سابق کرکٹرز پاکستانی ٹیم پر کیوں برس پڑے؟

کرکٹ ورلڈکپ کے دوران ابتدائی شکستوں پر شائقین کو حوصلہ کرنے کی تلقین کرنے والے سابق کرکٹرز بھی آخر کار پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس پر خاموش نہ رہ سکے، اور قومی کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔پاکستانی ٹیم کی افغانستان کے ہاتھوں ’’شرمناک شکست‘‘ پر وسیم اکرم، مصباح الحق، شعیب اختر سمیت دیگر سابق کرکٹرز نے قومی کھلاڑیوں کی خوب کلاس لی، ورلڈ کپ کے اہم میچ میں افغانستان نے ایک اور بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے پاکستان کو پہلی بار 8 وکٹوں سے بدترین شکست دی ہے، اس میچ کے بعد پاکستان کی ایونٹ کے سیمی فائنل تک رسائی پر ایک بار پھر گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔گرین شرٹس اب اپنا اگلا میچ جنوبی افریقہ، بنگلا دیش، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ سے کھیلے گی اگر وہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنا چاہتے ہیں تو اب ان کے لیے تمام میچز جیتنا ضروری ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ مکی آرتھر، گرانٹ بریڈ برن اور بابراعظم اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں، خراب فیلڈنگ کے علاوہ بیٹنگ اور باؤلنگ میں مسلسل ناقص کارکردگی پر سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے کھلاڑیوں کی فٹنس پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے منیجمنٹ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔اے اسپورٹس چینل پر گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ شرمندگی کی بات ہے کہ افغانستان 2 وکٹوں کے نقصان سے 280 جیسا بڑا اسکور بنا گیا، ہمارے کھلاڑیوں کا فٹنس لیول دیکھیں، ہم کئی ہفتوں سے ٹی وی اسکرین پر چیخیں مار رہے ہیں کہ 2 سال سے کھلاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ نہیں ہوا۔57 سالہ وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، کوچنگ سٹاف اور انتظامیہ میں تبدیلیوں پر مایوسی کا اظہار کیا، اسی پروگرام کے دوران شعیب ملک نے کہا کہ ہمارے سپنرز کو بھی باؤلنگ میں کافی مشکل ہو رہی ہے، ہمارے کپتان آؤٹ آف دی باکس نہیں سوچتے۔اس کے علاوہ شعیب اختر نے یوٹیوب پر قومی ٹیم کی کارکردگی پر تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ قومیں اچھے لوگوں کو مقام دیتی ہیں اور پھر یہی لوگ تاریخ بناتے ہیں انہیں لوگوں سے ادارے تشکیل پاتے ہیں، پاکستان کے ساتھ بھارت کے سابق کرکٹرز نے بھی پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر اپنا تجزیہ دیا۔سابق بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر نے کہا کہ ہم نے ایشیا کپ میں بھی پاکستان کی فیلڈنگ پر بات کی تھی، ایشیا کپ سے لے کر پاکستان کی فیلڈنگ مسلسل خراب ہے، اسپنرز سے باؤلنگ نہیں ہو رہی ہے، تینوں اسپنرز میں سے کوئی ایک بھی وکٹ نہیں لے سکا، پاکستان کے ٹاپ پانچ بلے باز ایک ہی قسم کے ہیں، ان کے پاس افتخار احمد کے علاوہ کوئی بہتر بلے باز نہیں جو کھیل کو آگے لے جا سکے۔سابق بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ اور انگلینڈ کے سابق کرکٹر مائیکل وان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر قومی ٹیم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک unpredictable ٹیم ہے لیکن گزشتہ تین میچز میں جس طرح وہ کھیلی ہے اور اپنی شکست پر بہانے بنا رہی ہے تو یقینی طور پر ایسا ہونا تھا، پاکستان ٹیم نے اپنی کمزوریوں پر توجہ نہیں دی، افغانستان کے لیے آج فخر کا دن تھا، انگلینڈ کے سابق کرکٹر مائیکل وان نے لکھا کہ میرا خیال ہے کہ ’دل دل پاکستان‘ آج چنئی میں نہیں چلایا گیا۔
