سانحہ مچھ: مرنے والوں میں سب سے کم عمر احمد والدین کا سہارا بننا چاہتا تھا

’اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ مجھ سے میرا لخت جگر ہمیشہ کےلیے چھن جائے گا تو میں اسے کبھی بھی کوئلے کی کان میں محنت مزدوری کےلیے نہیں بھیجتی۔‘ یہ کہنا تھا کوئٹہ کی رہائشی آمنہ بی بی کا جن کا نوجوان بیٹا احمد شاہ ان دس کان کنوں میں شامل تھا جنھیں نامعلوم مسلح افراد نے دو اور تین جنوری کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں قتل کیا گیا تھا۔
احمد شاہ نہ صرف مارے جانے والے کان کنوں میں سب سے کم عمر تھے بلکہ وہ ایک ذہین طالب علم بھی تھے۔ان کی والدہ کے مطابق کورونا اور سردیوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث احمد شاہ یہ سوچ کر محنت مزدوری کےلیے گئے تھے کہ اپنے والدین کےلیے کچھ کما سکیں۔ احمد شاہ کوئٹہ شہر کے مغرب میں بروری روڈ کے علاقے میں ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی تھے۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ ان کے تین بچوں میں احمد شاہ سب سے بڑے تھے۔اگرچہ احمد شاہ ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی تھے لیکن ہزارہ قبیلے کے افراد پر حملوں کی وجہ سے وہ کوئٹہ شہر کے دوسرے کونے میں واقع گورنمنٹ موسیٰ کالج میں ایف ایسی پری انجنیئرنگ کے طالب علم تھے۔
ان کے خاندان کے بہت سارے لوگ پہلے بھی کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کرتے رہے ہیں۔چونکہ کوئلے کی کانوں میں کام ناصرف مشکل ہوتا ہے بلکہ حفاظت کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کان کنوں کی زندگیوں کو ہمیشہ خطرات لاحق رہتے ہیں جس کے پیش نظر احمد شاہ کے والدین اُن کو پڑھا لکھا کر بڑا آدمی بنانا چاہتے تھے۔
آمنہ بی بی نے بتایا کہ احمد شاہ ایک ذہین طالب علم تھے۔’میرے بیٹے نے پہلی سے ساتویں جماعت تک پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔‘انہوں نے احمد شاہ کی تمام تعلیمی اسناد دکھائیں جن کے مطابق ساتویں جماعت کے بعد بھی احمد شاہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوتے رہے۔ آمنہ بی بی نے کہا کہ ’احمد کے والد بیروزگار ہیں، ہماری یہ خواہش تھی کہ وہ بڑا ہو کر انجینیئر بنے اور اپنے خاندان کا سہارا بنے۔ وہ خود بھی بڑا آدمی بننے کےلیے بہت زیادہ محنت کرتا تھا۔‘ اپنے ہاتھوں میں ان کی اسناد کو اٹھاتے ہوئے آمنہ بی بی نے سوال کیا کہ ’اب یہ اسناد ہمارے کس کام کی ہیں۔‘ آمنہ بی بی نے بتایا کہ احمد شاہ جس عمر میں تھے اس میں والدین بچوں کا سہارا بنتے ہیں لیکن احمد شاہ ایک پرعزم اور باہمت بچہ تھا۔ ’وہ کہا کرتا تھا کہ اب وہ بڑا ہوگیا ہے، اس لیے وہ اب ہمارا سہارا بنے گا۔ چونکہ اسے کوئی اور کام نہیں کرنے کو نہیں ملا تو اس لیے اسے کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کےلیے جانا پڑا۔‘احمد کی والدہ کے مطابق چونکہ احمد شاہ کے ماموں اور دیگر رشتہ دار مچھ میں کوئلہ کانوں میں کام کرتے تھے اس لیے وہ وہاں ماموں کے پاس گیا تھا۔’پولیس میں بھرتی کےلیے احمد شاہ کی درخواستیں قبول نہ ہوئیں‘آمنہ بی بی نے بتایا کہ چونکہ احمد شاہ کے والد بیروزگار تھے اس لیے وہ ہمارے لیے بے چین رہتا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ وہ جلد از جلد ہمارا معاشی سہارا بنے۔’اگرچہ وہ کم عمر تھا مگر پولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہونے کےلیے اشتہار آئے تو اس نے دو مرتبہ درخواستیں دیں۔ جب ان کی درخواست دوسری مرتبہ محکمہ پولیس میں جمع کی گئی تو ان کی عمر 17سال سات ماہ اور 22 دن تھی۔‘’محکمے کی جانب سے بتایا گیا جب وہ 18 سال کے ہو جائیں گے تو وہ پولیس میں درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔‘آمنہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کا غم صرف ایک بیٹے کو کھو دینے تک محدود نہیں کیونکہ ان کے خاندان کے پانچ لوگ مارے گئے جن میں آمنہ کے بیٹے اور بھائی کے علاوہ تین دیگر قریبی رشتہ دار شامل تھے۔آمنہ بی بی نے کہا کہ ’ایک تو غربت نے ہمیں مارا ہے جبکہ دوسری جانب مختلف گروہوں نے ہمیں مار دیا۔ ہمارے لوگوں کو طویل عرصے سے مارا جا رہا ہے۔‘انہوں نے سوال کیا کہ ’آخر ہمارا قصور کیا ہے۔ میرابیٹا تو ابھی ایک طالب علم تھا۔ اسے بھی مار دیا گیا۔ آخر اس کا کیا قصور تھا؟‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button