پاک فوج کی رینکنگ بہتر ہو کر 15ویں سے 10ویں نمبر پر آ گئی


اپنی فوجی قوت میں پانچ درجے ترقی حاصل کر کے اب پاکستان دنیا کا دسواں طاقتور ترین ملک بن گیا ہے۔ گلوبل فائر پاور انڈیکس کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جس کی طاقت میں اضافہ ہوا اور دنیا کی طاقتور افواج کی فہرست میں اس کی فوج کی رینکنگ میں بہتری آئی ہے، یاد ریے کہ سال 2019 میں پاک فوج اس فہرست میں 17 ویں نمبر پر تھی اور 2020 میں 15ویں نمبر پر تھی لیکن 2021 اب یہ دسویں نمبر پر آگئی ہے۔

خیال رہے کہ گلوبل فائر پاور انڈیکس ہر سال فوجی قوت کے مطابق ممالک کی درجہ بندی کی فہرست جاری کرتا ہے۔ رینکنگ کی بنیاد 50 سے زائد فیکٹرز کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ ان فیکٹرز میں ملٹری حجم سے لے کر ملک کی فنانشل پوزیشن، جغرافیائی حیثیت جیسے عوامل شامل ہیں۔ فوجی لحاظ سے طاقتور ممالک میں امریکا پہلے، روس دوسرے، چین تیسرے نمبر پر ہیں۔ جاری کردہ فہرست میں دنیا کے 138 ممالک کی افواج میں پاک فوج کا 10واں نمبر ہے اور اس کی پاور انڈیکس ریٹنگ 0.2083 ہے۔ اس فہرست میں بھارت بدستور چوتھے، جاپان پانچویں، جنوبی کوریا چھٹے، فرانس ساتویں، برطانیہ آٹھویں اور برازیل نویں نمبر پر ہیں۔ فہرست کا جائزہ لیا جائے تو دنیا کی پہلی 15 افواج میں سے پاکستان کے علاوہ کسی کی درجہ بندی میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ گزشتہ برسوں میں صرف پاکستان کی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی درجہ بندی کےلیے افرادی قوت سمیت دیگر تفصیلات بھی شامل کی جاتی ہیں۔ گلوبل فائر پاور انڈیکس کے تخمینے کے مطابق پاکستان کی موجودہ افرادی قوت 9 کروڑ 61 لاکھ ہے اور اس لحاظ سے پاکستان 138 ممالک میں سے چھٹے نمبر پر ہے، جب کہ فعال اہلکاروں کی تعداد 6 لاکھ 54 ہزار ہے اور اس میں بھی پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔
ہر سال ملک میں فوج میں بھرتی کی عمر کو پہنچنے والے افراد کی تعداد 43 لاکھ 27 ہزار سے زائد ہے جس میں پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔

خیال رہے کہ سال 2021 میں دنیا کی طاقتور ترین افواج میں شامل کچھ ملکوں کی درجہ بندی میں تنزلی بھی دیکھی گئی۔ سال 2021 میں مصر، جرمنی، اسرائیل، شمالی کوریا، جنوبی افریقہ، میانمار، کولمبیا، رومانیا، میکسیکو، پیرو، ڈنمارک، عراق، شام، انگولا، بلغاریہ، کیوبا، یمن، بولیویا، جمہوریہ کانگو، نیوزی لینڈ، ترکمانستان، یوگنڈا، چاڈ، جیورجیا، گوتیمالا, تاجکستان، یوروگوئے، بحرین، مالی، کیمرون، تنزانیہ، ہونڈورس، آئوری کوسٹ سمیت دیگر کی درجہ بندی میں تنزلی آئی۔

گلوبل فائر پاور کے مطابق بھارت کی دوج 2021 میں بدستور چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ گلوبل فائر پاور ویب سائٹ کے مطابق انڈیا سب سے طاقتور ترین افواج کی فہرست میں 136 ملکوں میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا نمبر 07 واں ہے۔ یاد ریے کہ انڈیا آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے آگے ہے، اس کی آبادی 1.2 ارب ہے جبکہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ہے۔ پاکستانی فوج کی تعداد نو لاکھ 20 ہزار ہے جبکہ انڈیا کی فوج کی تعداد 42 لاکھ ہے۔انڈیا اور پاکستان کے دفاعی بجٹ میں بہت فرق ہے۔ انڈیا اپنے دفاع پر 47 ارب ڈالر لگاتا ہے جبکہ پاکستان کے دفاعی اخراجات 7 ارب روپے ہیں۔

انڈیا کے پاس 2185 فضائی طیارے ہیں اور اس کے مقابلے میں پاکستان کے پاس 1281 طیارے ہیں۔ ان میں سے پاکستان کے پاس 320 اور انڈیا کہ پاس 590 لڑاکا طیارے ہیں جبکہ 804 انڈین اور 410 پاکستانی طیارے بمبار ہیں۔ انڈیا کے پاس 708 اور پاکستان کے پاس نقل و حمل کے 296 فضائی طیارے ہیں۔

پاکستانی فوج کے پاس 328 ہیلی کاپٹر ہیں اور انڈیا کے پاس 720 ہیں۔ ان میں سے پاکستان کے پاس 49 لڑاکا ہیلی کاپٹر ہیں جبکہ انڈیا کے پاس فقط 15 ہیں۔ انڈیا کے آپریشنل ہوائی اڈوں کی تعداد 346 جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 151 ہے۔ پاکستان کے پاس کُل 2182 اور انڈیا کے پاس اس سے دو گنا زائد یعنی 4426 ٹینک موجود ہیں۔

انڈیا کے پاس 3147 بکتربند لڑاکا گاڑیاں جبکہ پاکستان کے پاس 2604 ہیں۔ پاکستان کے پاس انڈیا کے مقابلے میں زیادہ خودکار توپیں ہیں۔ انڈیا کے پاس 190 ہیں اور پاکستان کے پاس 307 ہیں۔ لیکن انڈیا کے پاس 4158 عام توپیں ہیں اور پاکستان کے پاس صرف 1240 ہیں۔

انڈیا کی بحری افواج کے پاس 295 اور پاکستان کے پاس 197 بحری اثاثے ہیں۔ انڈیا کے پاس ایک بحری بیڑا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کے پاس پانچ آبدوزیں ہیں اور انڈیا کے پاس 16 ہیں۔ انڈیا کے پاس 14 فریگیٹ ہیں اور پاکستان کے پاس 10۔ انڈیا کے پاس 11 بحری جنگی جہاز ہیں لیکن پاکستان کے پاس ایسا کچھ نہیں، انڈیا کے پاس 22 چھوٹے بحری جنگی جہاز ہیں جبکہ پاکستان کے پاس یہ بھی نہیں ہیں۔ انڈیا کے پاس 139 گشت کرنے والی کشتیاں ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 11 ایسی کشتیاں ہیں۔

انڈیا اور پاکستان دونوں کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں لیکن گلوبل فائر پاور نے اپنی رپورٹ میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ادارے کا اس متعلق موقف یہ ہے کے وہ اپنے جائزوں میں جوہری صلاحیت کو زیر غور نہیں لاتا لیکن وہ یہ بات تسلیم کرتا یے کہ جوہری ہتھیار دونوں ملکوں میں جنگ کو روکنے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button