روس کا فوجی طیارہ عمارت پر گرنے سے 13 ہلاک، 19 زخمی

روس کا فوجی جیٹ طیارہ دوران پرواز ہچکولے کھاتے ہوئے شہری علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں،جبکہ دیگر 19 افراد زخمی ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ملٹری ڈسٹرکٹ کے ہوائی اڈے سے تربیتی پرواز کے لیے پرواز بھرنے والا لڑاکا طیارہ یوکرین کی سرحد کے قریب روسی قصبے یسک میں ایک عمارت کی پارکنگ میں گر گیا اور طیارہ میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔
رپورٹس کے مطابق آگ کے شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے 9 منزلہ عمارت کی 5 منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور7 فلیٹ مکمل طور پر جل کرخاکستر ہوگئے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ رہائشیوں کو نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ اس عمارت میں 600 سے زائد افراد رہتے تھے، امدادی کاموں کے دوران سب سے پہلے 3 بچوں کی جلی ہوئی لاشیں ملیں جس پر صرف 3 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا تاہم چند گھنٹوں بعد ملبے سے مزید 10 لاشیں ملیں اس طرح مجموعی ہلاکتیں 13 ہوگئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یسکیو کے دوران 25 افرادکو زخمی اور جھلسی ہوئی حالت میں نکالا گیا جنھیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زیادہ تر زخمیوں کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تربیتی پرواز پر مامور طیارے کے انجن میں آگ لگ گئی تھی جس کے باعث وہ رہائشی عمارت کے صحن میں گرا اور آئل گرنے سے آگ پوری عمارت میں پھیل گئی،انجن میں آگ لگتے ہی پائلٹ نے طیارے میں سے چھلانگ لگادی تھی اور پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر بحفاظت اتر گیا تھا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 4 ماہ قبل بھی ایک روسی فوجی طیارہ ماسکو میں گر کر تباہ ہوا تھا جس میں 4 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے تھے۔
