روز نہانا بالوں کیلئے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟

روز نہانا بالوں کیلئے نقصان دہ ہونے کا تاثر کسی طور بھی درست نہیں ہے، بہرحال اس کا تعلق ہماری ان بعض عادات سے ہو سکتا ہے جو ہم نہاتے ہوئے اپناتے ہیں، میڈیکل ریسرچ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سر کو دھونے یا نہانے سے بال گرتے ہیں۔ہفتے میں کتنی بار سر دھونا یا نہانا چاہئے اس کا کو مخصوص پیمانہ نہیں ہے اور ہر انفرادی شخص اور اس کے ماحول کے حساب سے یہ مختلف ہو سکتا ہے اگر آپ کے سر کی جلد چکنی ہے یا سر میں زیادہ خشکی ہو تو ہر دوسرے دن نہانا چاہئے، وہ افراد جو روزانہ ورزش کرتے ہیں یا ایسا کام کرتے ہیں جس میں پسینہ زیادہ مقدار میں بہتا ہو تو روزانہ نہانے میں کوئی حرج نہیں ہے، مردوں کی جلد میں عمومی طور پر glands sebaceous یعنی روغنی غدود زیادہ ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سر میں چکنائی یا تیل کی رطوبت زیادہ ہوتی ہے، چنانچہ انھیں روز نہانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔شاور کے نیچے زیادہ دیر تک کھڑے نہ ہوں کیونکہ ہمارے بالوں میں قدرتی طور پر تیل یا چکنا پن ہوتا ہے اور ضرورت سے زیادہ دیر تک سر کو پانی میں رکھنا یا نہانا اس قدرتی چکنائی یا تیل کو ختم کر دیتا ہے، ہماری جلد کا پی ایچ 5.5 (یعنی تیزابیت) ہے، ایسا شیمپو استعمال کرنا بہتر ہے جو تیزابیت کی اسی سطح کے قریب ہو، ایسا شیمپو جس میں پی ایچ لیول 5.5 سے زیادہ ہو وہ سر اور جلد میں خشکی کا باعث بن سکتا ہے۔آج کل زیادہ تر لوگ سلفیٹ اور پیرافین فری شیمپو استعمال کرتے ہیں۔ شیمپو بنانے والی کمپنیاں سلفیٹ کا استعمال شیمپو میں جھاگ کو بنانے کے لیے کرتی ہیں۔ ایسا شیمپو استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے جس میں زیادہ جھاگ بنانے کی صلاحیت کم ہو یعنی جس میں سلفیٹ کم ہو۔ہیئر کنڈیشنر کا انتخاب اس بنیاد پر کرنا چاہئے کہ آپ کے سر کی جلد خشک ہے یا چکنی، اگر آپ کے بال پہلے ہی کمزور ہیں تو بہتر ہے کہ کنڈیشنر کا استعمال نہ کریں بلکہ کنڈیشنر کی بجائے سیرم استعمال کیا جا سکتا ہے، شیمپو کا استعمال صرف بالوں کی جڑوں میں کرنا چاہئے جبکہ کنڈیشنر بالوں کے لیے ہے، اسے جڑ پر نہیں لگانا چاہئے۔نہانے کے فوراً بعد برش کرنے سے گریز کریں، نہانے کے بعد چند لوگوں کے بال پہلے ہی کمزور ہو جاتے ہیں اور برس کرنے سے انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے، بالوں کو مکمل طور پر خشک ہونے کے بعد ہی برش کریں اور برش کرنے سے قبل اگر آپ کے بال اُلجھے ہوئے ہیں تو بجائے برش سے انھیں سلجھانے کے انگلیوں کی مدد سے یہ کام کریں جو لوگ بہت زیادہ چینی کھاتے ہیں، تمباکو نوشی کرتے ہیں اور ڈیری مصنوعات کھاتے ہیں وہ بھی بالوں کے گرنے کا شکار ہوتے ہیں، بہت سے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ڈیری مصنوعات کا زیادہ استعمال خشکی اور بالوں کی کثافت کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔خواتین میں آئرن کی کمی بھی بال گرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی بالوں کے گرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے، تھائیرائیڈ کا مسئلہ بھی اس کی وجہ ہو سکتا ہے، وٹامن B12 کی کمی بھی بال گرنے کا باعث ہو سکتی ہے اگر آپ میں ان چیزوں کی کمی ہے تو ان غذائی اجزا کو پورا کرنے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس لیں۔گری دار میوے اور بیج بالوں کی صحت کے لیے بہتر ہوتے ہیں، کدو کے بیج، بادام اور کاجو بھی بالوں کی صحت کیلئے مفید ہوتے ہیں، انڈے بھی ایک اچھا پروٹین فوڈ ہیں اور بالوں کی صحت کیلئے انڈے کی زردی سے پرہیز نہیں کرنا چاہئے۔

Back to top button