زلفی بخاری نے بشریٰ بی بی کا داماد ہونے کی تردید کردی

وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری عرف زلفی بخاری نے خاتون اول بشریٰ بی بی کے داماد ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویومیں زلفی بخاری نے کہا کہ خاتون اول میری والدہ کی جگہ پر ہیں اور ان کی بیٹیاں میری بہنوں جیسی ہیں۔ زلفی بخاری نے اعتراف کیا کہ ا س طرح کی بے پر کی اور جھوٹی خبروں کی وجہ سے بشری بی بی اور میرے خاندان کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے ہمیں کافی مایوسی بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بال بچوں والا ہوں اور ایسی بے بنیاد افواہوں سے میرے گھر والے بھی بڑی پریشانی کا شکار ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری خاتون اول بشریٰ بی بی کے داماد بن چکے ہیں ہیں، اسی لئے انہیں حکومت میں اہمیت دی جاتی ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ افواہ کئی مہینے گردش کرتی رہی کہ بشری بی بی کی بڑی بیٹی مہرو مانیکا ،جو طلاق یافتہ ہیں اور 2018 میں تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیارچکی ہیں، زلفی بخاری کے عقد میں آ چکی ہیں۔
تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ زلفی بخاری وزیراعظم کے عمران خان کے سب سے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سعودی حکمرانوں سے بڑھتی ہوئی دوریوں کی ایک بڑی وجہ زلفی بخاری کا ان کے بہت قریب آ جانا ہے۔ ماضی قریب میں شاید ہی عمران خان سے جڑا کوئی ایسا اہم واقعہ ہو جس میں زلفی بخاری کا نام سامنے نہ آیا ہو۔ انہوں نے نہ صرف عمران خان کے ایما پر ان کی دوسری اہلیہ ریحام خان کو طلاق دینے کے بعد کے معاملات طے کیے بلکہ موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی سے نکاح میں بھی بطور گواہ دستخط کیے۔ کہا جاتا ہے کہ زلفی بخاری عمران خان کو سیاست میں آنے سے پہلے سے جانتے ہیں۔ زلفی بخاری برطانوی شہری ہیں اور وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ مستقل طور پر تو لندن میں رہتے ہیں تاہم ان کے والدین اور دیگر رشتہ دار پاکستان میں ہی ہیں۔ زلفی بخاری جائیداد کی خریدو فروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں جو کہ انگلستان میں ہے، پاکستان میں زلفی کا کوئی کاروبار نہیں ہے۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں زلفی بخاری نے بتایا ہے کہ میری ایک بیوی اور 2 بیٹے ہیں، خاتون اول بشری بی بی کی بیٹی سے منسوب کئے جانے بعد مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، میری پوری فیملی اس کی لپیٹ میں آگئی تھی۔ مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے زلفی بخاری کی جانب سے کہا گیا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کو اس طرح کی خبریں پھیلا کر کیا ملتا ہے، ایسی خبریں پھیلائی جاتی ہیں جن میں حقیقت کا پہلو نہیں ہوتا۔ زلفی بخاری نے ان خبروں کو نچلے درجے کا جھوٹ قرار دیتے ہوئے انٹرویو میں بار بار وضاحت کی کہ خاتون اول بشری بی بی ان کی والدہ کی جگہ پر ہیں جبکہ ان کی سب بیٹیاں ان کی بہنوں جیسی ہیں۔
دوسری طرف نون لیگ کے ایم این اے محسن رانجھا نے زلفی بخاری کو وزیر اعظم کے مشیر کا عہدہ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنتے ہوئے کہا ہے کہ جس شخص نے پاکستان سے وفاداری کا حلف نہیں اٹھایا وہ کس طرح کابینہ کا حصہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی شہریت رکھنے والا زلفی بخاری پاکستان کے مفاد میں فیصلے کیسے کر سکتا ہے۔ تاہم محسن رانجھا کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے زلفی بخاری نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت رکھتے ہیں اور محسن رانجھا کے اعتراض سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ایک کروڑ تارکین وطن پاکستا نیوں کو نون لیگ پاکستانی سمجھتی ہی نہیں جبکہ ان کا اپنا سربراہ بیرون ملک بھاگا ہوا ہے۔
