سابق میجر جنرل کا بیٹے غدار قرار, کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ

نام نہاد قومی مفاد کے نام پر خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے بلڈی سویلینز پر وطن دشمنی اور غداری کے الزامات لگانے اور انہیں اغوا کرنے کے پے درپے واقعات کے بعد اب پاکستانی تاریخ میں پہلی بار ایک سابقہ میجر جنرل کے بیٹے کو بھی فوجی قیادت کیخلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں یہ میں گرفتار کر کے اس کا کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

معلوم ہوا یے کہ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ ٹو سٹار جنرل نے اپنے انجینئیر بیٹے حسن عسکری کی گرفتاری کے بعد خفیہ اداروں سے اسکی بازیابی کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس دائر کر دیا یے جسکے بعد عدالت نے حکام سے 20 جنوری تک جواب مانگ لیا ہے۔
پاک فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی عسکری نے فوجی حکام کی تحویل سے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو پاک فوج کی موجودہ قیادت کی مبینہ غلط پالیسیوں کے خلاف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کچھ دیگر سینئر جرنیلوں کو خطوط لکھنے پر قید میں ڈال کر اس کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی کا آغاز کردیا گیا ہے جو کہ سراسر ذیادتی اور قانون کے خلاف ہے۔ کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے شالیمار پولیس اسٹیشن اسلام آباد کے ایس ایچ او اور فوج کے ایڈجوٹینٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے میجر جنرل (ر) سید ظفر مہدی عسکری کی دائر کردہ درخواست پر 20 جنوری تک جواب طلب کرلیا ہے۔ درخواست گزار کی وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ ظفر مہدی عسکری کے بیٹے حسن عسکری ایک شہری ہیں جنہیں دفعہ 131 کے تحت ایک مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا لیکن جوڈیشل مجیسٹریٹ نے انہیں دباو پر پاک فوج کے ایڈجوٹینٹ جنرل کے حوالے کردیا ہے جس نے حسن کے کورٹ مارشل کا حکم جاری کردیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ان کے بیٹے کو رہا کرنے اور اس کی کورٹ مارشل کی کارروئی روکنے کا حکم دیا جائے۔ کیس کی تفصیلات کے مطابق حسن عسکری پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں اور بی آئی اے ایف او انڈسٹریز میں کام کررہے تھے، جنہیں 2 اکتوبر 2020 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-11 میں ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا تھا ۔ بعد ازاں مجیسٹریٹ نے ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے لیے اسی روز انہیں فوجی حکام کی تحویل میں دے دیا تھا۔ درخواست کے مطابق حسن عسکری نے چیف آف آرمی اسٹاف کو خطوط لکھ کر مسلح افواج کی قیادت کے فیصلوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور انکی پالیسیز پر تنقید کی تھی، انکا موقف ہے کہ اگر انکے بیٹے نے اپنے خطوط میں سخت الفاظ استعمال کیے تو وہ محض ایک شہری کی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کی بنیاد پر کورٹ مارشل کی کارروائی کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ میجر جنرل عسکری کا کہنا یے کہ پاکستانی این ہر شہری کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی دیتا ہے اور یہ معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ اسی لیے انکا بیٹا ریاستی اداروں کی کچھ پالیسیز اور افعال پر عدم اطمینان کے اظہار کے لیے خطوط کا سہارا لے رہا تھا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ حسن عسکری نے کبھی فوجی قیادت کو کوئی تضحیک آمیز یا متنازع خطوط نہیں لکھے، اور نہ ہی ان میں جمہوری حکومت کو ختم کرنے پر اکسانے یا اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ خطوط لکھنے کا بنیادی مقصد موجودہ فوجی امور میں خامیوں کو اجاگر کرنا تھا، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ ختم کیا جائے اور اس کی فوری رہائی کا حکم دیا جائے۔

تاہم دوسری طرف عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے حسن عسکری کے انتہا پسندوں سے رابطے تھے لہذا گرفتاری ضروری تھی۔ ذرائع نے یاد دلایا کہ کچھ برس پہلے اسلام آباد میں ایک اور ریٹائرڈ فوجی افسر کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جو کہ بعد میں بے نظیر بھٹو مرڈر کیس کے چیف پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار گھر کا قاتل نکلا جسکا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔ یاد رہے کہ عبداللہ عمر نامی نوجوان قتل کی واردات کے روز چوہدری ذوالفقار کے گن مین فرمان کی گولی سے شدید زخمی ہوا تھا اور بعدازاں ملزم کے ساتھی اُسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔ گولی عبداللہ کی ریڑھ کی ہڈی پر لگی تھی جس کی وجہ سے وہ معذور ہوگیا تھا۔ عبداللہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ایل ایل بی کا طالب علم تھا اور اس کے والد کرنل ریٹائرڈ خالد محمود عباسی اُن فوجی افسران میں شامل تھے جنہیں 2003 میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button