ریاست مسنگ پرسنز کے اہلخانہ کے ساتھ کیا ظلم کر رہی ہے؟

ریاست پاکستان نہ صرف سالہا سال سے جبری طور پر گمشدہ افراد کو بازیاب کروانے میں ناکام ہے بلکہ ان کے لواحقین کی قانونی اور مالی مدد کے سلسلے میں عدالتی احکامات کو پس پشت ڈال رہی ہے جس کے باعث اپنے پیاروں کے منتظر خاندان گوناگوں مشکلات کا شکار ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست گمشدہ افراد کو واپس نہیں لا سکتی تو کم سے کم ان کے پییچھے رہ جانے والے خاندانوں کی قانونی اور مالی مشکلات کا ازالہ ضرور کر سکتی ہے۔ 2016 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دے رکھا ہے ، جس کے مطابق گمشدہ شخص کے گھر والوں کی کفالت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس پر انجان وجوہات کی بنا پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے جس کے باعث مسنگ پرسنز کے اہلخانہ کی زندگیاں مزید اجیرن ہوچکی ہیں۔
لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کے جبری طور پر گمشدہ ہونے کا غم تو ہر لمحہ محسوس کرتے ہیں، لیکن گھر کا ایک فرد بھی اس طرح لاپتہ ہو تو پیچھے رہ جانے والے کئی قانونی پیچیدگیوں اور مالی مشکلات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک طرف ایک بیوی اپنے شادی شدہ ہونے یا بیوہ ہونے کا سوال کرتی ہے تو دوسری طرف ایک بیٹی کو اس ملک میں اپنی شناخت لینے کے لیے دو سال عدالتوں کے دھکے کھا کر حق حاصل کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکڑ دین محمد بلوچ کی بیٹی، سمی بلوچ کے مطابق جب انھیں اپنا شناختی کارڈ بنوانا تھا اٌس وقت اٌن سے ان کے والد کا شناختی کارڈ بھی مانگا گیا، لیکن وہ چونکہ اپنی مدت پوری کر چکا تھا اس لیے نادرا نے ان سے والد کے نئے کارڈ کا مطالبہ کیا۔ میرے والد لاپتہ ہیں، میں اٌن کا نیا شناختی کارڈ کہاں سے لاتی؟ یا پھر مجھے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جمع کروانے کا کہا گیا لیکن میں اپنے زندہ والد کو مردہ کیسے تسلیم کر لیتی؟سمی بلوچ بتاتی ہیں کہ انھیں دو سال عدالت کے چکر کاٹنے پڑے جہاں سے انھوں نے خصوصی حکم جاری کروایا جس کے بعد جا کر ان کا اپنا شنا ختی کارڈ بنا۔سمی بلوچ جسیے سینکڑوں خاندان ایسے ہیں جنہیں ایک طرف اپنے والد، بیٹے یا بھائی کی جدائی کا غم، تو دوسری طرف ان کے گمشدہ ہو جانے سے روزگار یا تنخواہ بھی بندش جیسے مسائل سے بھی نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔
پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی اور انکوائری کے لیے مارچ 2011 میں بنائے گئے وفاقی کمیشن کے اگست 2021 تک کے اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ہزار ایک سو بائیس جبری گمشدگی کے کیسز موصول ہوئے۔جن میں سے 5853 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ اس وقت بھی دو ہزار دو سو انہتر کے لگ بھگ کیسز کمیشن میں موجود ہیں۔ہیومن رایٹس کمیشن آف پاکستان کے بلوچستان چیپٹر کے سربراہ حبیب طاہر سمجھتے ہیں کہ اب جبری گمشدگی کے کیسز کم تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں، اٌس کی بڑی وجہ لوگوں میں خوف ہے۔حبیب طاہر کہتے ہیں کہ ’ہمارا، سول سوسائٹی کا بڑے لمبے عرصے سے ایک مطالبہ رہا ہے کہ اس متعلق قانون سازی کی جائے تاکہ اس مسئلے اور اس سے جڑے لواحقین کے مسائل کو ایک آئینی کور مہیا کیا جا سکے۔ لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی ان قانونی مشکلات کے بارے میں حکومت کو ادراک تو ہے اور وہ انھیں پیچیدہ بھی تسلیم کرتے ہیں۔
اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگی کا شکار افراد کے اہل خانہ اگر کسی قانونی مسئلے میں پھنسے ہوئے ہیں تو ہر ایک معاملے کے حل کے لیے الگ فورمز موجود ہیں۔
وہ ان سے رجوع کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’ان لاپتہ افراد میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو اپنے مرضی سے افغانستان چلے گئے یا کسی تنظیم کا حصہ بن کر گھر سے الگ ہو گئے اور واپس نہیں آئے۔ زیادہ تر لوگ تو ویسے ہی واپس آ چکے ہیں، ایک چھوٹا سا سیگمنٹ رہ گیا ہے جن کو ایسے مسائل درپیش ہیں۔وفاقی وزیر نے اس تاثر کو زائل کرنے کی بھی کوشش کی کہ ان افراد کی گمشدگی سے کسی ادارے کا کوئی ہاتھ نہیں۔ جنھیں پکڑا گیا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اٌنھیں واپس بھیج دیا گیا تھا۔اس برس جون میں قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے انسانی حقوق کی وزارت کی جانب سے تیارہ کردہ ایک بِل منظور کر کے ایوان میں بحث کے لیے بھیجا تو تھا لیکن کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی اب تک اس پر باقاعدہ بحث شروع نہیں ہو سکی۔
18 اکتوبر کو یہ بِل ایک بار پھر وزیر داخلہ ایوان میں لائے تو سہی لیکن معاملہ پھر کسی بحث اور نتیجے کے خاموش ہو گیا۔ گذشتہ کئی سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار افراد کے لواحقین کے کیسز لڑنے والے وکیل ہائی کورٹس عمر گیلانی کا کہنا ہے کہ اگر ریاست گمشدہ افراد کو واپس نہیں لا سکتی تو کم سے کم ان کے پییچھے رہ جانے والے خاندانوں کی قانونی مشکلات کا ازالہ ضرور کر سکتی ہے۔عمر گیلانی کے مطابق 2016 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دے رکھا ہے کے جس کے مطابق گمشدہ شخص کے گھر والوں کی کفالت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے لیکن اس پر انجان وجوہات کی بنا پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
عمر گیلانی کا کہنا ہے کہ ’ضلعے کی سیشن کورٹ کے پاس پہلے سے سیکشن فور نائنٹی ون پینل کوڈ کے تحت یہ اختیار موجود ہے کہ وہ گمشدہ شخص کے حوالے سے آرڈر جاری کر سکتی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سب سے آسان اور موثر طریقہ یہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اس حد تک بااختیار ہیں کہ وہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کی برآمدگی کا حکم بھی دے سکتے ہیں اور ان کے لواحقین کے حقوق سے متعلق حکومت کو بھی احکامات دے سکتے ہیں۔ ایڈووکیٹ عمر گیلانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک اس حوالے سے اعلیٰ عدالتوں نے بہت سے باتیں کیں ہیں لیکن کوئی فیصلے جاری نہیں کیے، سوائے اسلام آباد ہائی کورٹ کے۔انھوں نے کہا کہ اس تمام قانون کی وضاحت کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے۔
