سابق ISI چیف اسد درانی کو آرمی چیف سے کیا گلے ہیں؟


بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کے ساتھ مل کر دا سپائی کرونیکلز نامی کتاب لکھنے کی پاداش میں جی ایچ کیو اور عدالتوں کے عتاب کا سامنے کرنے والے سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کہتے ہیں کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے سابق باس مرزا اسلم بیگ کو مہران بینک سکینڈل میں کلیئر کروانے کے لئے مجھے نشانے پر رکھا ہوا ہے اور اپنی ہی فوج میں مجھے غدار قرار دے دیا گیا جس کے بعد میں نے مجبورا انڈیا سے اپنی تیسری کتاب آنر انگ سپائیز جاری کرکے ان کرداروں کو بے نقاب کیا ہے جو ملک کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ مخالفین مجھ جیسے حق پرست کو ہر صورت سزا دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
اسد درانی کے بقول اگر دائمی طور پر مخالف ممالک سے تعلق رکھنے والے کسی بھی سابقہ ​​انٹیلیجنس سربراہ نے کبھی ایسا کام کیا تو مجھے نہیں معلوم۔ لیکن واقعتاً یہ برصغیر میں پہلےکبھی نہیں ہوا تھا۔
یاد رہے کہ اس دوران میں نے اپنی تازہ کتاب میں پاکستانی افواج کے سیاسی کردار پر شدید تنقید کی ہے۔ انگریزی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے حالیہ آرٹیکل کے شروع میں اسد درانی لکھتے ہیں کہ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور یوتا ہے، یہ وہ ضرب المثل ہے جو ہمیں ہمارے اسکول کے دنوں سے ہی پڑھائی جاتی تھی۔ تلوار سے ناطہ ٹوٹنے یعنی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد، قلم ہی میرا واحد ہتھیار تھا۔ میرا فوج میں طویل کیریئر کئی حوالوں سے یاد گار رہا۔ مجھے پاک فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچ کر خدمات انجام دینے کا موقعہ ملا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں نے ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سربراہی کی اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد سفارت کاری بھی کی۔ اس سفر نے میرے مشاہدات کو نکھار نے میں مدد کی اور میری پہلی کتاب ، پاکستان ایڈرافٹ کے لئے کافی مادہ مہیا کیا۔اس کتاب میں اسد درانی نے پاک فوج کی شاندار روایات کا تذکرہ کیا۔
وہ کہتے ہیں اس دوران مجھے ایک اور کتاب لکھنے کی سوجھی۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت سے ملاقات نے دراصل مجھے ایسا کرنے کی تحریک دی۔ میری طرح کشمیر میں ان کا بھی وسیع تجربہ تھا جس نے ہمارے معلوات اور تجربات کے تبادلے کو زیادہ کارآمد بنا دیا۔ اس کے بعد ، ہم نے انٹیلی جنس اور کشمیر کے بارے میں مشترکہ طور پر مقالے لکھے اور انہیں عوامی فورمز پر شائع کروانے کے لئے تیار کیا۔ اس کے فوراً بعد ہی اے ایس دُلت کی ایک کتاب ، کشمیر: دی واجپئی ایئرز کے ٹائٹل ساتھ شائع ہوئی۔ دُلت کی کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی نے انہیں انڈیا میں تنقید کا نشانہ بنوایا لیکن اس کتاب کو پاکستان میں بہت پذیرائی ملی۔ درانی کے مطابق دُت کے ساتھ مل کر پاک بھارت معاملات اور کشمیر تصفیئے پر کتاب لکھنے کا واقعہ منفرد اس لئے ہے کہ دو متحارب ممالک کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہوں نے کبھی مل کر کوئی تصنیف تحریر نہیں کی۔ اسد درانی کے بقول میں نے سوچا کہ ایک ایسی کتاب کے ذریعے میں پاکستان کا بیانیہ بہترین انداز میں قارئین تک پہنچا سکتا ہوں۔ بہرحال ایک ماڈریٹر کی مدد سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ہمیں تقریبا دو سال لگے جس نے بھارت پاکستان تعلقات کو متاثر کرنے والے متعدد معاملات سے پہلی بار پردہ اٹھایا۔
