ساجد گوندل کے اغوا کار عدالت سے بھی زیادہ طاقتور نکلے


اسلام آباد سے 3 ستمبر کو اغوا ہونے والے سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کے والد انور گوندل نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو اغوا کرنے والے عدالت سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے وزارت داخلہ اور پولیس حکام کو اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے 10 روز کی مزید مہلت دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انور گوندل نے کہا ہے کہ یہ بڑی عدالتیں صرف بڑے لوگوں کو انصاف دینے کے لیے لگتی ہیں اور ہم جیسے عام عوام کو یہاں سے انصاف ملنا ممکن نہیں۔ انور گوندل نے کہا کہ میں دل کا مریض ہوں اور 75 برس کا بوڑھا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ بیٹے کی جدائی کے صدمے سے کس وقت میرا سانس نکل جائے۔
8 ستمبر کے روز وزیراعظم ہاؤس کے باہر اپنے خاندان کے افراد کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے بھی انور گوندل نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے انصاف نہیں ملا۔ اب انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کو کہا جا رہا ہے لیکن انہیں یہی دھڑکا لگا ہے کہ کیا وہاں سے انہیں انصاف مل پائے گا اور کیا ملک کی سب سے بڑی عدالت ان کے بیٹے کو بازیاب کروا سکے گی جبکہ سب جانتے ہیں کہ ان کا بیٹا کن کے پاس ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے بیٹے کے اغوا کار خود کو عدالت سے بھی زیادہ با اختیاراور طاقتور ثابت کر رہے ہیں۔
انور گوندل نے افسوس کا اظہار کیا کہ 7 ستمبر کے روز ساجد گوندل کے اغوا کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ہماری بات سنی ہی نہیں اور صرف پولیس حکام کا موقف سن کر فیصلہ جاری کر دیا۔ دوسری طرف ساجد گوندل کی بوڑھی والدہ عصمت بی بی نے عدالت سے انصاف نہ ملنے پر دھائی دیتے ہوئے اغوا کاروں کو بد دعائیں دیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو غارت کرے جنہوں نے ان کے بیٹے کو اغوا کیا ہے۔ عصمت بی بی نے کہا کہ آخری عدالت اللہ کی عدالت ہے اور ہم اسی سے انصاف مانگ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 5 ستمبر کو آئی جی اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا تھا کہ ساجد گوندل کو 7 ستمبر تک بازیاب کروا کر ان کی عدالت میں پیش کیا جائے۔ تاہم جب عدالت لگی تو ایسا نہ ہو سکا۔ چنانچہ چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو دس روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ 7 ستمبر تک ساجد گوندل کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کریں۔ لیکن ساجد گوندل کی اہلیہ سجیلہ گوندل نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ان کے خاندان کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے تو دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے اغوا کاروں کو دس روز کا مزید وقت دے دیا ہے کہ وہ انکے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔
یاد ریے کہ ساجد گوندل کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والے تحقیقاتی ادارے اور ایجنسیاں اپنے کام پر توجہ دینے کی بجائے ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ اُنھوں نے سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم کو بتائیں کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے ادارے پراپرٹی کے کام میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ ساجد گوندل کی بازیابی کے لیے اجلاس ہوئے ہیں تاہم ان کی بازیابی کے بارے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ ایک ڈی ایس پی رینک کا افسر مغوی کے گھر گیا جہاں پر ان کے اہلخانہ کا بیان قملبند کیا جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی وزیر کا بیٹا اغوا ہوا ہوتا تو تب بھی پولیس سمیت ذمہ داران کا رویہ یہی ہوتا جس طرح ساجد گوندل کے اغوا کے بارے میں اپنایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت عدالت کے سامنے ریاست کی حیثیت سے کھڑے ہیں اور ریاست اس بات کو تسلیم کرے کہ وہ ساجد گوندل کو بازیاب کروانے میں ناکام ہوئی ہے۔ اُنھوں نے سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ وہ وزیر اعظم کو بتائیں کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے ادارے اپنے کام پر توجہ دینے کی بجائے پراپرٹی کے کام میں مصروف ہیں۔ تاہم سیکرٹری داخلہ کی کلاس لینے کے بعد چیف جسٹس نے ان کو دس روز کی مزید مہلت دے دی جس پر گوندل کے خاندان کے افراد سراپا احتجاج ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر جہانگیر جدون نے متعدد بار بولنے کی کوشش کی لیکن اُنھیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
دوسری طرف لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمیں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ساجد گوندل کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ساجد گوندل کی گمشدگی کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بارے میں بحث کا سلسلہ جاری یے اور جہاں اسے جبری گمشدگی کے واقعات سے جوڑا جاتا رہا وہیں کئی لوگ اس واقعے کا تعلق سینئر صحافی احمد نورانی کی اس خبر سے جوڑتے دکھائی دیے جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی عاصم باجوہ کے خاندان کے بیرون ملک سو کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button