سال 2019 میں مہنگائی بلند ترین سطح پر رہی

پاکستان محکمہ شماریات (پی بی ایس) کے مطابق ملک میں مہنگائی 9 برسوں میں بلند ترین سطح پر ہے۔ دسمبر میں بھی مہنگائی کی شرح 12.63 فیصد رہی۔
پاکستان محکمہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی افراط زر (مہنگائی) کی شرح دسمبر میں گزشتہ ماہ کے 12.7 فیصد کے مقابلے میں معمولی کم ہوکر 12.63 فیصد رہی، کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے ذریعے معلوم کی گئی افراط زر گزشتہ مہینے کے مقابلے میں 0.34 فیصد کم ہوئی۔
اس حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر میں مجموعی افراط زر میں کھانے کی زائد قیمتیں سب سے بڑا حصہ رہیں جب کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں زیادہ رہیں۔ دسمبر میں شہری علاقوں میں سالانہ بنیادوں پر خوراک کی افراط زر 16.7 بڑھی لیکن ماہانہ بنیادوں پر یہ 1.7 فیصد کم ہوئی، وہیں دیہی علاقوں میں یہ بالترتیب 19.7 فیصد بڑھی اور 1.1 فیصد کم ہوئی۔
شہری علاقوں میں جن کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ان میں خشک میوہ جات 6.35 فیصد، گندم 5.62 فیصد، انڈے 4.61 فیصد، تازہ پھل 2.3 فیصد، دال مونگ 1.88 فیصد اور مچھلی (1.22 فیصد) اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس شہری علاقوں میں جن اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں ان میں ٹماٹر 36.49 فیصد، پیاز 12.45 فیصد، چکن 11.21 فیصد، تازہ سبزیاں 4.62 فیصد، چینی 3.54 فیصد اور ٹماٹر 1.96 فیصد شامل ہیں۔ اسی طرح شہری مراکز میں غیر غذائی افراط زر سالانہ بنیادوں پر 9.5 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 8.8 فیصد رہی۔ غیر غذائی افراط زر میں اضافے کی اہم وجہ گزشتہ کچھ ماہ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور شرح تبادلہ کی کمی کا مشترکہ اثر ہے جب کہ حکومت نے اس اضافے کو مقامی صارفین کےلیے منظور کیا۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کےلیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اندازہ لگایا ہے کہ ملک کی افراط زر 13 فیصد تک جاسکتی ہے لیکن حکومت کا اندازہ ہے کہ یہ 11 سے 13 فیصد کے اندر ہی رہے گی۔
خیال رہے کہ شہری سی پی آئی میں 35 شہروں اور 356 صارفین کی اشیا کو دیکھا جاتا ہے جب کہ دیہی سی پی آئی میں 27 دیہی مراکز اور 244 اشیاء شامل ہوتی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اشیائے خورونوش جیسے آٹا، چاول، گھی، چینی، دالیں اور سبزیوں کی قیمتوں کا جائزہ لینے کےلیے ایک اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں تمام صوبوں کے بڑے شہروں میں ‘درست دام’ ایپلیکشن کے اجراء پر ہونے والی پیش رفت اور غذائی اشیا میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا جائزہ لیا۔
خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے اجلاس کو بتایا کہ درست دام ایپلی کیشن صوبے کے 3 شہروں پشاور، مردان اور ایبٹ آباد میں جنوری کے پہلے ہفتے میں لانچ کردی جائے گی۔ اسی طرح پنجاب کے چیف سیکریٹری میجر(ر) اعظم سلیمان نے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ راولپنڈی میں قیمت ایپلی کیشن پہلے سے ہی شروع کی جاچکی ہے اور اب تک 6 لاکھ رہائشی اسے ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں۔
علاوہ ازیں سندھ کے چیف سیکریٹری اور بلوچستان کے انڈسٹریز سیکریٹری نے بھی اجلاس کو بتایا کہ غذائی اشیا میں ملاوٹ کو روکنے کےلیے اقدامات اٹھائے ہیں۔
بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے تمام صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر انتظامی کارروائی کریں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے خوراک میں ملاوٹ کو روکنے کو ممکنہ کوششوں سے یقینی بنانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button