رنگ روڈ سکینڈل نے کپتان کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں

پنجاب حکومت کا اربوں روپے کی لاگت کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ تعمیر سے پہلے ہی نہ صرف ایک بڑا کرپشن سکینڈل بن گیا ہے بلکہ سڑک کی لمبائی میں اضافے کی منظوری دینے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار بھی سنگین الزامات کی زد میں آ گئے ہیں اور ان سے استعفیٰ مانگا جا رہا ہے۔ رنگ روڈ منصوبے میں ترمیم کروا کر اسے اپنی زمینوں تک لیجانے کے الزامات پر عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نے کابینہ سے استعفی دے دیا ہے جبکہ کہ غلام سرور خان پر بھی انہی الزامات کے تحت استعفے کے لیے دباؤ ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ کہ رنگ روڈ کے ترمیمی منصوبے کی منظوری دینے والے وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب بزدار بھی استعفے دے کر اس اہم کرپسن کیس کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔ گذشتہ چند روز سے میڈیا پر راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے نقشے میں تبدیلی کروانے سے متعلق جن افراد کے نام لیے جا رہے ہیں ان میں عمران خان، وزیر اعلی بزدار، سید ذوالفقار حسین شاہ بخاری عرف زلفی بخاری اور غلام سرور خان بھی شامل ہیں۔ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ رنگ روڈ کی لمبائی بڑھا کر اسے ان علاقوں تک لے جایا جا رہا تھا جہاں اہم حکومتی شخصیات کے علاوہ عمران خان کے نئے دوست ملک ریاض حسین کا بحریہ ہاؤسنگ منصوبہ بھی زیر تعمیر ہے۔ تاہم اہم ترین بات یہ ہے کہ کرپشن کے تمام تر الزامات رنگ روڈ کے ترمیمی منصوبے کے حوالے سے ہیں، یعنی سڑک کی لمبائی بڑھانے بارے، جس کی منظوری خود وزیراعظم عمران خان نے دی تھی۔ دوسری جانب حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ بھولے وزیراعظم کو اندھیرے میں رکھ کر اس منصوبے کی منظوری لی گئی اور جیسے ہی انہیں حقیقت کا علم ہوا انہوں نے تحقیقات کا فیصلہ کیا۔
ان الزامات کے بعد زلفی بخاری نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان سے استعفی لیا گیا ہے۔ برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت رکھنے والے کپتان کے ذاتی دوست زلفی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’وزیرِ اعظم عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر کسی سرکاری عہدیدار کا نام کسی انکوائری میں آئے تو اسے اپنا نام الزامات سے پاک ہونے تک عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ میں اس حوالے سے ایک مثال قائم کرنے جا رہا ہوں اور رنگ روڈ انکوائری میں لگائے گے الزامات اور میڈیا کی غلط بیانی سے اپنا نام کلیئر ہونے تک میں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ لیکن دوسری جانب حکومتی ناقدین یہ اصرار کر رہے ہیں کے اس۔منصوبے میں الزام تو خود وزیر اعظم پر بھی لگا ہے لہذا انہیں بھی وقتی طور پر استعفی دے کر ایک صاف اور شفاف انکوائری کا راستہ ہموار کرنا چاہیے۔ لیکن کرپشن الزامات پر پچھلی مرتبہ کابینہ سے فارغ ہونے والی فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم پر کرپشن کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو اندھیرے میں رکھ کر ان سے سڑک کی لمبائی کا ترمیم شدہ منصوبہ منظور کروایا گیا اور جب انہیں اصل صورت حال پتہ چلی تو انھوں نے پنجاب حکومت کو فوری طور پر اس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے چیف سیکرٹری پنجاب کو اس معاملے کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ یعنی اس سکینڈل کے مرکزی کردار وزیراعظم عمران خان نے خود ہی اس کی تحقیقات کا حکم دیا اور اب خود ہی اس کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ نواز کے دور میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی ابتدائی منظوری دی گئی تھی جس کے تحت پنڈی کے علاقے روات سے ایک سڑک تعمیر کی جانی تھی جسے شہر کے باہر سے ہوتے ہوئے ترنول کے علاقے کو جی ٹی روڈ اور پھر موٹر وے سے ملانا تھا۔ اس رنگ روڈ کی تعمیر سے جی ٹی روڈ سے پنجاب سے خیبر پختونخواہ جانے والی ٹریفک اور بالخصوص ہیوی ٹریفک نے رنگ روڈ استعمال کرنا تھا جس کی وجہ سے اسلام آباد ہائی وے پر ہیوی ٹریفک کا دباؤ کم ہو جانا تھا۔ 2016 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اصول کے تحت اس کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہوا۔ منصوبے میں نیسپاک کو بھی شامل کیا گیا جبکہ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو تمام امور کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ رنگ روڈ منصوبے پر نیسپاک کی ابتدائی رپورٹ کو ایشیئن انفراسٹریکچر انویسٹمنٹ بینک نے منطور کر لیا تھا اور آسان شرائط پر رنگ روڈ کی تعمیر کے لیے 40 کروڑ ڈالر کے قرضے کی پیشکش کی تھی۔ بینک کے ساتھ مذاکرات 2018 میں ہوئے تھے اور دو سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود دوبارہ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے جسکی وجہ حکومت کی تبدیلی تھی۔
