روپے کی قدر 35 فیصد گر گئی لیکن شرم ان کو نہیں آتی

2019ء پاکستانی معیشت اور عوام کے علاوہ پاکستانی روپے کی قدر کے حوالے سے بھی بد ترین سال ثابت ہوا جس میں روپے کی قدر 35 فیصد سے زائد گر گئی۔ نتیجتا حکومت بھی عوام کی نظروں میں گر گئی لیکن شرم اسکو پھر بھی نہیں آتی۔ تبدیلی سرکار ڈھیٹ اتنی یے کہ آج بھی مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے اور اپنی جیبیں بھرنے کے لئے مہنگائی میں اضافہ کیے چلی جارہی ہے۔شرم اس کو مگر نہیں آتی۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایک سال میں روپے کی قیمت 35 فیصد گرانے کے بعد بھی وزیراعظم صاحب قوم سے خطاب میں فرماتے ہیں کہ ’یہ اللہ کا کرم ہے کہ آج ہمارا روپیہ صرف 35 فیصد گرا اور ڈالر آج 155 کا ہے لیکن یاد رہے کہ یہی ڈالر 300 پر بھی جاسکتا تھا۔ شرم ان کو مگر نہیں آتی۔
سال 2019ء کے پہلے 6 ماہ میں روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ دیکھی گئی اور 26 جون 219 کو روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح یعنی ڈالر کے مقابلے میں 164 روپے پر دیکھا گیا۔ جولائی میں مالی سال کے آغاز سے ہی روپے کی گرتی قدر پر کسی قدر روک لگ گئی اور اس کی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد، قرض کی اقساط کی فراہمی کے ساتھ ہی سعودی عرب کی جانب سے ایندھن کی مؤخر ادائیگی پر فراہمی نے فاریکس مارکیٹ کو ٹھنڈا کیا اور یوں اس نے روپے کی قدر کو مستحکم کرتے ہوئے ڈالر اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں کمی کی جانب گامزن کیا۔
سال 2019 کے آغاز میں امریکی کرنسی کی قیمت 138 روپے تھی، سال کے وسط میں یہ قیمت 164 روپے تک جاپہنچی اور سال کے اختتام پر 154 روپے کی سطح پر برقرار رہی . یوں مجموعی طور پر سال 2019 کے دوران پاکستان کی کرنسی کی قیمت کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 16 روپے تک کا اضافہ ہوا۔
شرم ان کو مگر نہیں آتی۔
2019 کے دوران پاکستانی روپیہ اس حد تک کمزور پڑا کہ بنگلہ دیشی ٹکہ بھی پاکستانی کرنسی پر مزید بھاری ہوا۔ 2019 کا سال روپے کے لیے رولر کوسٹر ثابت ہوا، پورے سال کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر 138 روپے سے بڑھ کر عوام کے لیے 155 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ 26 جون 2019 کو امریکی کرنسی ملکی تاریخ کی بلندترین سطح 164 روپے 25 پیسے کی سطح پر دیکھی گئی۔ پورے سال کے دوران روپے کی قدر کا موازنہ دیگر کرنسیوں سے کیا جائے تو یورو 159 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 172 روپے 20 پیسے، پاونڈ 177 روپے 30 پیسے بڑھ 201 روپے 90 پیسے، سعودی ریال اس عرصے میں 37 روپے 10 پیسے کے بجائے اب 41 روپے 30 پیسے، یو اے ای درہم 38 روپے 10 پیسے سے بڑھ کر 42 روپے 25 پیسے کا ہوگیا۔آسٹریلوی ڈالر جو 31 دسمبر 2018 کو 98 روپے 50 پیسے کا مل رہا تھا اب 107 روپے کا ہوگیا، کینیڈین ڈالر اس عرصے میں 102 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 118 روپے 30 پیسے، دوست ملک چین کی کرنسی 20 روپے 80 پیسے بڑھ کر 22 روپے 90 پیسے اور ایک سال کے دوران بھارتی روپیہ 10 پیسے اضافے سے 2 روپے 10 پیسے اور بنگلا دیشی ٹکہ 1 روپے 75 پیسے بڑھ کر 1 روپے 85 پیسے کا ہو گیا۔ شرم ان کو مگر نہیں آتی۔
سال 2019 میں حکومت کرنٹ اکاونٹ کے خسارے کو کم کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہوئی. آئی ایم ایف نے پاکستان کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے قرض فراہمی کی سخت ترین شرائط عائد کیں. ان شرائط میں ایک شرط یہ تھی کہ حکومت آئندہ سے ڈالر کی قیمت کے تعین کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرے گی. حکومت آئی ایم ایف کی یہ شرط ماننے پر مجبور ہوئی. حکومت نے ملک میں ڈالر کی قیمت کا تعین مارکیٹ فورسز کو کرنے کی اجازت دی اور یوں سال کے وسط تک امریکی کرنسی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا. شرم ان کو مگر نہیں آتی۔
