زیادہ حقیقت پسند بنیں، وزیر خارجہ نے افغان طالبان کی پہچان کا روڈ میپ دے دیا

حقیقت پسند بنیں، صبر کا مظاہرہ کریں، مشغولیت اپنائیں اور سب سے بڑھ کر آئی سولیٹ نہ ہوں، پاکستان کے پڑوس میں اقتدار سنبھالنے والی نئی حکومت سے نمٹنے کے لیے پاکستان ان چیزوں پر انحصار کر رہا ہے۔
پاکستان نے تجویز دی ہے کہ بین الاقوامی برادری ایک روڈ میپ تیار کرے جو افغان طالبان کی سفارتی پہچان کا باعث بنے اور اس میں ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مراعات ہوں اور پھر آمنے سامنے بیٹھ کر گروپ کے رہنماؤں سے بات کریں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عالمی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو انٹرویو دیتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ‘اگر وہ ان توقعات پر پورا اترتے ہیں تو وہ اپنے لیے آسانی پیدا کریں گے، انہیں تسلیم کیا جائے گا جو کہ پہچان کے لیے ضروری ہے، اس ہی دوران بین الاقوامی برادری کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ متبادل کیا ہے؟ اختیارات کیا ہیں؟ یہ حقیقت ہے اور کیا وہ اس حقیقت سے منہ موڑ سکتے ہیں؟’
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے جس میں دہشت گرد عناصر کے قدم جمانے کی گنجائش نہ ہو اور طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین دوبارہ کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘تاہم ہم کہہ رہے ہیں اپنے نقطہ نظر زیادہ حقیقت پسندانہ بنائیں، ان کے ساتھ مشغول ہونے کا ایک جدید طریقہ آزمائیں، جس طرح سے ان کے ساتھ نمٹا گیا تھا وہ اب کام نہیں کر رہا ہے’۔