2018 کے الیکشن کے بعد تحریک انصاف حکومت نے اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا اور گذشتہ برس اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے پیپر ورک پر دوبارہ کام شروع کیا گیا تھا۔ حکومت کے موقف کے مطابق اس منصوبے میں ہونے والی بےقاعدگیوں کے بارے میں جب میڈیا پر خبریں آئیں تو وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے حقائق کو منظر عام پر لانے کی ذمہ داری سونپی گئی جنھوں نے کمشنر راولپنڈی ڈویژن کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جس نے چند روز قبل اس بارے میں رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیش کی ہے۔ رپورٹ میں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں ہونے والی بےضابطگیوں کی ذمہ داری اس وقت کے راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر محمود اور لینڈزایکوزیشن کلیکٹر وسیم علی تابش پر ڈالی گئی ہے اور ان دونوں سرکاری افسران کے خلاف کیس نیب کو بھجوانے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں افسران نے غیر قانونی طور پر دو سے تین ارب روپے اس منصوبے کے لیے زمین کی خریداری کی مد میں خرچ کیے ہیں۔
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رینٹل سنڈیکیٹ میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور ایسا کرنے سے استفادہ کرنے والے بے نامی حصہ دار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں آنے والی 12 نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیز اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کرنے کی ذمہ داری فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ایف آئی اے کو دی جائے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ان تمام ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں موجودہ یا ریٹائرڈ افسران کے بے نامی حصہ دار ہونے کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں۔
اس انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر اٹک کے علاوہ اے ڈی سی آر راولپنڈی، اے سی پنڈی صدر اور فتح جنگ اور چیف آفیسر فتح جنگ تحصیل کونسل کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ ان افراد سے ان کی مجرمانہ غفلت اور خاموشی پر ان کا مؤقف بھی ضرور معلوم کریں۔
انکوائری رپورٹ میں فوج کے دو سابق افسران جن میں میجر جنرل ریٹائرڈ سلیم اسحاق اور کرنل ریٹائرڈ عاصم ابراہیم پراچہ شامل ہیں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں قومی سلامتی کے حساس اداروں کا نام استعمال کرنے اور رینٹل سنڈیکیٹ میں ان کے کردار کے حوالے سے بھی معلومات اکھٹی کی جائیں۔ ان دونوں کا تعلق بحریہ ٹاون سے بتایا جا رہا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے پنڈی رنگ روڈ منصوبے میں بدعنوانی کے معاملے کی تحقیقات کا حکم ڈی جی نیب راولپنڈی کو دے دیا ہے۔ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نیب اس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لے گا تاکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
حکومت پنجاب کی تیار کردہ انکوائری رپورٹ بڑی احتیاط سے بنائی گئی ہے اور اس میں کسی ایک بھی سیاستدان کا ذکر نہیں ہے حالانکہ کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے بیوروکریٹس کا موقف ہے کہ انہوں نے رنگ روڈ منصوبے میں جو بھی کیا وہ حکومتی وزرا کے کہنے پر کیا۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری کا نام لیا جا رہا ہے۔ راولپنڈی کے حکام کے مطابق جس علاقے سے یہ رنگ روڈ گزرے گی وہاں پر زلفی بخاری کے رشتہ داروں کی کافی زمین ہے۔
لیکن وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں شامل دو افراد نے اس رپورٹ سے اتفاق نہیں کیا اور نہ ہی ان کے دستخط اس رپورٹ پر موجود ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم سے مطالبہ کریں گے کہ اس معاملے کی دوبارہ تحقیقات کروائی جائیں۔انھوں نے کہا کہ جس علاقے سے یہ رنگ روڈ گزرے گی وہاں پر نہ تو ان کی اور نہ ہی ان کے رشتہ داروں کی زمنیں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر اس علاقے کی ہاوسنگ سوسائٹی کے کسی مالک کے ساتھ ان کا ذاتی تعلق ہے تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں شیئر ہے۔ تاہم حکومت اور اس کے وزراء جو بھی کہیں، کروا سچ یہ ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کپتان کے گلے کی گھنٹی بن گیا ہے جسے اپوزیشن آتے جاتے بجا کر مزے لے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button