ریاست مخالف دہشتگردوں کو "گڈ طالبان” کیوں کہا جا رہا ہے؟


تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں نے اتحاد کے بعد حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں میں تیزی لانے کا عندیہ دے دیا ہے جس نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ طالبان کے متحارب دھڑوں کو متحد ہونے کی اجازت کون اور کیوں دے رہا ہے؟
معلوم ہوا ہے کہ 2014 کے فوجی آپریشن کے بعد افغانستان بھاگ جانے والے طالبان دوبارہ وزیرستان کے مختلف علاقوں میں واپس آ رہے ہیں مگر حکومت اور ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور انہیں وہ "گڈ طالبان” قرار دے رہے ہیں جنہوں نے عسکریت پسندی سے توبہ کر لی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان نے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تفریق کے چکر میں پڑ کر نقصان اٹھایا تھا اور اب اسٹیبلشمنٹ ایک مرتبہ پھر اسی راستے پر گامزن ہوتی نظر آتی ہے۔
خیال رہے کہ تحریک طالبان سے وابستہ خطرناک ترین دہشت گرد احسان اللہ احسان کے سکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار کے بعد طالبان کے دو بڑے دھڑے دوبارہ ٹی ٹی پی میں ضم ہو گئے ہیں۔ جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے سربراہوں نے اپنی تنظیمیں مفتی نور ولی محسود کی زیر قیادت تحریک طالبان پاکستان میں ضم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مشترکہ جدوجہد کی جا سکے۔ سابقہ جماعت الاحرار کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسف زئی کے مطابق اتحاد کے بعد مزاحمت میں شدت آئے گی۔ اس کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی حکومت کے خلاف مزاحمت پر یقین رکھتی ہے مصالحت پر نہیں۔ ماضی میں مذاکرات کے نام پر ہمارے ساتھ دھوکے کیے گے اس لیے اب مزاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرحد پار افغانستان میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مصالحت کا تحریک طالبان پاکستان پر کسی قسم کا اثر نہیں ہو گا۔
دوسری طرف حال ہی میں پشاور سے سیکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار ہونے والے تحریکِ طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے طالبان کے اتحاد کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ احسان اللہ احسان نے ایک معاہدے کے تحت 4 اپریل 2017 کو خود کو حکومت کے حوالے کیا تھا۔ مگر بعد میں معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر 11 جنوری 2020 کو پشاور میں حکومتی تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اب احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ طالبان گروہوں کا متحد ہونا خطے میں نئے حالات کی طرف پیش قدمی ہے اور اس کے پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس نے کہا کہ پاکستانی اداروں نے عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔ لیکن اب طالبان گروہوں کا جمع ہونا ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ اسنے کہا کہ حکومت سے مصالحت کی بجائے ٹی ٹی پی جنگ کو ترجیح دے گی۔ اگر مفاہمت کا کوئی امکان تھا تو وہ عمر خراسانی کے ٹی ٹی پی میں دوبارہ شامل ہونے سے ختم ہو گیا ہے۔ احسان اللہ احسان کے بقول عمر خراسانی کبھی بھی مفاہمت کے حامی نہیں رہے۔ انہوں نے ہمیشہ جنگ ہی کو ترجیح دی ہے۔
خیال رہے کہ کالعدم شدت پسند تنظیم تی ٹی پی کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے 2009 میں امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے جنگجو کمانڈر عبدالولی مہمند کی قیادت میں ایک گروہ نے علیحدہ کارروائیاں شروع کی تھیں۔ بعد ازاں اس گروہ نے ‘جماعت الاحرار’ کا نام اختیار کر لیا تھا۔ جب کہ نومبر 2013 میں حکیم اللہ محسود کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد جب ملا فضل اللہ تنظیم کا سربراہ بنا، تو محسود جنگجوؤں نے شہر یار محسود کی قیادت میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود کے نام سے ایک علیحدہ دھڑا بنایا تھا۔ سب ان دونوں دھڑوں کے سربراہوں نے اپنی عسکری تنظیمیں تحریک طالبان میں ضم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ جنگجوؤں نے مفتی نور ولی محسود کی قیادت میں مشترکہ کارروائیاں شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکیم اللہ محسود کے بھائی اعجاز محسود اور چچا رسول محمد محسود نے پہلے ہی ایک معاہدے کے تحت اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق حال ہی میں تحریک طالبان میں شامل ہونے والے دونوں دھڑے اپنے جنگجوؤں کے ہمراہ افغانستان سے جنوبی وزیرستان میں اپنے آبائی علاقے میں واپس آ چکے ہیں اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد کاروائیوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یاد ریے کہ 18 اگست 2030 کے روز لاہور سے گرفتار کیے گئے دہشت گردوں کا تعلق بھی ‘جماعت الاحرار’ سے بتایا گیا تھا جن میں ایک 17 سالہ خودکش بمبار بھی شامل تھا، جس نے بتایا کہ وہ عمر خراسانی کے حکم پر لاہور پولیس لائنز پر حملہ کرنے والا تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کے ایک مرتبہ پھر اکٹھے ہونے اور دہشتگرد حملے کرنے کے اعلان کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ 2014 میں طالبان کے خلاف شروع کیے جانے والے فوج کے آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان فرار ہو جانے والے جنگجوؤں کو پاکستان آنے کی اجازت کیسے مل رہی ہے؟ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ان شدت پسندوں کو کون اور کس لیے متحد کر رہا ہے؟ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں طالبان ختم نہیں ہوئے تھے بلکہ منتشر ہوئے تھے اور وہ اب نہ صرف متحد بلکہ دوبارہ سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے قبائلی اضلاع کے لوگ بار بار کہہ چکے ہیں کہ طالبان دوبارہ وزیرستان کے مختلف علاقوں میں واپس آ رہے ہیں مگر حکومت اور حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور انہیں "گڈ طالبان” قرار دے رہے ہیں جنہوں نے عسکریت پسندی سے توبہ کر لی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان نے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تفریق کے چکر میں پڑ کر نقصان اٹھایا تھا اور اب اسٹیبلشمنٹ ایک مرتبہ پھر اسی راستے پر گامزن ہوتی نظر آتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button