یہ کتاب دا اسپائی کرونیکلز: را ، آئی ایس آئی اور الیوژن آف پیس کے عنوان سے ہارپرکولنس نے شائع کی تھی اور اسے 23 مئی ، 2018 کو دہلی میں لانچ کیا گیا تھا۔ میں ہماری مشترکہ کوشش سے کافی خوش تھا کیونکہ اس نے پاکستان کی علاقائی پالیسیوں کو ایک معقول انداز میں پیش کیا تھا۔ اور پھر اس کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلےمیں ایک زبردست اجتماع ہوا – ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، سابق نائب صدر حامد انصاری، ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، سابق مرکزی وزراء، قومی سلامتی کا مشیر دو دیگر سابق انٹیلیجنس سربراہوں اور ہندوستانی دانشور طبقے کی ایک کہکشاں تھی جس نے کتاب کی مرکزی سفارشارت یعنی ہندوستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، کی منظوری دی۔
تاہم درانی کہتے ہیں کہ دوسری جانب اس کتاب کی لانچنگ کے چھ دن بعد ہی مجھے جی ایچ کیو طلب کر لیا گیا۔ شاید فوج اس حوالے سے اٹھنے والے طوفان کی شدت کو کم کرنا چاہتی تھی کیونکہ میرے خلاف غداری اور ملک دشمنی کے فتوے لگائے جاچکے تھے۔ یہ بھی اعتراض تھا کہ میں نے فوج کی اجازت کے بغیر یہ کتاب کیوں لکھی۔ یقینا مجھ سے سوال جواب میں یہ دونوں نکات اٹھائے گئے تھے لیکن جلد میں نے ثابت کردیا کہ بہت ساری کتابیں بغیر اجازت کے لکھی جا چکی ہیں۔ اسد درانی کے مطابق اس کارروائی کی صرف ایک رسمی حیثیت تھی۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے شور مچانے کے نتیجے میں عدالت انکوائری کرنے اور میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ پہلے ہی لیا جا چکا تھا۔ ساتھ ہی مجھے کہا گیا کہ میڈیا سے بات نہ کریں۔ پھر عدالت نے جون اور جولائی میں چند سماعتیں کیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیس کس ایکٹ کے تحت بنایا گیا ہے اور مجھ پر کیا الزام عائد کیا گیا ہے۔میرے سوال کے جواب میں مجھے اتنا ہی بتایا گیا کہ انکوائری کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ سماعتوں کے دوران کتاب کے مندرجات کے بارے گھما پھرا کر سوالات کئے گئے، بالخصوص کارگل اور لال مسجد آپریشنز پر میری تنقید کو منفی پیرائے میں لیا گیا اور کہا گیا کہ میں نے دُلت کے ساتھ مل کر اس کتاب میں انتہائی اہم راز فاش کردیئے اور یہ کہ اس نے فوج کو پامال کردیا وغیرہ وغیرہ۔
درانی کہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ ان میں سے شاید ہی کسی نے اس کتاب کو مکمل پڑھا ہو۔ اسد درانی لکھتے ہیں اگست 2029 میں مجھے دوبارہ جی ایچ کیو بلایا گیا اور کہا گیا کہ اس کتاب کی اشاعت روک دینی چاہئے۔ یہ بھی آفر کی گئی کہ جی ایچ کیو اس کتاب کے ناشر کے مالی نقصانات کی تلافی کرنے کے لئے تیار ہے۔ درانی کے بقول کتاب کے جن حصوں نے بھاجی لوگوں کو کافی پریشان کردیا تھا وہ زمینوں کی خرید و فروخت کے کاروبار میں فوج کی شمولیت کے حوالے سے انکشافات تھے۔ اسد درانی کہتے ہیں کہ ستمبر 2020 کے شروع میں ، میں نے جی ایچ کیو سے کہا کہ میرا نام ای سی ایل سے خارج کردیا جائے ، کیونکہ مجھے افغانستان میں ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا اور میں اپنے پوتے پوتیوں سے ملنا چاہتا تھا۔ جب ادھر سے کوئی جواب نہیں ملا تو میں عدالت گیا۔ اگلی سماعت میں ہی یہ تسلیم کرلیا گیاکہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا صرف انکوائری کے لئے میری دستیابی کو یقینی بنانا تھا، جو اب مکمل ہوچکی ہے۔
