سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت سے فرار فوجیوں کی کہانی


16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد پاکستانی فوج کے ہزاروں افسر اور جوان جنگی قیدی بنا لئے گئے جن میں سے کچھ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور دوبارہ فوج کا حصہ بن کر اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ تاہم سینکڑوں فوجی ایسے بھی ہیں جو قید میں تشدد کے باعث ذہنی مریض بن گئے اور ہمشیہ یہی سمجھتے رہے کہ ابھی جنگ ختم ہی نہیں ہوئی۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کے 90 ہزار سے زائد فوجی جنگی قیدی قرار دیے گئے۔ ان میں سے ماسوائے چند خوش قسمت فوجیوں کے باقی تمام نے اگلے کئی سال انڈیا کے مختلف فوجی کیمپوں میں بطور قیدی گزارے۔ میجر طارق پرویز اور ان کے کزن میجر نادر پرویز سمیت سینکڑوں افسران اور سپاہی اس ٹرین پر سوار تھے جو مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی بالآخر انڈیا کی ریاست اتر پردیش کی فوجی چھاؤنی فتح گڑھ پہنچی۔ یہاں جنگی قیدیوں کے لیے بنے ایک کیمپ میں اگلے سوا دو سال گزارنے تھے۔ پاکستان کے ان قیدیوں کے ذہنوں میں بھارتی فوج کی حراست سے فرار کے منصوبے تو اسی وقت بننے شروع ہو گئے تھے جب ہتھیار ڈالنے کی خبریں چھاؤنیوں سے ہوتی اگلے مورچوں تک پہنچی تھیں۔ کئی فوجیوں نے فرار کی کوشش بھی کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ خیال رہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہر جنگی قیدی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دشمن کی قید سے فرار کی کوشش کرے اور ایسا کرتے ہوئے پکڑے جانے پر اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔
میجر طارق پرویز اور ان کے ساتھی اسی تاک میں رہے کہ کہیں کسی انڈین فوجی سے کوئی چُوک ہو اور وہ موقع ملتے ہی ٹرین سے اتر کر بھاگ جائیں، مگر مجال ہے جو کوئی انڈین فوجی ٹس سے مس ہوا ہو۔ میجر طارق اور انکے ساتھی قیدیوں کو فتح گڑھ چھاؤنی کے کیمپ نمبر 45 میں رکھا گیا جہاں غسل خانوں کے ساتھ ایک گہری خندق والا بیت الخلا بھی بنایا گیا تھا۔ یہی وہ بیرک تھی جہاں میجر طارق پرویز قید ہوئے اور یہی وہ غسل خانے تھے جہاں سے فرار کا منصوبہ شروع ہوا۔ میجر طارق بعد ازاں پاک فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ بنگلہ دیش کے قیام کو 50 برس ہونے کے موقع پر پاکستان کے جنگی قیدیوں کے ساتھ بیتے گئے واقعات کے بارے میں انھوں نے بی بی سی سے کیمپ نمبر 45 اور وہاں سے اپنے فرار بارے گفتگو کی۔ طارق پرویز نے بتایا کہ فرار کے لیے تیار پاکستانی فوجی افسروں نے پہلے تو کپڑوں کا ایک ایک جوڑا چھپایا۔ پھر کرنسی چھپائی گئی۔ انہوں نے بطور قیدی تصویریں کھنچوانے کے لیے داڑھیاں رکھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرار کے بعد وہ شیو کر کے اپنا چہرہ کسی حد تک تبدیل کر سکیں۔ حراست کے چند دن بعد ہی دونوں کزنز میجر طارق پرویز اور میجر نادر پرویز نے کچھ اور افسروں کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور بھاگنے کا باقاعدہ منصوبہ تیار ہوا۔ فیصلہ ہوا کہ اور تو کوئی راستہ نہیں، کیوں نہ ایک سرنگ کھودی جائے۔ سرنگ کھودنے کے لیے غسل خانوں کی قطار میں آخری غسل خانے کا انتخاب ہوا۔ یہ غسل خانہ کیمپ کے باہر کی دیوار کے قریب ترین تھا جہاں ایک کونے میں بلب کی روشنی نہیں پہنچتی تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طارق پرویز بتاتے ہیں کہ سرنگ کھودنے کے لیے کمرے میں کپڑے لٹکانے کے لیے لگی سریے کی ایک کنڈی استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ بڑی مشکل سے سرنگ کا سوراخ بنا لیا گیا۔ اگلا مرحلہ تھا کہ کھدائی سے نکلنے والی مٹی کا کیا کرنا ہے۔ اس کے بارے میں طارق پرویز نے بتایا کہ انھوں نے لوٹوں میں مٹی بھرنی شروع کی اور اسے بیت الخلا کے نیچے خندق میں پھینکنا شروع کر دیا۔ قصہ مختصر جنوری 1972 میں شروع ہونے والا سرنگ کی کھدائی کا کام اگلے سات ماہ میں مکمل ہوا۔ 16 ستمبر 1972 تک سرنگ کیمپ کی حدود سے باہر نکل گئی تو میجر نادر پرویز، طارق پرویز اور کیپٹن نور سمیت پانچ افسران نے منصوبہ بنایا کہ وہ 17 ستمبر کی رات انڈین فوج کی جانب سے قیدیوں کی گنتی کے بعد وہاں سے نکلیں گے۔ 17 ستمبر کی شب پہلے میجر نادر پرویز، ان کے کزن میجر طارق پرویز اور کیپٹن نور قائم خانی نکلے، جبکہ ان کے چند گھنٹے بعد کیپٹن ظفر حسن گل اور لیفٹیننٹ یاسین کیمپ سے نکلے۔ ان فوجیوں نے پاکستان سے آیا ہوا یونیفارم پہنا اور سرنگ سے نکل گے۔ وجہ یہ تھی کہ اگر فرار کے دوران مارے جائیں تو اپنی فوج کے یونیفارم میں شہید ہوں۔ فرار ہونے والے فوجیوں نے باہر نکل کر اپنی داڑھیاں بھی صاف کر دیں۔ اس طرح ان کا حلیہ ان تصویروں سے کچھ مختلف ہو گیا جو آئندہ چند روز میں انڈین اخباروں میں چھپنا تھیں۔
جب پاکستانی فوجیوں کے فرار کی خبر انڈین اخباروں میں چھپی تو پاکستان میں موجود فوجی قیادت نے انڈیا سے منسلک سرحد پر یہ حکم پہنچا دیا کہ سرحد یا لائن آف کنٹرول پار کرنے کی کوشش کرنے والوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم فرار ہونے والے افسران پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ بارودی سرنگوں کی وجہ سے سرحدی علاقوں کی طرف نہیں جائیں گے بلکہ سمندری راستے یا نیپال میں پاکستان کے سفارتخانے پہنچ کر وطن واپسی کا انتظام کریں گے۔ جیل سے فرار کے بعد لکھنؤ پہنچ کر ان کی ایک مسلم خاندان ملاقات ہوئی، جس کے ایک بزرگ نے ان کی مدد کی اور انھیں 30 ستمبر کو نیپال کی سرحد پار کروا دی۔ یہاں سے وہ 70 میل پیدل سفر کر کے نیپال کے سرحدی علاقے بھیروا پہنچے اور وہاں مسلمانوں کے ایک دیہات کی مسجد میں قیام کیا۔ ادھر سے وہ کھٹمنڈو روانہ ہوئے۔ بالآخر یہ تینوں پی آئی اے کی پرواز سے 11 اکتوبر 1972 کو کراچی پہنچے جہاں انکی سکیورٹی کلیئرنس ہوئی اور انہیں اپنے اہلخانہ سے ملنے کی اجازت ملی۔ طارق پرویز بتاتے ہیں: ’میں جہاز سے اترا تو سب سے پہلے میں نے سجدہ کیا کہ اپنی مٹی پر واپس آ گیا ہوں۔ ہماری حالت ایسی تھی کہ گھر والے پہچان نہیں پائے۔ لیکن وہ وقت بہت جذباتی تھا۔ میری ماں بار بار مجھے گلے لگاتی تھیں۔ یہ پانچ افسران تو قید سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے مگر ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور سول آرمڈ فورسز کے اہلکاروں میں دوسرا کوئی اس قدر خوش قسمت ثابت نہ ہو سکا۔ کئی جنگی قیدیوں نے فرار کی کوششیں بھی کیں مگر وہ ناکام ثابت ہوئیں۔ ان میں سے کئی افسر اورسپاہی بھارتی فوج کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں ذہنی مریض بن گئے اور ان کے لئے مرتے دم تک جنگ ختم ہی نہیں ہوئی۔

Back to top button