پیٹرول، گیس اور بجلی کے بعد اب آٹا اور دالیں بھی مہنگی

کپتان کی تبدیلی سرکار نئے سال پر مہنگائی کا نیا سونامی لے آئی ہے۔ پیٹرولیم اور گیس مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب حکومت کی طرف سے بجلی، آٹا اور دالیں بھی مہنگی کردی گئیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آٹے اور دالوں کی قیمتوں میں مذید اضافے کے بعد اب غریب یہ بھی کہنے کے قابل نہیں رہ گیا کہ میں دال روٹی کھا کر گزارا کر لوں گا۔
نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 80 روپے کا ریکارڈ اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد 20 کلو تھیلے کی قیمت 1100 روپے تک پہنچ گئی ہے، ظلم تو یہ ہے کہ حکومت نے گزشتہ ماہ بھی آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ کیا تھا۔ گزشتہ ماہ آٹے کا تھیلا 970 روپے تک میں فروخت کیا جارہا تھا جس کی قیمت اب بڑھ کر گیارہ سو روپے ہو گئی ہے۔ دوسری جانب مختلف دالوں کی قیمتوں میں 25 سے 50 روپے کلو تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ چینی بھی شوگر ملز کی بندش کے ساتھ مارکیٹ سے غائب ہونے لگی ہے اور اس کی قیمت بھی 80 روپے کلو سے تجاوز کرگئی ہے۔
حکومت نے آٹے، دال اور چینی کی قیمتوں میں اضافے پر ہی بس نہیں کیا بلکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا تاکہ رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اکتوبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین پر ساڑھے 14 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اور یہ اضافہ صارفین سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں جنوری کے بلوں میں وصول کریں گیں۔
اس سے پہلے حکومت نے سال کے آخری دن پٹرول کی قیمتوں میں بھی2 روپے سے زائد کا اضافہ کرتے ہوئے یے عوام کو نیوایئر کا تحفہ دیا. گیس مہنگی کرنے کے علاوہ حکومت نے عوام پر ظلم کا ایک اور پہاڑ توڑتے ہوئے ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی 25 روپے فی کلو اضافہ کردیا۔
یاد رہے کہ یہ اسی کپتان کی حکومت ہے جو برسراقتدار آنے سے پہلے جلسوں میں اعلان کیا کرتے تھے کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ عوام کے روز مرہ استعمال کی اشیاء اور بجلی، گیس، پانی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کر دیں گے۔
تاہم اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ایک بڑا یو ٹرن لیتے ہوئے یے ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافہ کردیا کیونکہ کپتان کا یہ کہنا ہے کہ یوٹرن لینا عظیم لیڈروں کا شیوہ ہے۔