درانی بتاتے ہیں کہ اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد ہی موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل باجوہ کو اسلم بیگ سے متعلق اصغر خان کیس کے حوالے سے انکوائری کی ضرورت محسوس ہوئی تو مجھے ایک بار پھر جی ایچ کیو بلوا لیا گیا۔ نومبر اور دسمبر 2018 میں فوجی افسران کے ایک پینل نے دو مہینوں تک مجھ سے سخت سوال جواب کئے۔ اس پینل کے سامنے میں نے وہی کہا جو سپریم کورٹ میں کہا تھاکہ 1990 کے انتخابات سے قبل جنرل مرزا اسلم بیگ نے یونیس حبیب سے پیسے لے کر انہیں بینظیر مخالف سیاسدانوں میں تقسیم کرنے کے لئے آئی ایس آئی کے حوالے کیا تھا۔میں نے انہیں اسلم بیگ کے اپریل 1994 کے اس بیان کی ایک کاپی فراہم کی جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ ستمبر 1990 میں بطور آرمی چیف انہوں نے یونس حبیب سے 14 ملین روپے وصول کرنے کے بعد آئی ایس آئی کو دیئے تھے۔
اسد درانی لکھتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلم بیگ اور قمر جاوید باجوہ ایک ہی یونٹ یعنی 16 بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ جنرل قمر باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد ایجنسیوں نے میرے گھر کے گرد کیوں گھومنا شروع کیا تھا اور یہ تب کی بات تھی جب کسی نے میری کتاب دا سپائی کرونیکلز کے بارے میں سنا بھی نہ تھا۔ادھر جب ای سی ایل کیس ختم ہوچکا تھا تو جی ایچ کیو نے مجھے ایک خط بھیجا کہ انکوائری نے مجھے شدید بدعنوانی کا مرتکب پایا ہے اور اسی وجہ سے میری پنشن معطل کردی گئی ہے۔ میں سمجھ سکتا تھا کہ جب سزا دینے کے لئے کوئی مخصوص وجوہات نہیں ملیں ، تو ہمیشہ یہی حربے آزمائے جاتے ہیں۔ اسد درانی کے مطابق سوچنے کی بات ہے کہ ایسا شخص جو دہائیاں قبل ریٹائر ہو چکا تھا ، اسے صرف سول عدالت میں ہی مقدمہ چلایا جاسکتا ہے لیکن باجوہ اینڈ کمپنی ایسا کیوں کرتے کیونکہ وہاں میرا بری ہونا یقینی تھا۔
اسد درانی کے بقول سابق آرمی چیف اور جنرل باجوہ کے سابق باس جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی اسامہ بن لادن کے قتل کے واقعے کے حوالے سے مجھ سے سخت ناراض تھے۔ بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک اور الجزیرہ کے ٹاک شوز میں اسامہ واقعے پر مجھے فوج کے بیانیئے کے الٹ موقف بیان کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ درانی کے مطابق میڈیا میں ان کی کتاب دا سپائی کرونیکلز اور اس کے ساتھ ہونے والے تماشے سے متعلق تفتیش میں تین سال بیت گئے۔ اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف دادرسی کے لئے میں عدالت جاسکتا تھا ، اور واقعتا یہ ثابت کرنے کا ایک اچھا موقع ملا تھا کہ جی ایچ کیو نے غیر قانونی طور پر کام کیا تھا۔ مجھ پر کسی ایکٹ کے تحت الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔ بغیر کسی مقدمے کی سزا دینا قوانین کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اور چونکہ میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت نہیں آتا ہوں ، لہذا جی ایچ کیو کے پاس مجھ پر مقدمہ چلانے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا ، سوائے اس کیس کے متعلقہ دفعات کے۔
