ریاستی اداروں نے تعلیمی اداروں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا


پاکستانی سیاست اور حکومت کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب ریاستی اداروں نے تعلیمی اداروں پر بھی اپنا کنٹرول مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے جس کا واضح ثبوت حال ہی میں چند نامور روشن خیال اور ترقی پسند اساتذہ کا مختلف اداروں سے برخاست ہونا ہے۔
پرویز ہود بھائی جیسے محقق اور استاد، محمد حنیف جیسے لکھاری اور عمار علی جان جیسے استاد ہمارے معاشرے کے لیے کیسے خطرہ ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو گذشتہ چند دنوں کے دوران پاکستانی سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں تواتر سے پوچھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ لاہور کے ایف سی کالج کا پروفیسر ہود بھائی اور عمارعلی جان اور کراچی کی حبیب یونیورسٹی کے محمد حنیف کی خدمات سے مزید فائدہ اٹھانے سے انکار ہے۔
بہت سے حلقے ان اقدامات کو ملک کے تعلیمی نظام کو بھی ریاست کی جانب سے کنٹرول کرنے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں تاہم ساتھ ہی ساتھ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے یہ وضاحت دیتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں کچھ ایسے عناصر شامل ہو گئے ہیں جو ہمارے معاشرے، تدریسی نظام اور ملک کی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ ہو سکتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی انتظامیہ اس بات کا تعین کیسے کرتی ہے کہ کون سا معلم ادارے، طالب علموں اور ملک کے لیے ’خطرہ‘ ہے اور کون سا نہیں۔ اس بات کو جاننے کے لیے بی بی سی نے انھی اساتذہ سے رابطہ کیا جنھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔
لاہور کے ایف سی کالج سے منسلک معروف سماجی شخصیت عمار علی جان نے اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ فورمین کریچیئن کالج یا ایف سی کالج میں بطور معلم مزید اپنی خدمات سرانجام نہیں دیں گے۔ ٹویٹس کے ایک تفصیلی سلسلے میں عمار علی جان نے لکھا کہ رواں برس کے آغاز میں ان کا کالج کے ساتھ معاہدہ اسسٹنٹ پروفیسر کی مستقل نوکری سے وزیٹنگ فیکلٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وزٹنگ استاد کے طور پر بھی کام جاری نہیں رکھ پائیں گے۔ ڈاکٹر عمار علی جان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ریکٹر نے ان سے یونیورسٹی سے باہر ’غیر نصابی سرگرمیوں‘ کے بارے میں بات کی تھی اور انھیں تنبیہ کی کہ ایسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی یا اس کی ساکھ کو کسی نوعیت کا نقصان پہنچے۔ عمار نے مزید بتایا کہ وہ ایف سی کالج میں تین سالہ معاہدے کے تحت کام کر رہے تھے جس کا دوسرا سال جاری تھا اور ہر سال جون کے مہینے میں اس معاہدے کا جائزہ لے کر تجدید کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر عمار علی جان کے مطابق ریکٹر سے گفتگو میں انھیں واضح طور پر بتایا گیا کہ اگر وہ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کے معاہدہ کی دوبارہ تجدید نہیں ہو گی جس پر عمار نے خود نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
عمار علی جان سماجی حلقوں میں اپنے بائیں بازو کے حامی خیالات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور ایک سماجی کارکن کے طور پر وہ مظاہروں اور تقاریب میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈاکٹر عمار علی جان کو ایسے مسائل درپیش ہوئے ہوں۔ گذشتہ برس عمار علی جان کو ان کی رہائش گاہ سے پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن ارمان لونی کی ہلاکت پر ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اس سے قبل کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ڈاکٹر عمار علی جان پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات میں بطور استاد خدمات انجام دیتے رہے لیکن اپریل 2018 میں انھیں یونیورسٹی انتظامیہ نے ’معاہدے کی شرائط پورا نہ کرنے‘ پر نوکری سے برخاست کر دیا تھا اور یونیورسٹی میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ نومبر 2018 میں لاہور میں ہونے والے فیض انٹرنیشنل میلے میں بھی عمار علی جان کو پروگرام شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل اطلاع دی کہ ‘بیرونی دباؤ کی وجہ سے اب انھیں اس سیشن میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔’ اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں عمار علی خان نے صورتحال کو تفصیلی طور پر بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2016 میں پاکستان لوٹنے کے بعد وہ ایک سرکاری یونیورسٹی میں شعبہ تدریس سے منسلک ہو گئے۔ ’میں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی کو جوائن کیا۔ دونوں اداروں نے مجھے ‘قومی سلامتی’ کو جواز بنا کر نوکری سے نکال دیا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ طلبا یکجہتی مارچ کے قریب چیزیں بدلنا شروع ہوئیں جہاں اُن پر اشتعال انگیزی کا الزام لگا۔ ‘مجھ پر بغاوت کا الزام عائد کیا گیا اور یہ کیس ابھی بھی چل رہا ہے۔’ وہ کہتے ہیں کہ انھیں بتایا گیا کہ ’یا تو کیس پر خاموش رہوں یا پھر چلا جاؤں میں نے دوسرا آپشن منتخب کیا۔’
