سانحہ آرمی پبلک اسکول کی چھٹی برسی آج منائی جارہی ہے

پشاور میں 6 سال قبل ہونے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) میں شہید ہونے والوں کی آج چھٹی برسی منائی جارہی ہے۔
16 دسمبر 2014 کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 6 دہشت گردوں نے اے پی ایس پر بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے 132 طالبِ علموں اور عملے کے 17 افراد کو شہید کردیا تھا۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے سانحے میں شہید ہونے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے اس انتہائی اندوہناک حملے پر پوری قوم آج بھی غمزدہ ہے اور یہ ننھے ہیروز ہمارا فخر ہیں، قوم کبھی اس کو نہیں بھولے گی کہ جو انہوں نے قوم کے لیے کیا۔دوسری جانب ایک پیغام میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والے طلبہ کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سکیورٹی فورسز اور قوم معاشرے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہیں۔اس سلسلے میں گزشتہ شام شہید طلبہ کے والدین نے آرمی پبلک اسکول کے احاطے کے اندر اور باہر شمعیں روشن کیں۔اس کے علاوہ شہدا کے والدین اور رشتہ داروں نے پاک یوتھ پارلیمنٹ کی جانب سے خیبرپختونخوا آرکائیو لائبریری کے شہدا ہال کے اندر منعقدہ ایک تقریب میں بھی شرکت کی۔بعدازاں لائبریری سے ایک جلوس نکالا گیا جس میں شریک افراد نے شہید طلبہ کی تصاویر والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، مختلف سڑکوں پر مارچ کرنے کے بعد شرکا نے واسک روڈ پر اسکول کے مرکزی کیمپس پر جمع ہو کر فاتحہ خوانی کی اور شمعیں روشن کیں۔
حملے کی چھٹی برسی کے سلسلے میں مرکزی تقریب اے پی ایس کیمپس کے شہدا ہال میں منعقد کی جائے گی جس میں غمزدہ والدین شرکت کریں گے۔
