سردار اختر مینگل کاحکومت کا دوبارہ حصہ بننے سے انکار

بلوچستان نینشل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ حکومت میں واپس جانا میرے بس میں نہیں، حکومت کا ساتھ ہی چھوڑدیا تو بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کیوں بنے؟ حکومت بلوچستان کے مسائل حل کر دے،پورا بلوچتسان پی ٹی آئی جوائن کرلے گا۔
اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے علیحدگی، پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا فیصلہ ہے،فرد واحد کا نہیں۔ حکومت میں واپس جانا اب میری ذات کے بس میں نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ تحریک انساف سے ان کے کوئی ذاتی اختلافات نہیں بلکہ انھوں نے اصولی مؤقف پر حکومت کا ساتھ چھڑا ہے تاہم اگرحکومت بلوچستان کے مسائل حل کر دے، بی این پی تو کیا پھر پورا بلوچتسان پی ٹی آئی جوائن کرلے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ساتھ ہی چھوڑدیا تو بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کیوں بنے؟ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نینشل پارٹی واحد جماعت ہے جس نے اس طرح کا فیصلہ کیا ہے، حالانہ پارلیمانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے ایوان میں حکومت سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہو۔
اختر مینگل نے کہا کہ ہم پہلے بھی حکومت کو وارننگ دیتے رہے لین حکومت نے ہمارے مظالبات کو سنجیدہ نہیں لیا. ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر بی این پی کی واپسی کیلئے واقعی ہی سنجیدہ ہے تو بلوچستان کے مسائل کو حل کرے۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب بھی ہم آزاد بنچوں پربیٹھے ہوئے ہیں۔ حکومت کوبارباراپنے خدشات کا اظہارکرتے رہے لیکن حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا.
واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے اعلان کے بعد حکومت نے ناراض اتحادی جماعت بی این پی مینگل کو منانے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔حکومتی کمیٹی میں پرویز خٹک ، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور شبلی فراز شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ اتحادی جماعتوں سے رابطے جاری رکھے جائیں۔حکومت اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی طرف سے بی این پی مینگل سے رابطہ کیا گیا ہے اوران کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے. ان کو یقین دلایا گیا ہے کہ 6 نکاتی معاہدے پرضرورعملدرآمد ہوگا۔ تاہم ابھی تک بی این پی مینگل کی قیادت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا.۔