اس سے دو ہفتے قبل بھی ایسی خبریں گردش کرتی رہیں کہ ایف سی کالج کے ہی پروفیسر پرویز ہود بھائی کو بھی ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ کچھ ایسا ہی سلوک محمد حنیف کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔ یعنی پاکستان میں اب کوئی بھی استاد جو طلبا کو تنقیدی انداز میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اسے دروازہ دکھا دیا جاتا ہے۔
عمار علی جان کی ایک ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے صحافي اور تجزیہ کار محمد حنيف نے انکشاف کیا ہے کہ حبیب یونیورسٹی نے بھی ان سے معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ محمد حنیف نے لکھا کہ ’میں بھی کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا لیکن مجھے بھی اسی طرح باہر جانے کا دروازہ دکھا دیا گیا۔‘ اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے حنیف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں ایک رجحان پچھلے چند سالوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پہلے جس طرح ہم جو باتیں ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر یا پھر کھل کر نہیں کر سکتے تھے تو عموما وہ باتیں آپ آپس میں تعلیمی اداروں میں بیٹھ کر کر لیا کرتے تھے مگر اب وہ بھی نہیں کر پاتے ہیں۔ ’اب صورتحال کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ کوئی سماجی کارکن، تنقیدی کام کرنے والا آرٹسٹ، استاد یا کوئی بھی ایسا شخص جو اختلاف رائے رکھتا ہو، اُس کے کام کو ختم کر دیا جاتا ہے یا پھر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ وہ ہمارے دماغ میں گھس کر ہمارے سوچ کو روک سکے۔‘انھوں نے مزيد کہا میں تو ایک صحافی بھی ہوں اور لکھاری بھی لیکن جب میں نے کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا تو مجھے بہت اچھا محسوس ہوا۔ تاہم میرا معاہدہ ایک سال کا ہوا تھا اور جب وہ ختم ہونے والا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ میں مزید پڑھانا چاہتا ہوں لیکن انھوں نے اس معاہدے کو نہیں بڑھایا جس کے بعد میں وہاں نہیں پڑھا پایا۔ ’میں عمار جیسے لوگوں کے لیے سوچتا ہوں کہ میں تو صحافی بھی تھا اس لیے میرا گزارہ ہو گیا لیکن وہ شخص جو اپنا مستقبل ہی بطور استاد لے کر چل رہا ہو وہ کہاں جائے گا۔‘ محمد حنیف نے مزید کہا کہ جب میری ایک کتاب اردو میں شائع ہوئی تو ان لوگوں نے جنھیں اختلاف رائے پر اعتراضات ہوتے ہیں، انھوں نے پبلیشرز سمیت دکانوں سے میرے کتاب اٹھوا دی تاکہ کوئی اسے خرید کر پڑھ نا سکے۔
حنیف کا کہنا تھا کہ ’ہم لکھتے ہیں یا پڑھاتے ہیں تو اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے اور دیکھا جائے تو بات کرنے کا اختیار ہر شخص کو آئینی طور پر ہے۔ جب آپ کسی استاد کو بولنے نہیں دیں گے تو طالبعلم بھی انھیں سن نہیں سکیں گے اور اس کا اثر دوسروں پر ہوتا ہے۔ جس کے بعد باقی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی روزی روٹی چلانی ہے اس لیے وہ بھی پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔‘
ماہر تعلیم اور تاریخ دان ڈاکٹر عارفہ سیدہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کو تبدیلی لانی ہوتی ہے تو سب سے پہلے تعلیم کا نظام ہی یاد آتا ہے۔ ’میں جس سکول سے پڑھی وہ ایک سرکاری سکول تھا۔ میرے خیال میں پہلے دور سے آج کے دور کا تعلیمی نظام زیادہ بوسیدہ اور بدتر ہو گیا ہے۔‘ ’اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ استاد تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کرتے تھے اور کھل کر بولتے تھے تو ہم سنتے بھی تھے اور احترام کے ساتھ اختلاف بھی کرتے تھے۔ آج کل ہمارے میں شدت پسندی اتنی بڑھتی جا رہی کہ کوئی کسی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہوتا ہے۔‘ کہا یہ جاتا ہے کہ یونیورسٹی نے استاد کو نکال دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ‘ہمارے ریاستی اداروں نے ہمارے تعلیمی اداروں کا بھی دم گھوٹ دیا ہے۔ ہمارے اداروں میں ہر چیز پڑھانے کے لیے مخصوص حلقوں کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔’ عارفہ سیدہ کے مطابق ’ہمیں معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک وہ اساتذہ کی بات نہیں سننے کو تیار ہوں گے تو کون سا استاد کس ادارے میں پڑھاتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button