سانحہ مشرقی پاکستان کی کہانی بریگیڈیئر صدیق سالک کی زبانی

مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے 50 سال بیت گئے لیکن بحیثیت قوم ہم اب تک دائروں میں ہی سفر کر رہے ہیں، ہم آج بھی سقوط ڈھاکہ کا فقط ماتم ہی کرتے ہیں، لیکن اُس کی وجوہات تلاش کرنے یا کھل کراُن پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو مطالعہ پاکستان میں سانحہ مشرقی پاکستان سے متعلق باب پڑھ لیں۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف لکھاری یاسر پیرزادہ اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ میرے سرہانے بریگیڈئیر صدیق سالک کی کتاب ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ رکھی ہے۔ میں اِس کتاب کو اٹھاتا ہوں، چند ورق الٹتا ہوں اور واپس رکھ دیتا ہوں، کچھ دیر بعد دوبارہ اسے کھولتا ہوں، اپنی ذلت کی داستان پڑھتا ہوں اور پھر بند کر دیتا ہوں۔ پوری کتاب پڑھنے کے لیے حوصلہ اور ڈھٹائی چاہیے لیکن مجھ میں دونوں نہیں۔ تاہم جی کڑا کرکے میں نے اِس کتاب میں ملک ٹوٹنے کا احوال پڑھا جس پر میرا دل ہی ڈوب گیا۔ یاد رہے بریگیڈیئر صدیق سالک مرحوم نے 1971 کی پاک بھارت جنگ میں حصہ لیا تھا، بعد ازاں وہ جنرل ضیاء کے پریس سیکریٹری بھی رہے۔ بریگیڈئیر صاحب لکھتے ہیں کہ 12 دسمبر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ’جنگ بندی‘ کا مسودہ تیار کیا گیا تھا۔ یہ مسودہ چیف سیکرٹری مظفر حسن نے بنایا تھا جسے جنرل فرمان نے منظور کرکے اسی رات جنرل یحییٰ کو بذریعہ تار بھجوا دیا تھا۔ لیکن دو دن تک اِس تار کا کوئی جواب نہیں آیا، گویا صدر پاکستان دو روز اپنی مصروفیات سے اِس کاغذ کے پرزے کو پڑھنے کا وقت نہ نکال سکے۔ وہ۔لکھتے ہیں کہ 14 دسمبر کو مشرقی پاکستان حکومت کا آخری دن تھا۔ اس روز گورنمنٹ ہاؤس کا ملبہ کیا بکھرا، حکومت کا شیرازہ بکھر گیا۔ بالآخر اگلے دن یحییٰ خان نے جنرل نیازی کے نام یہ پیغام بھیجا :’’گورنر کا پیغام مجھے مل گیا ہے۔اب آپ ایسے مرحلے میں ہیں جہاں نہ مزاحمت ممکن ہے اور نہ اِس مزاحمت سے کوئی سود مند مقصد حاصل ہو سکتا ہے، بلکہ اِس سے مزید جان و مال کا نقصان ہوگا۔ میں نے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ہندوستان سے مشرقی پاکستان میں جنگ بند کرنے کو کہے اور ہماری مسلح افواج کے تحفظ کی ضمانت مانگے جو شرپسندوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ جنرل نیازی نے صدر یحیٰی کے اِس فرمان کی روشنی میں بھارتی جنرل مانک شاہ کے نام جنگ بندی کا ایک پیغام لکھوایا جو امریکی قونصل جنرل کی وساطت سے بھارت پہنچا، اس کا جواب 15 دسمبر کو موصول ہوا جس میں مانک نے جنگ بندی کی پیشکش قبول کر لی اور ساتھ میں یہ فقرہ بھی لکھا کہ ’’بشرطیکہ پاکستانی فوج ہتھیار ڈال دے۔
اس کے بعد بریگیڈئیر صدیق سالک بتاتے ہیں کہ بھارتی فوج کوئی ایک گولی بھی فائر کیے بغیر ڈھاکہ میں داخل ہو گئی۔ یاسر کہتے ہیں کہ اِس سے آگے میں نہیں بتا سکتا کہ بھارتی فوج کا رویہ کس قدر ہتک آمیز تھا، کس طرح وہاں کے آفیسرز میس میں بھارتی ’مہمانوں‘ کے لیے لنچ کا اہتمام کیا گیا اور اس دوران جنرل نیازی کس قسم کے لطیفوں سے جنرل ناگرا کا دل جیتنے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر بالآخر اس نے لاکھوں بنگالیوں کے سامنے رمنا ریس گراؤنڈ میں مشرقی پاکستان انڈر کرنے کی دستاویز پر اپنے دستخط کرکے پستول جنرل اروڑہ کو پیش کر دیا۔ یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ بریگیڈئیر صاحب نے یہ کتاب کیوں لکھی۔ یہ ان کے ضمیر کی خلش کا نتیجہ تھی یا داد و تحسین حاصل کرنے کی خواہش تھی۔ تاریخ کا درست بیان کرنا مقصود تھا یا تاریخ سے سبق سیکھنا۔ وہ لکھتے ہیں لہ صدیق سالک اب اِس دنیا میں نہیں رہے ورنہ یہ سوالات میں انہی سے پوچھ لیتا۔ چلیے ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے فرض کر لیتے ہیں کہ بریگیڈئیر صاحب نے اپنا فرض سمجھا کہ چونکہ وہ تاریخ کے اُس موڑ پر مشرقی پاکستان میں موجود تھے، اِس لیے ضروری تھا کہ جو کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتےہوئے دیکھا وہ سچائی اور ایمانداری کے ساتھ بیان کر دیا جائے۔ اسی لیے انہوں نے یہ تک لکھ ڈالا کہ ہتھیار ڈالنے کی ندامت میں وہ خود بھی شامل تھے اورشاید اُن کے پاس یہ بات تسلیم نہ کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔ لیکن صرف تاریخ کا بیان کافی نہیں ہوتا، تاریخ سے سبق سیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ بریگیڈئیر صاحب نے اپنی کتاب میں کئی واقعات لکھ کر تاریخ سے سبق سیکھنے کی دعوت دی ہے ، مثلاً مغربی پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھوں مشرقی۔پاکستان کے بنگالیوں کے استحصال، فیصلہ سازوں کی نا اہلی اور غفلت کی داستانیں، جنرل یحییٰ کا شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ توہین آمیز رویہ، حکمرانوں کی عیاشیوں کی کہانیاں وغیرہ۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ہر پاکستانی کی طرح وہ بھی اِس سانحے پر بے حد رنجیدہ تھےاِس لیے انہوں نے یہ کتاب لکھی تاکہ بحیثیت قوم آئندہ ہم ایسی غلطیاں نہ دہرائیں۔ بقول یاسر پیرزادہ جب کوئی شخص ماضی میں کی گئی اپنی کسی غلطی پر ندامت کا اظہار کر تا ہے تو اُس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے مگر ساتھ ہی اُس شخص کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اسی ڈگر پر دوبارہ نہ چل پڑے ورنہ اُس کی یہ حرکت دائرے میں سفر کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ بریگیڈیئر صدیق سالک بعدازاں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ان کے پریس سیکرٹری تعینات ہوئے۔ لہذا یاسر کہتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم اب تک دائروں میں ہی سفر کر رہے ہیں، آج بھی ہم سقوط ڈھاکہ کا فقط ماتم ہی کرتے ہیں، اُس کی وجوہات تلاش کرنے یا کھل کر اُن پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
