ریئیلٹی شوز کی جذباتی کہانیاں حقیقت سے کتنا قریب ہوتی ہیں؟

ریئیلٹی شوز خود میں پوری دنیا کو سموئے ہوتے ہیں، جہاں جذبات، کھیل، جنگ کے تمام پہلو ایک ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن دیکھنے والے ایک وقت کیلئے یہ سوچنے پر مجبو ہو جاتے ہیں کہ ان میں کتنی حقیقت ہے۔
ایک ریئیلٹی شو ہو رہا ہے سٹیج پر ایک لڑکا مائیک لیے کھڑا ہے اور اس شو میں اس لڑکے کا یہ آخری دن ہے، سب کو لگا کہ یہ لڑکا جیت جائے گا لیکن شو میں کہا گیا کہ دوسروں کے مقابلے اس لڑکے کو لوگوں نے کم ووٹ دیے تو وہ باہر ہو گیا۔وہی لڑکا ایک بار پھر سٹیج پر آتا ہے۔ کچھ سال گزر جاتے ہیں اور جیسے ہی یہ لڑکا مائیک پر گاتا ہے ہزاروں، لوگوں کا ہجوم چلانے لگتا ہے اریجیت، اریجیت، لو یو اریجیت۔
ریئیلٹی شوز کی تاریخ کی بات کی جائے تو کوپس دنیا کا سب سے طویل چلنے والا ریئیلٹی شو تھا، 1989 میں شروع ہونے والے اس شو کا 35 واں سیزن اس وقت چل رہا ہے، کوئز مقابلہ 1972 میں ریڈیو پر شروع ہوا، سِنگنگ شو سارے گا ما پا 1995 میں شروع ہوا۔انڈیا کا پہلا ڈانس ریئیلٹی شو بوگی ووگی 1996 میں شروع ہوا۔ انڈیا میں ریئیلٹی شوز کی دنیا 2000 کے بعد تیزی سے بدل گئی، جب امیتابھ بچن نے شو ‘کون بنے گا کروڑ پتی’کے ساتھ چھوٹے پردے پر قدم رکھا۔
2004 میں ‘امریکن آئیڈل’ کی طرز پر ‘انڈین آئیڈل’ شروع ہوا لیکن ریئیلٹی شوز کی دنیا میں ایک ایسا شو جس نے اپنا ایک خاص مقام بنایا وہ تھا ‘بگ باس’، جو ‘بگ برادر’ کی طرز پر انڈیا میں شروع ہوا جس میں نسل پرستانہ تبصروں کا سامنا کرنے کے بعد سرخیوں میں آنے والی شلپا شیٹی فاتح بن گئی تھیں اور شو بز میں ان کی ایک طرح سے واپسی ہوئی۔ انڈین ٹی وی، او ٹی ٹی، یوٹیوب پر اب ہر قسم کے ریئیلٹی شوز دستیاب ہیں۔
ریئیلٹی شوز میں بچے اور بڑے ڈانس کرتے ہیں، کھانا پکاتے ہیں، خطرات کا سامنا کرتے ہیں، مشہور شخصیات کے جوڑے اکٹھے دکھاتے ہیں، محبت تلاش کرتے ہیں، گھر میں مہینوں گزارتے ہیں، سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور یہاں تک کہ ایک سویموار شو، یعنی شادی کا شو بھی ہوا جس میں مشہور شخصیات کی ‘ارینج میرج’ کو دکھایا گیا۔
ڈانس انڈیا ڈانس، سپر ڈانسر، سلمان خان کی میزبانی میں دس کا دم، کون بنے گا کروڑ پتی کے کئی سیزن، سا رے گا ما پا کا نیا ورژن، امیتابھ بچن کا آج کی رات ہے زندگی شو، ماسٹر شیف، نچ بلیے اس ٹیم کا ایک بڑا حصہ رہا ہے جس نے کپل شرما شو، شارک ٹینک، انڈیا گوٹ ٹیلنٹ سمیت کئی شوز شروع کیے یا چلائے۔
سوشل میڈیا پر ریئیلٹی شوز کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے کہ اگر کوئی مقابلہ کرنے والا غریب نہیں یا غربت اور جدوجہد کی کہانی والا ہے تو وہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔
موسیقار انو ملک جو کئی ریئیلٹی شوز میں جج رہ چکے ہیں کہتے ہیں کہ ’12 سالہ خوبصورت گلوکارہ دنیشوری، جس کے والد آٹو چلاتے ہیں یا پنجاب کے ایک گاؤں کا ایک یتیم لڑکا۔ یہ کہانیاں من گھڑت نہیں، حقیقی ہیں۔ یہ اس لیے سامنے لائے جاتے ہیں کیونکہ اس سے عوام کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ پیغام جاتا ہے کہ اگر انسان میں فن ہے تو وہ ہر حال میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
ٹیرنس لیوس جو کئی ڈانس ریئیلٹی شوز میں جج رہ چکے ہیں نے کہا کہ کریئٹیو ٹیم یہ خیال رکھتی ہے کہ اگر کسی شخص کا جذباتی سفر یا جدو جہد رہی ہو تو اس کے کردار کا خاکہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن لوگوں کو ڈانس کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے نہ کہ کہانی کی بنیاد پر۔
ریئیلٹی شوز میں ووٹنگ میں ایک اہم پیرامیٹر مہم بھی ہے، جس میں ایک مدمقابل کی مقامی شناخت کو اچھی طرح سے پیش کیا جاتا ہے، یہ چینل کی طرف سے بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ حریف امیدوار کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔
ریئیلٹی شوز میں ججز کا انتخاب کرتے وقت بجٹ بھی اہم ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی جج کا انتخاب کیا جا رہا ہے تو صرف یہ اہم نہیں ہے کہ وہ اس شو میں جج بننے کے قابل ہے یا نہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ یہ بجٹ میں آرہا ہے یا نہیں؟
ارچنا پورن سنگھ کی ہنسی، نوجوت سنگھ سدھو کی ‘ٹھوکو تالی’ اور نیہا ککڑ کے آنسو۔ ریئیلٹی شوز کے ججز کے ردعمل بھی زیر بحث آئے۔ایک شو کی شوٹنگ کئی گھنٹے تک ہوتی ہے۔ جو آپ دیکھتے ہیں وہ اس کا چھوٹا ترمیم شدہ ورژن ہے، شو ‘بوگی ووگی’ کے جج رہنے والے جاوید جعفری نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘بوگی ووگی کا کوئی سکرپٹ نہیں تھا، ہم فلو کے ساتھ جاتے تھے پھر اس طرف توجہ نہیں تھی کہ کوئی امیر ہے یا غریب۔
بگ باس شو کی پروڈکشن ٹیم کا حصہ رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’گالی گلوچ ، لڑائی، محبت کچھ بھی من گھڑت نہیں ہے۔ شو کے شرکا جانتے ہیں کہ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم سب کی طرح یہ لوگ بھی پچھلے سیزن دیکھ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ عوام کو کیا پسند ہے۔ 24 گھنٹے کی ریکارڈنگ سے ایک گھنٹے کا ایک ایپی سوڈ نکالا جاتا ہے، جو آن ائیر ہوتا ہے۔ تو صرف مصالحہ دکھایا جاتا ہے۔