اسد درانی کے بقول باجوہ اینڈ کمپنی اسلم بیگ کیس کا ملبہ مجھ پر پھینکنے کی کوشش میں تھے۔آئی ایس پی آر کے ذریعہ میرے خلاف ہتک آمیز مہم چلائی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں سوچا کرتا تھا کہ اس کہانی کو پریس تک لے جانے سے یقینا کافی حد تک میرے لئے آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔لیکن میں جانتا تھا کہ ایسا کرنے سے صرف جی ایچ کیو سے ہی نہیں بلکہ بیرونی دنیا سے بھی رد عمل کا آئے گا۔ پر پھر بھی میں یہ سب کرگزرا۔ اب اس کے نتیجے میں مجھے مورد الزام ٹھہرا کر صرف دشمن ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف کا شریک مصنف ہی سمجھا جاتا ہے نا کہ سابق محب وطن فوجی جرنیل اور سابق آئی ایس آئی چیف۔
اسد درانی گلہ کرتے ہیں کہ چونکہ دہائیوں قبل ریٹائر ہونے والے کسی شخص پر پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا تھا ، لہذا جی ایچ کیو نے مجھے بدنام کرنے، میرے آزادانہ تقریر اور نقل و حرکت کے اپنے حقوق پر پابندی لگانے اور غیر قانونی جرمانہ عائد کرنے کے لئے دوسرے ذرائع استعمال کیے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے لئے ادارے کی سنگین خامیوں کو سامنے لانا اس لیے ضروری تھا کہ اگر یہ خامیاں درست نہ ہوئیں تو اس مقدس ادارے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میں سجھتا ہوں کہ طاقت کو ذاتی فائدے اور عظمت کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسکے ذریعے پریس کو دبانا چاہئے اور عدلیہ کا بازو مروڑنا چاہئے۔ لہذا میں نے تیسری کتاب آنر امنگ سپائیز لکھنے کا فیصلہ کیا۔ درانی کے مطابق گرچہ اس کا اسلوب افسانہ نگاری کا سا ہے مگر میں نے اس کتاب کے ذریعے کچھ ایسے واقعات اور کرداروں سے پردہ اٹھایا ہے جو مجھ ناکام بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں اب بھی حقیقی واقعات کے بارے میں لکھنے سے گریزاں تھا ، لیکن ای سی ایل کے معاملے پر حالیہ سماعت میں وزارت دفاع کی کونسل نے ایک انتہائی مذموم حرکت کرکے مجھے مجبور کردیا کہ سچ بولوں۔ انہوں نے انخشاگ کیا کہ ان پر 2008 سے را سے وابستہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس سے قبل برطانیہ اور امریکہ میں بہت سارے پبلشر میرے ناول پرنٹ کرنے سے گریزاں تھے ، ممکنہ طور پر اسامہ واقعے کی وجہ سے۔ جی ایچ کیو یہ بھی دلیل دی گئی کہ اگر میرا نام ای سی ایل سے ہٹا دیا گیا تو میں ایک بار پھر بیرون ملک کانفرنسوں میں شرکت کروں گا۔
درانی کہتے ہیں کہ اب کوویڈ۔19 کے زمانے میں ، میں گھر سے یہ کام کر رہا ہوں اور یہاں تک کہ سول اور عسکری قیادت پر تنقید سے بھی باز نہیں آرہا جو کہ میرا آئینی حق ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان دنوں میرے بیرون ملک سفر پر پابندی مجھے اپنی پوتیوں سے ملنے سے روک رہی ہے۔ درانی کے بقول مجھے نہیں معلوم کہ جی ایچ کیو مجھ ہ6ر عائد کردہ ایسے سنگین الزامات کی پیروی کیسے کرے گا۔ لہذا میں نے اپنے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ وہ مناسب قانونی کارروائی شروع کریں تاکہ حکام کو میرے خلاف کسی بھی غیر قانونی کارروائی سے تب تک روکا جا سکے جب تک کہ عدالتیں کوئی فیصلہ نہ سنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button