سانحہ APS میں غفلت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

16 دسمبر 2014 کو طالبان درندوں کے ہاتھوں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں 100 سے زائد معصوم بچوں کا قتل عام کوئی معمولی واقعہ نہیں جسے آسانی سے فراموش کیا جا سکے، خصوصا ان والدین کے لیے جن کے جگر گوشے ان سے چھین لیے گے۔ حملے میں جاں سے جانے والے بچوں کے والدین آج بھی اپنے لاڈلوں کو یاد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو کوستے ہیں جن کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے اتنا بڑا واقعہ رونما ہو گیا۔ سانحے کے بعد آرمی پبلک سکول کی دیواریں اونچی کر دی گئیں اور ان پر خار دار تار بھی لگوا دی گئی۔ سکول کی اندرونی اور بیرونی راستوں پر چوکس پہرہ لگا رہتا ہے۔ تاہم متائثرین افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ حفاظتی اقدامات واقعے سے پہلے اٹھا لیے جاتے تو اتنا بڑا جانی نقصان کبھی نہ ہوتا۔
ظلم کی بات تو یہ ہے کہ جب اس خونی واقعے کے کچھ برس بعد اس کی ذمہ داری قبول کرنے والا تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان گرفتار ہوا تو فوجی حکام نے اس کا ٹرائل کرنے کی بجائے اس سے ایک معایدے کے بعد اسے دو برس پشاور کے ایک سیف ہاوس میں اسکے خاندان سمیت مہمان بنا کر رکھا جہاں سے ایک روز وہ فرار ہو گیا اور پاکستان سے نکل کر ترکی جا پہنچا جہاں سے اب وہ اپنے گروہ کو دوبارہ منظم کر رہا یے۔
سوسری طرف آرمی پبلک سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں اور سٹاف کے والدین اور رشتہ دار آج بھی قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ ان والدین نے مل کر اپنا ہی ایک حلقہ احباب بنا لیا ہے اور یہ خاندان ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان والدین نے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا ہے جس میں اپنے بچوں کی یادوں پر مبنی ویڈیوز اور باتیں شیئر کرتے ہیں۔
اس واقعے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں خدمات سرانجام دینے والی نرس شبانہ رحمان کہتی ہیں کہ ’میں اس بچے کو شاید کبھی نہیں بھول سکوں گی جس کے سر اور جسم کے مختف حصوں پر شدید زخم تھے، اسے گولیاں لگی تھیں، خون اس کے جسم سے بہہ رہا تھا اور وہ مسلسل کلام کی تلاوت کر رہا تھا، اس بچے کا حوصلہ بہت بلند تھا۔‘
شبانہ رحمان گذشتہ 20 برسوں سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور جس روز پشاور کے آرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو یہاں لایا گیا تو وہ ڈیوٹی پر تھیں۔ وہ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں تعینات تھیں اورانھوں نے بہت سارے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی تھی۔
شبانہ رحمان کو وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس روز پیش آئے چند ایک واقعات تو ان کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گئے ہیں جو اکثر انھیں پریشان بھی کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے بعد وہ اور ان کے بچے اکثر خوفزدہ رہنے لگ گئے تھے۔انھوں نے کچھ زخمیوں کا ذکر کیا جن میں ایک بارہ، تیرہ سال کا بچہ بھی شامل تھا جو حافظ قران تھا۔ ’اُس بچے کو بیڈ پر لٹایا گیا تو اس کے سر، جسم اور ٹانگوں پر گولیوں کے زخم تھے۔ اس کے جسم سے بہت ذیادہ خون بہہ رہا تھا اور اسکی حالت بہت خراب تھی لیکن اسکا حوصلہ پہاڑ جیسا تھا اور وہ مسلسل قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔‘ شبانہ رحمان نے بتایا کہ ڈاکٹر اور سٹاف اس بچے کا علاج کر رہے تھے لیکن وہ خاموشی سے صرف تلاوت کرتا رہا یہاں تک کہ اس کا دم نکل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بچے کو آج بھی نہیں بھول پائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی میں یہ ایسا پہلا واقعہ تھا جس میں ایک مرتے ہوئے بچے نے اتنی بہادری کا مظاہرہ کیا ہو۔ نرس شبانہ رحمان کے لیے وہ دن کیسا تھا آئیے ان ہی کی زبانی سنتے ہیں۔ وہ صبح اگرچہ ایک معمول کی صبح ہی تھی اور ہم سب سٹاف ممبر ٹراما سینٹر میں موجود تھے جب اچانک اطلاع آئی کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا ہے اور زخمیوں کو ہسپتال لایا جا رہا ہے۔ ہم نے اس کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اور مطلوبہ سامان سٹور سے لے آئے۔ جب پہلا زخمی آیا تو ہم نے فوری طور پر کام شروع کر دیا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید چند ہی زخمی ہوں۔۔ لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں زخمی آنا شروع ہو گئے۔
شبانہ کہتی ہیں کہ میں گذشتہ 20 برس سے ایک نرس کے طور پر کام کر رہی ہوں اور زیادہ وقت میں نے ٹراما سینٹر میں کام کیا ہے۔ اس دوران میں نے بہت سے دھماکوں کے زخمیوں کا علاج کیا۔ شروع کے دنوں میں ذرا خوف ہوتا تھا اور پریشانی بڑھ جاتی تھی لیکن پھر مسلسل دھماکوں کی وجہ سے عادی ہو گئی۔ لیکن آرمی پبلک سکول کا واقعہ بہت مختلف تھا اس میں بہت زیادہ زخمی تھے جو سب کم عمر بچے تھے۔ اسی وجہ سے سٹاف کے ارکان زیادہ پریشان ہو گئے تھے۔ میں بہت دباؤ کا شکار تھی کیونکہ میں خود بھی ایک ماں تھی اور وہ وقت میرے لیے بہت مشکل وقت تھا۔ جب میں ان بچوں کو طبی امداد فراہم کر رہی تھی تو خود مجھے اپنے بچے یاد آ رہے تھے۔۔۔ وہ بھی سکول گئے ہوئے تھے لیکن اس وقت میں نے اپنی ڈیوٹی پر بھرپور توجہ دی تھی۔
شبانہ کہتی ہیں کہ ان زخمیوں میں ایک بچہ ایسا بھی تھا جو بہت زخمی تھا لیکن بالکل نہیں رو رہا تھا۔ میں حیران تھی کہ یہ بچہ بالکل خاموش ہے حالانکہ اسے گولیاں لگی تھیں اور وہ بہت ضبط کیے ہوئے تھا۔ لیکن جب اس بچے کے والدین ٹراما سینٹر میں داخل ہوئے اور بچے نے جیسے ہی انھیں دیکھا اس نے رونا شروع کر دیا تھا اور پھر بہت رویا۔ اس دن کا ماحول ایسا تھا کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرنا ہے۔ ہر طرف رونے اور چلانے کی آوازیں تھیں، بڑی تعداد میں زخمی اور لاشیں پہنچ چکی تھیں۔ میں اور میرے ساتھ دیگر سٹاف کے ارکان اور ڈاکٹر سب اس وقت سخت ذہنی دباؤ میں تھے کیونکہ وہ زخمی بھی کوئی عام زخمی نہیں تھے بلکہ بچے تھے اور اکثر بچوں کو بہت زیادہ زخم آئے تھے۔۔۔ انھیں دیکھ کر خود رونا آتا تھا کیونکہ میں خود بھی تو ایک ماں ہوں۔
شبانہ نے مذید بتایا کہ اس سے پہلے جتنے دھماکے ہوئے تھے ان میں زیادہ تر بازاروں یا مساجد میں ہوتے تھے اور ان کے زخمی بڑی عمر کے افراد ہوتے تھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ سو سے زائد معصوم بچے دہشت گردوں کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گے۔
