سال 2019 میں پیٹرول کی قیمت میں 23 روپے اضافہ کیا گیا

عمران خان حکومت نے سال 2019 میں پیٹرول کی قیمت میں 23 روپے تک کا اضافہ کیا، جب کہ حکومت نے جنوری 2020ء کیلئے عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کا تحفہ دیتے ہوئے پیٹرول 2 روپے 61 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کردیا۔
عمران خان کی حکومت جب سے آئی ہے ہر چیز کی قیمت عوام کی پہنچ سے بہت دور چلی گئی ہے۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں کا سب سے زیادہ اثر پیٹرول کی قیمت پر پڑا ایک سال کے دوران پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 23 روپے تک کا اضافہ کردیا گیا، سال کے آغاز میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 90 روپے تھی جو سال کے اختتام پر 113 روپے سے زائد کی سطح پر رہی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اور پاکستانی روپے کی بے قدری پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے۔ تفصیلات کے مطابق تحریکِ انصاف حکومت نے ایک سال کے دوران فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔
حکومت نے ایک سال میں پٹرولیم منصوعات کی قیمت میں 23 روپے 02 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا جس کے بعد پٹرول90روپے97پیسے سے بڑھ کر113روپے99پیسے فی لیٹر ہوگیا۔ 2019 کے دوران پٹرول کی قیمت میں 23 روپے 2 پیسے اضافہ ہوا۔ 2019 کے دوران پیٹرول 23 روپے 2 پیسے فی لیٹر ،ہائی اسپیڈ ڈیزل 18 روپے 42 پیسے،لائٹ ڈیزل 7 روپے 15پیسے اورمٹی کا تیل 13روپے 37پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔
ایک سال کے دوران پٹرول 90 روپے 97 پیسے سے 113 روپے 99 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 106 روپے 68پیسے سے بڑھ کر 125 روپے ایک پیسہ فی لیٹر ہو گیا، لائٹ ڈیزل 75 روپے 28پیسے سے 82 روپے 43 پیسے ,مٹی کا تیل 82 روپے 98 پیسے سے 96 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گیا۔ 2019 میں پاکستان کے علاوہ عالمی سطح پر بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ خام تیل کی قیمت 54 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 65 ڈالر فی بیرل تک کا ہو جانا ہے۔ جب کہ اب حکومت نے جنوری 2020ء کیلئے عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کا تحفہ دیتے ہوئے پٹرول 2 روپے 61 پیسے اور ڈیزل 2 روپے 25 پیسے فی لٹر مزید مہنگا کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button