی مرتبہ ہے کہ ایک ڈی ایم جی افسر نے اپنے ہی گروپ کے پانچ افسروں کیخلاف رنگ روڈ انکوائری رپورٹ دستخط کرکے بھجوائی اور اس میں کسی ایک بھی حکومتی وزیر کا نام نہیں ڈالا۔ ڈی ایم جی سے تعلق رکھنے والے انکوائری افسر نے سابق کمشنر محمد راولپنڈی محمود، ڈی سی راولپنڈی کیپٹن (ر) انوار الحق ، ڈی سی اٹک علی عنان قمر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو راولپنڈی کیپٹن (ر) شعیب اور پرونشل مینجمنٹ سروس کے اسسٹنٹ کمشنر صدر مہر عباس کے خلاف رپورٹ پر دستخط کر کےحکام کو بھجوائی۔
ارشاد بھٹی کے مطابق ابھی تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ ہے اور ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے، اینٹی کرپشن کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق رنگ روڈ منصوبے کی آڑ میں 131 ارب روپے کی زمین کی خرید فروخت ہوئی، ھکومتی وزراء سمیت 50 طاقتوروں نے فائدہ اٹھایا، 64 ہزارکنال سے زائد زمین کاروباری افراد نے خریدی، ارشاد بھٹی کے مطابق 18 ارکان اسمبلی کی سترہ ہزار ایک سو سترہ کنال زمین رنگ روڈ سے جڑی ہوئی، جس میں تحریک انصاف کے 2 ایم این ایز اور 4 ایم پی ایز کی 18 سو کنال زمین بھی شامل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ رنگ روڈ خے اٹک لوپ کے اِرد گرد 18 ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے 13 ہزار کنال زمین خرید اور بیچ کر دنوں میں 11 ارب کا منافع کمایا، رنگ روڈ کی آڑ میں راولپنڈی کے گردو نواح میں 10 سوسائٹیوں نے 24ہزار پانچ سوکنال زمین کی خریدوفروخت سے 50 ارب کا کاروبار کیا، اسلام آباد کے گردونواح میں رنگ روڈ کا نام استعمال کرکے 8ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کاروباری افراد نے 10ہزار کنال زمین کی خریدوفروخت سے 35 ارب کا کاروبارکیا، اینٹی کرپشن کی تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا کہ ان میں سے 60 فیصد ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی اور 17 ہاؤسنگ سوسائٹیاں ایک ارب 70 کروڑ کی نادہندہ ہیں، ان ہاوسنگ سوسائٹیوں کی خلاف 300 سے زائد کیس، نیب اور مختلف عدالتوں میں چل رہے۔ تاہم ارشاد بھٹی کے مطابق زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی کے دیگر کرپشن سکینڈلز کی طرح رنگ روڈ سکینڈل بھی اگلے چند ہفتوں میں قصہ پارینہ بن جائے گا اور پھر کوئی نیا سکینڈل کھڑا ہو جائے گا اور ہم اسکے پیچھے لگ جائیں گے۔

Back to top button